بھارت کا وہ علاقہ جہاں 107 لوگوں کو بھوت یا چڑیل قرار دے کر قتل کردیا گیا

بھارت کا وہ علاقہ جہاں 107 لوگوں کو بھوت یا چڑیل قرار دے کر قتل کردیا گیا
بھارت کا وہ علاقہ جہاں 107 لوگوں کو بھوت یا چڑیل قرار دے کر قتل کردیا گیا

  



نئی دلی (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارتی ریاست آسام میں پولیس نے ان 6 خواتین کو گرفتار کرلیا ہے جنہوں نے ایک خاتون کو چڑیل قرار دے کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا تھا۔

واقعہ ضلع بسواس ناتھ کے ٹی گارڈن میں پیش آیا جہاں کچھ لوگوں نے ایک خاتون کو چڑیل قرار دے کر اسے تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے متاثرہ خاتون ارشیلا لوہا کو ہجوم کے چنگل سے چھڑا کر ہسپتال میں داخل کرادیا۔

بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سلمینا سانگا نامی ایک خاتون گزشتہ 2 روز سے بیمار تھی ، اسے کسی نے بتایا کہ اس پر ارشیلا لوہا نے کالا جادو کرایا ہے جس کے بعد کچھ لوگوں نے ارشیلا کو رات کے وقت پکڑ کر تشدد کا نشانہ بنایا ۔ جب پولیس کو اطلاع ملی تو وہ فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور خاتون کو بڑی مشکل سے مشتعل ہجوم سے بچایا۔

ضلع بسواس ناتھ کے ایک پولیس افسر کا کہنا ہے کہ واقعہ پیر کی رات کو پیش آیا جس پر 2 خواتین کو اسی وقت اور 4 خواتین کو منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔

ریاست آسام میں خواتین کو چڑیلیں قرار دینے کے بڑھتے ہوئے واقعات سے چھٹکارا پانے کیلئے آسام حکومت نے 2015 میں ’ آسام وِچ ہنٹنگ‘ بل منظور کیا تھا جو 2018 میں صدارتی دستخطوں کے بعد باضابطہ قانون بن چکا ہے۔ اس قانون کے مطابق کسی خاتون کو چڑیل قرار دینے والے کو 7 سال قید اور 5 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ 9 برسوں کے دوران لوگوں کو چڑیل یا جن بھوت قرار دینے کے واقعات میں اب تک 107 لوگ ہلاک ہوچکے ہیں ۔ریاستی حکومت کے مطابق 84 لوگوں کی اموات 2011 سے 2016 کے دوران ہوئیں جبکہ 23 لوگ اکتوبر 2019 تک وِ چ ہنٹنگ میں قتل کیے گئے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس