ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ، ن لیگ کا شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ

ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ، ن لیگ کا شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ
ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کیس کا فیصلہ، ن لیگ کا شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مسلم لیگ ن کی جانب سے ڈیلی میل کے خلاف ہتک عزت کیس کا ابتدائی فیصلہ آنے کے بعد اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ کردیا گیا ۔

ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب نے شہباز شریف کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ لندن کی عدالت کا فیصلہ شہبازشریف کی بے گناہی اور عمران صاحب کے مصدقہ جھوٹے ہونے کی بین گواہی ہے، شہبازشریف کی ایمانداری پرکیچڑ اچھالنے والوں کے سیاہ چہروں کی کالک میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، اللہ تعالی کا شکر ادا کرتے ہیں کہ لندن کی عدالت سے شہبازشریف کی سچائی کی گواہی آئی، لندن عدالت کے فیصلے کے بعد کچھ بھی شرم ہوتو عمران صاحب اور کرائے کے ترجمان معافی مانگیں۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ’عمران صاحب اپنے سیاسی انتقام، حسد اور جھوٹ کی آگ سے پاکستان کی جو ہتک آپ نے کرائی، اس کا ازالہ کون کرے گا؟ جھوٹے کاغذ لہرانے والوں میں ذرا سی بھی شرم ہوتو برطانوی عدالت کے فیصلے کے بعد چلو بھر پانی میں ڈوب مریں، شہزاد اکبر نے جو کاغذلہرائے تھے وہ لندن کی عدالت میں کیوں پیش نہیں کئے؟ ثابت ہوا کہ جن کی اپنی کوئی عزت نہیں  ان کا کام صرف شرفا کی عزت اور پگڑیاں اچھالنا ہے، برطانوی عدالت کے فیصلے سے براڈ شیٹ کے کمیشن خور شہزاد اکبر کے چہرے پر جھوٹ کی سیاہی میں اور بھی اضافہ ہوگیا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ ’عمران صاحب نے یہ جھوٹا انٹرویو خود کرایا تھا، عمران صاحب آپ کے ہر جھوٹ کا انجام انشاء اللہ ایسا ہی نکلے گا، عدل اور انصاف جب بھی ہوا، مسلم لیگ (ن) کی قیادت سرخروہوئی، انہیں جیل بھجوانے والے خود جیل گئے۔‘ 

خیال رہے کہ آج لندن کی عدالت میں شہباز شریف کی جانب سے برطانوی اخبار ڈیلی میل کے خلاف دائر کیے گئے ہتک عزت کے کیس کی سماعت ہوئی۔ پاکستانی میڈیا کے مطابق برطانوی عدالت نے ابتدائی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ ڈیلی میل کی خبر سے شہباز شریف کی ہتک عزت ہوئی۔

دوسری جانب سابق وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف خبر دینے والے صحافی ڈیوڈ روز کا کہنا ہے کہ آج کی سماعت انتہائی بنیادی نوعیت کی تھی۔  آج کے فیصلے میں عدالت نے یہ بتایا ہے کہ ڈیلی میل کے آرٹیکل کا مطلب کیا ہے، یہ کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہے، ابھی ٹرائل شروع ہونا ہے۔

مزید :

اہم خبریں -قومی -