یوم یکجہتی کشمیر پر برطانیہ میں آن لائن کانفرسز ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ

یوم یکجہتی کشمیر پر برطانیہ میں آن لائن کانفرسز ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ...
یوم یکجہتی کشمیر پر برطانیہ میں آن لائن کانفرسز ، انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرنے کا مطالبہ

  

لندن (مجتبیٰ علی شاہ ) تحریک کشمیر برطانیہ کے ہفتہ یکجہتی کشمیر کے دوران انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس میں امریکہ، برطانیہ، آزادجموں و کشمیر ، پاکستان ، یورپین اور عرب ممالک سے سابق ممبران پارلینمٹس ،وکلا ء ، صحافیوں، مذہبی اور سیاسی راہنماوں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے نماِندوں نے شرکت ، اس کانفرنس کی صدارت راجہ فہیم کیانی صدر تحریک کشمیر برطانیہ نے کی اور نظامت کے فرائض ریحانہ علی انفارمیشن سیکریٹری تحریک کشمیر برطانیہ نے ادا کیے۔

برطانیہ اور یورپ سے سابق یورپین پارلینمٹ کے ممبران جیولی وارڈ ، ٹریسا گریفن، لارڈ واجد خان، شفق محمود ، سجاد کریم اور سابق برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر گراہم جونز نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اور یورپ کو بھارت سے ٹریڈ ڈیل کرنے سے پہلے انسانی حقوق کی خلاف وارزیوں کو کشمیر میں بند کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے ، بھارت کو  ہر فورم پر ناکام بنانا چاہیے ، عبدالرشید ترابی ممبر قانون ساز اسمبلی نے کہا کہ ہم حق خودادیت کے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے مظالم کے حوالے مزمل ایوب ٹھاکر اور ظفر قریشی نے شرکاء کو مقبوضہ کشمیر کی صورت حال کے حوالے سے  بریفنگ دی، امریکہ سے ڈینیل خان نے کہا کہ اس نے بھارت کے کشمیر میں مظالم  کا منظر خود اپنی آنکھوں سے  دیکھ چکی ہوں اور عالمی طاقتوں کی خاموشی مجرمانہ ہے ۔ترکی اور عرب ممالک سے مجبل الشریکہ ، دالالحجمی، ڈاکٹر آرشد محسن ، شینی حمید اور ترکاے ہیون نے کہا کہ اقوام متحدہ کا جہاں مفاد ہوتا وہاں پر وہ اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کروا لیتے ہیں  لیکن کشمیر میں گرتا ہوا خون ان کو نظر نہیں آتا ،افسوس  ہے کہ مسلم ممالک متحد ہوکر  انڈیا کو اس کا ظالمانہ چہرہ  نہیں دکھا سکے۔  تحریک کشمیر برطانیہ یورپ کی ذمہ داران راجہ فہیم کیانی ،سردار آفتاب احمد ایڈوکیٹ،خواجہ محمد سلیمان، ریحان علی اور فاکہیہ طیب نے کہا تحریک کشمیر برطانیہ یورپ بھارت کے ظالمانہ چہرے کو بے نقاب کرتے رہیں گے  اور مظلوم کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ اور ان کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں  گے۔

مزید :

برطانیہ -