مسئلہ کشمیر کی بنیادی حیثیت تبدیل کرنے کی سازش اکیلے مودی نے نہیں کی بلکہ اس سازش میں ۔۔۔مولانا فضل الرحمان نے تشویشناک دعوی کردیا 

مسئلہ کشمیر کی بنیادی حیثیت تبدیل کرنے کی سازش اکیلے مودی نے نہیں کی بلکہ اس ...
مسئلہ کشمیر کی بنیادی حیثیت تبدیل کرنے کی سازش اکیلے مودی نے نہیں کی بلکہ اس سازش میں ۔۔۔مولانا فضل الرحمان نے تشویشناک دعوی کردیا 

  

مظفر آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم )کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا ذمہ دار بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ،سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس "تکون " کی سازش کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا ،کشمیر ایک نظریاتی مسئلہ ہے،ایک ناجائز اور نا اہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کو ئی حق حاصل نہیں،بھارت کشمیر کو اٹوٹ انگ کہہ کر اقوام متحدہ ،سلامتی کونسل سے غداری کا مرتکب ہوا ہے ۔

مظفر آباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر بڑے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم عمران خان کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ الیکشن سے پہلےعمران خان نے کہا تھا کہ مودی کامیاب ہوا  تو کشمیر کا مسئلہ حل ہوجائے گا،یہ واحد آدمی تھا جس نے اقتدار میں آنےسےپہلے کشمیر کو تین حصوں میں تقسیم کرنیکا فارمولا پیش کیا تھا،ہم آج یہاں مظفرآباد میں یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کے ساتھ ساتھ کشمیر فروش حکومت کی پالیسیوں کے خلاف احتجاج کرنے آئے ہیں،مسئلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت کو کشمیریوں کی مرضی کے بغیرتبدیل کرنا کشمیریوں سے غداری کے مترادف ہوگا۔

پی ڈی ایم سربراہ کا کہنا تھا کہ اگر ہندوستان کہتا ہے کہ کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ اور ہندوستان کا جغرافیائی حصہ ہے تو یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی مخالفت ہے،بین الاقوامی فورم پر ہندوستان نے عالمی فیصلوں سے غداری کی ہے،سلامتی کونسل اوراقوام متحدہ کی قراردادوں سے غداری کی ہے ،جو غداری اُنہوں نے کی تھی آج  وہی اس غداری کا مرتکب ہو رہا ہے،ہم سمجھتے ہیں کہ آپ مراعات دیں ، آپ عزت دیں ،آپ اُن کو وسائل مہیا کریں، آپ اِن کو روزگار مہیا کریں ،آپ اِن کو خوشحال زندگی مہیا کریں، اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں لیکن مسئلہ کشمیر کی سیاسی حیثیت کو تبدیل کرنا پورے کشمیریوں کے ساتھ غداری کے مترادف ہے ، آج ہم نے مظفرآباد میں دو حیثیتوں کے ساتھ جلسہ کیا ہے، ایک اپنی سابقہ روایات کو براقرار رکھتے ہوئے پانچ فروری کو یوم یکجہتی کشمیر کے طور پر اور آج اس میں ایک احتجاج شامل ہے کہ جس طرح کشمیر کو سودا کیا گیا ،کشمیریوں کی خواہشات کے برعکس جس طرح ہندوستان نے اِن کی حکومت کے دوران جس طرح گزشتہ سال پانچ اگست کو کشمیر کے مسئلے کی حیثیت ختم کر دی ،آج ظاہر ہے کہ ہم اس احتجاج میں شریک ہونے کے لئے مظفر آباد آئے ہیں ۔

مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ مودی ، عمران اور ٹرمپ نےمسئلہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا ،اس "تکون " کی سازش کی بنیاد پر مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کیا گیا ،کشمیر ایک نظریاتی اور کشمیری قوم کا مسئلہ ہے،ناجائز حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل سے متعلق فیصلوں کا کوئی اختیار نہیں،آج ہم واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ ایک ناجائز اور نا اہل حکومت کو کشمیریوں کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کو ئی حق حاصل نہیں ہے، آپ اس بنیاد پر پنجاب کو تقسیم کریں کہ آدھا پنجاب سکھوں اور آدھا مسلمانوں کا ہے،آپ بنگال کو اس بنیاد پر تقسیم کر سکتے ہیں کہ آدھا بنگال ہندوؤں اور آدھا بنگال مسلمانوں کا ہےلیکن تقسیمِ پاکستان سن 47 فارمولے کا حصہ ہے تو  پھر آر پار کشمیری مسلمان ہیں ،ایک مسلمان قوم  کی حیثیت سے پاکستان سے الحاق کرنایہ اُن کا حق بنتا ہے اور اسی حوالے سے ہم نے مسئلے کو حل کرنا ہے ۔

اُنہوں نے کہا کہ ہم نے اِن حالات پر نظر رکھنی ہے اور ہم نے کشمیر کے مسئلے پر دو ٹوک موقف دینا ہے اور ہندوستان کو مجبور کرنا ہے کہ جو فیصلہ  اُنہوں نے کشمیری عوام کی خواہشات کے خلاف پچھلے سال کیا ،ہم اس فیصلے کو تسلیم ہی نہیں بلکہ اُس فیصلے کو واپس کرانے کی بھی جنگ لڑیں گے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -