یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی 

یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان پر سوالات کی ...
یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر احسن اقبال نے وزیراعظم عمران خان پر سوالات کی بوچھاڑ کردی 

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال نے وزیراعظم پر سوالات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی محب وطن پاکستانی کشمیر فروشی اور اس نااہلی پر چپ نہیں رہ سکتا،یہ ہمارے ضمیر، کشمیریوں اور ملک کے ساتھ زیادتی ہے، ہمیں اس پر لازما بولنا ہوگا،تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کشمیر پر یا تو بہت بڑی ناکامی اور مجرمانہ نااہلی کی ذمہ دار ہے یا پھر اس نے کشمیر فروشی کی ہے،حقیقت یہ ہے کہ عمران خان نے پاکستان کو داخلی، معاشی اور سفارتی سطح پر اتنا کمزور کر دیا ہے کہ مودی حکومت کو مقبوضہ جموں کشمیر کو غیر قانونی طور پر ضم کرنے کی ہمت ہوئی، 72 سال میں بھارت کو ایسا کرنے کی جرات نہ ہو سکی۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیر داخلہ احسن اقبال نے یوم یکجہتی کشمیر پر وزیراعظم عمران خان سے 12 سوالات کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی کے اپنے منشور میں کشمیر کو بھارت میں ضم کرنے کے واضح اعلان کے باوجود عمران خان نے مودی کی انتخابات میں کامیابی کے لیے ٹویٹ کیوں کیا تھا؟اہم اور دوست ممالک جانے اور قومی مفاد پر حمایت حاصل کرنے کے بجائے ہمارے وزیر خارجہ اپنے شہر میں مریدین کے ہمراہ میڈیا پر خطاب میں مصروف رہے ؟ انہیں کشمیر کے ایک نکاتی ایجنڈے پر سلامتی کونسل اور او آئی سی کے تمام رکن ممالک کا دورہ کرنا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں ہوا؟۔

انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ  پانچ  اگست 2019ء کے بھارتی اقدام کے بعد وزیراعظم عمران خان اور وزیر خارجہ نے فعال، موثر اور عملی خارجہ پالیسی کی راہ کیوں اختیار نہیں کی؟ کیوں عمران خان نے اس معاملے پر حمایت حاصل کرنے کے لئے کسی ایک بھی دوست ملک کا دورہ نہیں کیا؟ جبکہ بھارت مسلسل متحرک دکھائی دیا۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ  عمران خان حکومت نےغیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں انفارمیشن بلیک آؤٹ اور کرفیو ختم کرانے کے لئےدنیا کے اہم دارلحکومتوں بالخصوص سلامتی کونسل کے رکن ممالک میں پاکستان کے خصوصی ایلچی کیوں نہیں بھیجے ؟قومی اسمبلی کی قرارداد کے باوجود جموں کشمیر پر او آئی سی کا خصوصی سربراہی اجلاس بلانے کی درخواست اور اس ضمن میں لابی کیوں نہیں کی گئی؟۔انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ  2019ء میں کشمیر پر پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد منظور ہونے کے 24 گھنٹے کے اندر ہی حکومت نے مریم نواز شریف کو گرفتار کر کے قومی اتحاد کو پارہ پارہ کرنا کیوں ضروری سمجھا؟ جب وہ کشمیریوں سے یک جہتی کے لئے مظفرآباد جا رہی تھیں۔پی ٹی آئی حکومت نے یومِ یکجہتی کشمیر کے دن کشمیر پر پارلیمان کے اتحاد کا پیغام دینے کے بجائے متنازعہ قا نو ن سا ز ی لا کر قومی اسمبلی میں کیوں طوفان بدتمیزی مچایا اور لڑائی سے ماحول خراب کیا ؟۔

مزید :

قومی -