پاک۔ ایرن تعلقات: ایک جائزہ     (2)

      پاک۔ ایرن تعلقات: ایک جائزہ     (2)
      پاک۔ ایرن تعلقات: ایک جائزہ     (2)

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

   گزشتہ سے پیوستہ

اس کالم کا عنوان تو بظاہر ”پاک۔ ایران تعلقات: ایک جائزہ“ ہے لیکن جائزہ تو شاید کہیں آخر میں آئے فی الحال یہ ایک رپورتاژ بنتا جا رہا ہے۔ بعض اوقات یہ خیال بھی شدت سے دماغ  میں سمانے لگتا ہے کہ پاک ایران تعلقات دراصل پاکستانی بلوچستان اور ایرانی بلوچستان کے دائرے میں گھومتے نظر آتے ہیں۔اس لئے پہلے پاکستانی بلوچستان کے بارے میں کچھ تفصیل سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس جائزے کی شروعات ہمارے اسی علاقے سے پھوٹتی ہیں۔

اگرچہ یہ نصف صدی پہلے کے واقعات ہیں جو ذہن کے کینوس پر نمودار ہو رہے ہیں لیکن ہمارے بلوچستان میں زندگی ایک آہستہ رو مظہر (Phenominon) ہے اور حالیہ پے بہ پے دہشت گردانہ حادثات کے باوجود  بھی وہاں رفتارِ زیست کچھ ایسی بھاگتی معلوم نہیں ہوتی اس لئے اجازت دیجئے کہ پانچ عشرے گزرنے کے بعد بھی آج وہاں کے حالات کو کسی تیز تر یا انقلابی دھارے میں تبدیل ہوتا تسلیم نہ کروں۔

چاہیے تو یہ تھا کہ یہ صوبہ اگر رقبے کے لحاظ سے پاکستان کا 46فیصد تھا اور آبادی کی کمتر تعداد اس کے رقبے سے کسی طور پر بھی مطابقت نہیں رکھتی تھی تو اس لئے لازم تھا کہ وہاں ڈویلپمنٹ کی رفتار اتنی بڑھا دی جاتی کہ ملک کے دوسرے گنجان آباد علاقوں کے باسیوں کو وہاں جا کر اپنا مستقبل بنانے اور سنوارنے کے بیشتر مواقع آفر ہو جاتے۔ دوسرے ملکوں میں یہی ہوتا ہے۔ چاہیے تھا کہ یہاں کی صحرائی، نیم ریگستانی، نیم کوہستانی اور غیر ہموار زمین کو اس قابل بنا دیا جاتا کہ بلوچستان سے باہر بسنے والے لوگوں کی کشش کا سکیل بہت بڑھ جاتا…… لیکن ایسا نہ ہوا…… حد یہ ہے کہ سوئی گیس کا سب سے بڑا منبع بھی بلوچستان میں ہے اور ریکوڈیک کے ’سونے کی کان‘ بھی اسی صوبے میں ہے لیکن ان دونوں علاقوں کی آبادیوں کا بڑا حصہ آج بھی صرف اور صرف مقامی قبائل تک محدود ہے۔ میں ان سطور میں بلوچستان کی جیو ڈیفنس حیثیت پر زیادہ بحث کرنا نہیں چاہتا لیکن اگر اس کی سرحدات افغانستان اور ایران سے ملحق اور منسلک ہوں تو ملک کے دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کے مکینوں کو کم از کم سوئی اور ریکوڈک کا رخ کرنا چاہیے تھا۔

میری نظر میں پاکستان ایک چھوٹا سا امریکہ ہے…… میرے اس فقرے پر حیران ہونے کی بجائے یہ سوچئے کہ اس میں صحرا، پہاڑ، دریا، سمندر، میدان، سبزہ زار، جنگلات اور برف پوش علاقے جگہ جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ امریکہ میں بھی اس کی 49،50ریاستوں میں کئی ریاستیں سرسبز و شاداب ہیں اور کئی بنجر اور کم آباد ہیں۔ لیکن ان موخر الذکر پس ماندہ علاقوں میں بھی ایسے امریکی جا کر آباد ہو گئے ہیں کہ ان کے ”دم قدم سے“ ان کی اہمیت امریکہ کی دوسری گنجان آباد ریاستوں کے برابر آ گئی ہے۔

پاکستان کو ایک اور طرح کی برتری بھی دوسرے مسلمان ممالک کے مقابلے میں میسر ہے۔ اس کے پاس جوہری اور میزائلی قوت کا ایک قابلِ لحاظ Segment موجود ہے اور میں اسی حوالے سے پاکستان کو ایک چھوٹا سا امریکہ قرار دیتا ہوں۔ جہاں بلوچستان کی سرزمین قدرتی معدنیات سے مالامال ہے اور جہاں ملک کے دوسرے صوبوں میں دفاعی پروڈکشن کے مواقع اور وسائل نسبتاً زیادہ بلکہ وافر ہیں وہاں اس مملکتِ خداداد کو واقعی ایک ”چھوٹا سا امریکہ“  ہونا چاہیے تھا!……

جس ایک فیکٹر نے 1492ء میں کولمبس کے دریافت کردہ براعظم کو ریڈ انڈین قبائل کے قدیم بدوانہ چنگل سے نکال کر تمام مغرب ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کی سپریم قوت بنا دیا وہ وہاں کی وہ مخلوق تھی جو یورپ کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے وہاں شفٹ ہوئی تھی اور جس نے ریڈ انڈین کی بے حد قدیم سکونت گاہوں کو وائٹ امریکن کی بے حد جدید آسائش گاہوں میں تبدیل کر دیا تھا…… کاش پاکستان میں بھی یہی تجربہ دہرایا جاتا اور بلوچستان کی قدیم، نیم خواندہ اور مقامی بلوچی آبادیوں کو پاکستان  کے دوسرے خوشحال خطوں کے باسیوں کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا جاتا!……

میں اپنی فوجی سروس کے دوران 1970ء اور 1980ء کے عشروں میں دوبار 5،7 سال تک کوئٹہ سے لے کر تفتان تک اور نوشکی سے خاران، مکران اور گوادر تک پھیلے  علاقوں میں پابہ رکاب رہا ہوں۔ یہ سفر بعض اوقات میرے پروفیشنل تقاضے تھے اور بعض اوقات میری اس تشنگی کی کوکھ سے پھوٹے تھے جو مجھ جیسے بہت سے انسانوں کو قدرت کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔ قارئین میں سے بھی بہت سے حضرات اور خواتین اسی تشنگی سے مالا مال ہوں گی لیکن وائے افسوس کہ جس طرح راقم السطور بوجوہ وہاں سے خالی ہاتھ لوٹا اسی طرح شاید دوسرے لوگ بھی مختلف اقسام کی نارسائیوں کی وجہ سے ایسا نہ کر سکے ہوں گے۔ لیکن اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے کئی حصوں میں ایسے لوگ آج بھی موجود ہیں جو بلوچستان کو ایک چھوٹا سا امریکہ بنا سکتے تھے!

اکثر اوقات میرے ساتھ یہ ’وقوعہ‘ بھی پیش آتا ہے کہ خواہ موضوعِ زیرِدست سے ہٹنا پڑے تو بھی دل کی اُن تمناؤں کو صفحہء قرطاس پر بکھیر دوں جو ارتجالاً دماغ کے دریچوں سے جھانکنا شروع کر دیتی ہیں اور میں ان کا ذکر کرنے پر اپنے آپ کو مجبور پاتا ہوں۔ امید ہوتی ہے کہ شاید میری طرح کوئی اور بندۂ خدا اپنی خوابیدہ سوچ کے خول سے باہر نکل کر میری طرح کی خواہشوں کی تکمیل کی طرف متوجہ ہو جائے۔

مثال کے طور پر ابھی ابھی اپنی موجودہ کیفیت کے تناظر میں حضرت اقبال کی ایک مناجات کی طرف تو سنِ خیال دوڑ گیا ہے۔…… یوں تو اقبال کی ہر اردو اور فارسی شاعری کی کتاب میں حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس کے بارے میں بہت سے اشعار ملتے ہیں۔ لیکن عمر کے آخری حصے میں (1933-34ء) میں اقبال نے جو مثنوی ”پس چہ باید کرد اے اقوامِ مشرق“ کے نام سے لکھی اس کے آخر میں ایک طویل مناجات بھی ہے جس کا عنوان ہے: ”در حضورِ رسالت مآب“۔ اس کو پڑھ کر مجھ گنہ گار پر جو کیفیت طاری ہوتی ہے اس کا مختصر بیان بھی میرے بس میں نہیں۔ اس نظم کے 62اشعار ہیں۔ آخری چند اشعار کا اردو ترجمہ دیکھئے:

”اگرچہ میری عمر کی کھیتی بنجر ہے اور اس سے کچھ حاصل (پروڈکٹ) نہیں ہو پا رہی۔ لیکن میرے جسم میں ایک چھوٹی سی چیز بھی موجود ہے جس کا نام دل ہے…… میں اس دل کو اس لئے دنیا کی نظروں سے چھپا کر رکھتا ہوں کہ اس کی شکل آپؐ حضور کے براق  کے نعل (سُم) سے مشابہ ہے…… اے وہ کہ تیری ذات نے عرب کے بدوں کو سوزِ عرب بخشا ہے؟ مجھ گنہ گار بندے کو بھی اپنے حضور طلب فرما……یہ دنیا میرے لئے ایک وسیع و عریض بیابان ہے جس میں کبھی آگ کا ایک بڑا الاؤ روشن ہوا کرتا تھا لیکن آج وہ آگ بجھ چکی ہے۔ البتہ اس کی ایک اَدھ جلی لکڑی (پنجابی میں چرناٹھ)ہے جو ابھی تک سلگ رہی ہے۔ کارواں گزر گیا ہے لیکن یہ لکڑی ابھی تک بجھی نہیں …… اس وسیع و عریض بیابان میں یہ لکڑی اس لئے سلگ رہی ہے کہ شاید کوئی اور قافلہ اس راہ پر آ نکلے اور میری اس اَدھ جلی لکڑی سے ایک بار پھر دورِ ماضی کا الاؤ روشن کر لے…… 

درجِ بالا ترجمہ، درج ذیل پانچ اشعار کا ہے:

گرچہ کشتِ عمرِ من بے حاصل است

چیز کے دارم کہ نامِ او دل است

دارمش پوشیدہ از چشمِ جہاں 

کز  سُمِ شبدیز تو دارد نشاں 

اے کہ دادی کُرد را سوزِ عرب

بندۂ خود را حضورِ خود طلب

در بیاباں مثلِ چوبِ نیم سوز

کارواں بگذشت و من سوزم ہنوز

اندریں دشت و درے پہناورے

بو کہ آید کا روا نے دیگرے

 میں نے اوپرکی سطور میں خیال کے جس گھوڑے (توسنِ خیال) کا حوالہ دیا تھا وہ اقبال کی اس مناجات میں بیان کردہ وہی شبدیز (گھوڑا۔ برّاق) تھا!

سو اب نفسِ موضوع کی طرف لوٹتا ہوں …… میں نے گزشتہ قسط کے خاتمے پر جس فارسی لسانی کورس کا ذکر کیا تھا، وہ فروری 1970ء میں تمام ہوا اور میں واپس PRC (پنجاب رجمنٹ سنٹر)مردان میں چلا گیا۔ اگلے دو ماہ وہاں رکا تو ملٹری سیکرٹری برانچ سے تبادلے کا ایک اور آرڈر ملا اور میں آزاد کشمیر کے ایک بریگیڈہیڈ کوارٹر میں پوسٹ کر دیا گیا جو میرپور کے نزدیک واقع تھا اور جسے ”جیری کس“ کہا جاتا تھا۔ وہاں چند ماہ ٹھہرا، کاندھوں پر کپتانی لگائی اور ایک بار پھر احکامات ملے کہ ہیڈکوارٹرIGFC (انسپکٹرجنرل فرنٹیئر کور) پشاور میں رپورٹ کروں۔ یہ ہیڈکوارٹر قلعہ بالاحصار میں تھا(اور آج بھی وہیں ہے) وہاں جنرل شیریں دل خاں نیازی سے انٹرویو ہوا اور مجھے بلوچستان میں کوئٹہ سے دو سو میل جنوب میں واقع ایک شہر، خضدار میں ایک فرنٹیئر کور یونٹ (قلات سکاؤٹس) میں رپورٹ کرنے کے احکامات ملے۔ اس دور میں (اواخر 1970ء میں)سارے وسطی اور جنوبی بلوچستان میں ریگولر آرمی کی کوئی یونٹ نہیں تھی، صرف FC کی یونٹیں تھیں …… یہ بلوچستان کی سرزمین سے میری پہلی ملاقات تھی!(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -