وہ جرنیل جو خودکشی بارے بھی سوچ چکا، ممکنہ چیف آف دی ڈیفنس سٹاف کی ذہنی کیفیت سے متعلق ایسا انکشاف کہ ہربرطانوی فوجی دم بخود رہ جائے

وہ جرنیل جو خودکشی بارے بھی سوچ چکا، ممکنہ چیف آف دی ڈیفنس سٹاف کی ذہنی کیفیت ...
وہ جرنیل جو خودکشی بارے بھی سوچ چکا، ممکنہ چیف آف دی ڈیفنس سٹاف کی ذہنی کیفیت سے متعلق ایسا انکشاف کہ ہربرطانوی فوجی دم بخود رہ جائے
سورس:   Wikipedia

  

لندن(مانیٹرنگ ڈیسک)برطانیہ کے جنرل سر پیٹرک سینڈرز کو برطانوی فوج کا اگلا چیف آف دی ڈیفنس سٹاف بنائے جانے کا غالب امکان ہے اور فوج میں اس اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے جا رہے جنرل پیٹرک سینڈرز خود ہی اپنی ذہنی صحت کے متعلق کیا انکشاف کر چکے ہیں؟ سن کر آپ کی حیرت کی انتہاءنہ رہے گی۔

 میل آن لائن کے مطابق 54سالہ جنرل سر پیٹرک 2007ءمیں عراق میں ہزاروں برطانوی فوجیوں کی کمانڈ کر چکے ہیں۔ عراق جنگ کے دوران انہوں نے جو ہولناک مناظر دیکھے،ان سے ان کی ذہنی صحت شدید متاثر ہوئی۔ ایک انٹرویو میں جنرل پیٹرک کہہ چکے ہیں کہ عراق میں پوسٹنگ کے بعد وہ طویل عرصے تک شدید ذہنی خلفشار کا شکار رہے، وہ راتوں کو 2، 2بجے اکیلے بیٹھ کر شراب پیتے تھے اور گاہے انہیں خود کو نقصان پہنچانے کے خیالات بھی آنے لگے تھے۔

جنرل پیٹرک نے اس انٹرویو میں عراق جنگ میں حصہ لینے والے تمام برطانوی فوجیوں کو ہدایت کی کہ وہ ذہنی صحت کے حوالے سے ماہر ڈاکٹروں سے رجوع کریں اور علاج کروائیں۔ سر پیٹرک کی طرف سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانوی فوجیوں میں خودکشی کی شرح تیزی سے بڑھ رہی ہے اور گزشتہ 10سال کی نسبت 2گنا ہو چکی ہے۔ جنرل پیٹرک سینڈرز کا کہنا تھا کہ ”2007ءمیں عراق میں 47برطانوی فوجی ہلاک اور 202شدید زخمی ہوئے تھے۔ میں اس صورتحال پر شدید ذہنی پریشانی میں مبتلا تھا۔ مجھے ایسے لگتا تھا کہ جیسے میں عراق آنے کے بعد تبدیل ہو گیا ہوں اور کوئی مختلف شخص بن چکا ہوں۔ اس دوران ایسے کئی مواقع بھی آئے کہ میں نے خودکشی کے بارے میں سوچا۔ عراق سے واپس آنے کے بعد بھی ایک عرصے تک یہ خیالات میرے ذہن میں آتے رہے۔“

مزید :

برطانیہ -