دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر، پاکستان اور آزادی میں شہدا ئے حریت کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ایک منٹ کی خاموشی

دنیا بھر میں آج یوم یکجہتی کشمیر، پاکستان اور آزادی میں شہدا ئے حریت کو خراج ...

  

 اسلام آباد، مظفر آباد(سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیان) پاکستان، آزادو مقبوضہ کشمیر سمیت دنیا بھر میں یوم یکجہتی کشمیرآج 5فروری بروز جمعہ منایا جائیگا، اس روز کی مناسبت سے پاکستان بھر میں عام تعطیل ہے، کشمیریوں سے اظہاریکجہتی کیلئے ملک بھرمیں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی جائیگی اور مطالبہ کیا جائے گا مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے عالمی برادری اپنا مثبت کردار ادا کرے، کشمیر ڈے کے موقع پر ملک بھر میں مختلف سرکاری و غیر سرکاری اور مذہبی تنظیموں کی جانب سے کشمیری مسلمانوں کیساتھ اظہار یکجہتی کیلئے جلسے جلوس اور ریلیاں نکالی جائیں گی،تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں 5فروری کو کشمیریوں سے تاریخی اظہار یکجہتی کریں گی، طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر یں بنائی جائیں گی جس میں تمام جماعتوں کے کارکنان سماجی تنظیموں،تاجر برادری وکلاء سکول و کالج کے طلبہ سمیت عوام کی کثیر تعداد شرکت کریں گے اور بھارتی مظالم کیخلاف احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے مختلف اجتماعات میں کشمیر کی آزادی اور امت مسلمہ کی سلامتی کیلئے خصوصی دعائیں مانگی جائیں گی۔یوم کشمیر کے حوالے سے اخبارات خصوصی ایڈیشن شائع کریں گے جبکہ ٹی وی چینلز سے بھی خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے۔جمعرات کو ایوان صدر میں یوم یکجہتی کشمیر کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا بھارت کو یہ غلط فہمی ہے وہ کشمیریوں کو ان خوداردایت کے جائز حق سے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے محروم کرنے میں کامیاب ہو جائیگا، لیکن ایسا ہو سکا اور نہ ہی ہو سکے گا، بھارت کو اس کے مذموم مقا صد میں ہمیشہ ناکامی ہو گی، آج کشمیریوں کے بنیادی حقوق غصب کرنیوالے ہندوستان کا چہرہ، عالمی برادری کے سامنے پوری طرح بے نقاب ہو چکا ہے، بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں نے وہاں کی نام نہاد جمہوریت کی قلعی کھول دی ہے، عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانیوالے انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بلاجواز طورپر جاری مسلسل محاصرے کو فی الفور ختم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے، کمیونیکیشن بلیک آؤٹ، نقل و حرکت اور پرامن اجتماعات پر عائد پابندیوں ختم کرے،اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور شفاف استصواب رائے کے ذریعے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دیا جائے، بھارتی مظالم کا شکار نہتے کشمیریوں کی حمایت جاری رکھیں گے اور ان پر ڈھائے جانے والے ظلم کیخلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔کشمیریوں کیساتھ اظہار یکجہتی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک اس امر کو یقینی نہ بنایا جا ئے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں قابض بھارتی اقواج کے ہاتھوں روزانہ کی بنیاد پر ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کا خاتمہ نہیں ہوتا، یہ اظہارِ یکجہتی اس وقت تک نامکمل ہے جب تک بین الاقوامی برادری کی جانب سے کشمیریوں کیساتھ حق خودارادیت کی فراہمی کا وعدہ ایفا نہیں ہو جاتا، ڈیڑھ سال قبل 5 اگست 2019 کو بھارت نے جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے تو اسے یہ غلط فہمی تھی کہ کشمیری انہیں قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیں گے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ عالمی سطح پر مذمت کے باوجود بھارت نے اپنی روش تبدیل نہیں کی، بھارت آج ایک طرف غیرقانونی طورپر اپنے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں آبادی کے غیرقانونی طورپر تناسب میں تبدیلی کے ذریعے غاصبانہ تسلط کو طول دینے کی کوشش کررہا ہے تو دوسری جانب اس کی سیاسی و عسکری قیادت پاکستان کیخلاف مسلسل زہر اگل رہی ہے۔ یورپی یونین ڈس انفولیب کی رپورٹ نے پاکستانی موقف کی توثیق کردی ہے کہ بھارت جھوٹی اطلاعات پھیلا کر عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کی گھناؤنی سازش میں ملوث ہے، تمام تر بنیادی حقوق سے محروم نہتے کشمیریوں کو ان کے حق خود ارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جب بھارتی قابض افواج کے ہاتھوں لاکھوں کشمیریوں کی نسل کشی کا خطرہ لاحق ہو تو عالمی برادری صورتحال سے نظریں نہیں چرا سکتی، یہ حقیت ’جینو ا۔سائیڈ۔واچ‘جیسے غیر جانبدار مبصر ین بیان کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ’الرٹ‘ بھی جاری ہو چکا ہے،انسانی حقوق کیلئے کام کرنیوالی علاقائی و عالمی تنظیموں، میڈیا، سول سوسائٹی اور دنیا کی اہم پارلیمانوں کی جانب سے اس حوالے سے سامنے آنیوالی مذمت مسئلے کی نزاکت اور اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے،تاہم عالمی برادری کا کوئی بھی ردعمل اس وقت تک موثر ثابت نہیں ہو گا جب تک ہندوستان کو انسانیت کیخلاف ان سنگین جرائم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاتا،کوئی ردعمل اس وقت تک کارآمد ثابت نہیں ہو سکتا جب تک کشمیریوں کو ”خودارادیت“ کا ان کا جائز حق نہیں دلایاجاتا،ہم ایک دفعہ پھر عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں وہ بھارت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں ڈھائے جانیوالے انسانیت سوز مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس پر زور دے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ بند کرے، آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے نافذ کئے گئے غیرقانونی ڈومیسائل قوانین واپس لے،نافذ کردہ کالے قوانین کالعدم کرے،اقوام متحدہ کی نگرانی میں آزادانہ اور شفا ف استصواب رائے کے ذریعے، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا جائز حق خودارادیت دیا جائے۔قبل ازیں ترجمان دفترخارجہ نے کہا گزشتہ ہفتے کے دوران مذید 3کشمیریوں کو شہید کیا گیا، غیر مسلح اور معصوم کشمیریوں کوماورائے عدالت قتل کیا جا رہا ہے اور کشمیری قیادت مسلسل قید میں ہے، آر ایس ایس،بی جے پی گٹھ جوڑکی حکومت جمہوریت نہیں، اقلیتوں اور صحافیوں کیساتھ بدترین سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔جمعرات کو پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے میڈیا بریفنگ میں کہا ہر سال کی طرح آج 5فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کی مناسبت سے دنیا بھر میں قائم پاکستانی سفارتخانوں میں سیمینار،تقریبات منعقد کی جائیں گی۔ وفاقی اورصوبائی دارالحکومتوں یکجہتی واکس کا اہتمام  ہوگا، زاہد حفیظ کا بریفنگ میں کہنا تھا بھارت ریاستی دہشت گردی اور پاکستان مخالف پروپیگنڈاکررہاہے، بھارت دہشت گردی کیلئے فنڈنگ سمیت ہرقسم کی کارروائیوں میں ملوث ہے، اسی حوالے سے ہم نے اقوام متحدہ،عالمی برادری سے ڈوزیئر بھی شیئرکیا۔بھارت فالس فلیگ آپریشن کرتاہیاورالزام پاکستان پر لگاتا ہے، اس حوالے سے ای یو ڈس انفو لیب کی رپورٹ سب کیسامنے ہے، بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر ہماری حراست میں ہے،ہم بھارت کو ہر سطح پر بے نقاب کرتے رہیں گے۔پاک بھارت مذاکرات سے متعلق زاہد حفیظ نے کہا پاکستان نے بھارت کیساتھ مذاکرات سے کبھی انکار نہیں کیا، پاکستان سمجھتا ہے تمام تنازعات کا حل پرامن طریقے سے ممکن ہے جب تک بھارت تمام اقدامات ختم نہیں کرتا اسوقت تک بات ممکن نہیں، پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کی فوجی قیادت کے بیانات میں فرق ہے، آرمی چیف جنرل باجوہ نے امن اور کشمیر کے حل کی بات کی ہے جبکہ بھارتی فوجی قیادت غیر ذمہ دارانہ،پاکستان مخالف بیانات دیتی ہے، بھارتی قیادت نے پہلے بالاکوٹ پھرلداخ پر مس ایڈونچرکیا۔دوسری طرف صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے کہا 5فروری کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا یہ دن پاکستانیوں اور کشمیریوں کے لازوال رشتہ کی پہچان ہے، جسے کئی دہائیوں سے بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے، یہ پاکستانیوں اور کشمیریوں کے مذہبی،ثقافتی اور سماجی ہم آہنگی کی پہچان ہے،کشمیری مسلمانوں نے قیام پاکستان سے قبل ہی اپنا مستقبل نظریاتی طور پر پاکستان کیساتھ وابستہ کر دیا تھا، ہمیں اس تاریخی فیصلے پر فخر ہے کیونکہ اہل پاکستان نے آزمائش اور مشکل کے ہر لمحے میں کشمیری عوام کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا، پاکستان اور کشمیر لازم وملزوم ہیں۔پاکستانی قوم اور پاکستانی حکومت کی طرف سے یوم یکجہتی کشمیر منائے جانے سے تحریک آزادی کشمیر میں نئی روح پھونک دی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج نے ظلم وجبر کا ایسا کوئی ہتھکنڈہ نہیں چھوڑا جو بے گناہ اور بے سروسامان کشمیری عوام پر آزمایا نہ گیا ہو لیکن کشمیری عوام جرات، پامردگی اور حوصلے سے اپنے موقف پر قائم ہیں، ہم بھارت پر واضح کرتے ہیں وہ کشمیریوں کے بنیادی حق،حق خودارادیت میں رکاوٹ نہ بنے بلکہ سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے اس مسئلہ کو حل کرے۔ کشمیری عوام کیلئے وہی حل قابل قبول ہو گا جو کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوام متحد ہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا اور یہی اس کادیر پا اور پائیدار حل ہو گا۔ 5 فر وری کی کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں و کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا آج پانچ فروری ہے اور حسب روایت پاکستان کے عوام، ریاست جموں وکشمیرکے ان محکوم بھائیوں،بہنوں اوربزرگوں کے ساتھ جو خونی لکیر کے دوسری طرف ہیں ان کے ساتھ یکجہتی کے طور پرمنارہی ہے۔ ہمیں اطمینان ہے جب سے یہ دن منانا شروع کیا گیا ہے پاکستان کی تمام حکومتوں نے اس دن کو شایان شان طریقے سے منایا۔ہم اپنے مظلوم کشمیری بھائیوں، بہنوں جو خونی لکیرکے دوسری طرف رہتے ہیں یقین دلاتے ہیں پاکستان کے 22کروڑ عوام، آزادکشمیر کے 45لاکھ لوگ اور 20لاکھ کے قریب گلگت بلتستان کے عوام اس جدوجہد میں آپ کیساتھ اور پشت پر کھڑے ہیں۔ آپ اپنے آپ کو اکیلا نہ سمجھیں، انشاء اللہ وہ وقت آنے والا ہے جب آپ اور ہم آزاد فضاؤں میں اکھٹے ہو کر تاریخی فتح کا جشن منائیں گے۔، حق حق اور انصاف انصاف ہے، انشاء اللہ حق کی فتح ہو گی، انصاف کی فتح ہوگی۔ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے کشمیر ڈے کے حوالے سے اپنے پیغام میں کہا مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں، ادارے اور پوری قوم یک زبان ہے۔مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرادادوں اور کشمیری عوام کی اُمنگوں کے مطابق ہی حل ہوگا۔ بھارت کی مقبوضہ کشمیر میں ہندوں کی آبادکاری کی تمام سازشوں کو ناکام بنایاجائیگا۔بھارت کا مکروہ چہرہ دنیا بھر میں عیاں ہوچکا ہے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کیلئے ملکی و بین الاقوامی سطح پر مل کر مزید اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے عوام اور ادارے کشمیریوں کی آزادی کے حصول کیلئے جاری جدوجہد میں کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرینگے۔ ادھروفاقی وزیر اُمور کشمیر وگلگت بلتستان علی امین خان گنڈاپور نے یوم یکجہتی کشمیر کے دن کی مناسبت سے اپنے خصوصی پیغام میں کہا پاکستان کی حکومت اور عوام مقبوضہ کشمیر کے بہنوں اور بھائیوں کے حق خود ارادیت کے حصول تک اُن کی تمام ترحمایت جاری رکھیں گے۔آج کا دن اُن کشمیری شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بھی دن ہے جنہوں نے حق خود ارادیت کے پیدائشی حق کیلئے اپنی جانوں کا نظرانہ پیش کیا۔ انسانی حقوق اور انصاف کے عالمی اداروں سمیت یورپی یونین اور برطانوی پارلیمنٹ کے ارکان نے بھی ان بھارتی اقدامات کی بھرپور مذمت کی ہے۔بھارت مذہبی آزادی کے حوالے سے ایک خطرناک ملک قرار دیا جاچکا ہے۔ انتہا پسند عزائم کی تکمیل کیلئے بھارتی حکومت،فوج اور بھارتی میڈیا کے درمیان ناپاک گٹھ جوڑ دُنیا کے سامنے یکے بعد دیگرے بے نقاب ہو رہے ہیں۔ عالمی برادری مسئلہ کشمیر کی حساسیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حل کرنے کیلئے فوری اقدامات اٹھائے۔آج ہم اس عزم کی تجدید کرتے ہیں کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے حصول تک اُن کی حمایت سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

یوم یکجہتی کشمیر

 لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے لاہور گریژن کا دورہ کیا۔ کور کمانڈر لاہور لیفٹیننٹ جنرل محمد عبد العزیز نے آرمی چیف کا استقبا ل کیا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پیشہ ورانہ امور، داخلی اور خارجی صورتحال پر اظہار خیال کیا اور گریژن کے افسران سے خطاب کیا جبکہ خطے میں دیرپا امن سے متعلق پاکستانی وڑن پر روشنی ڈالی۔ آرمی چیف نے مشرقی سرحد اور کشمیر کی صورتحال پر بھی بات کی۔اس موقع پر آرمی چیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کشمیر سمیت خطے کے عوام دیرپا امن کا حق رکھتے ہیں۔ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے حل کیلئے پر عزم ہیں۔ تنازع کشمیر کا حل کشمیریوں کے امنگوں کے مطابق ضروری ہے۔جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا ہائبرڈ جنگ کے چیلنجز میں مزید چوکنا اور تیار رہنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے دو روز قبل پی اے ایف اکیڈمی اصغر خان میں خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا تھا ہماری امن کی خواہش کوکمزوری نہ سمجھاجائے، مسلح افواج ہر طرح کے خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ پاکستان امن پسندملک ہے، پاکستان نے علاقا ئی اورعالمی امن کیلئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں، ہم امن بقائے باہمی اورباہمی احترام پرکاربندہیں۔آرمی چیف نے واضح کیا تنازع کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کیا جانا چاہیے، تنازع کشمیرکاحل انسانی المیے کومنطقی انجام تک پہنچانے کاباعث بنے گا۔پاک فوج کے سپہ سالار نے کہا ملک دشمنوں کی سازشوں کوناکام بنانے میں افواج کی ہم آہنگی مثالی ہے، مسلح افواج نے داخلی سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے میں کردار ادا کیا۔

جنرل باجوہ 

مزید :

صفحہ اول -