بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے  مسئلہ کشمیر بھی حل کیا جائے!

بورڈ آف پیس کے پلیٹ فارم سے  مسئلہ کشمیر بھی حل کیا جائے!

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

پاکستان سمیت دنیا بھر میں کشمیر کی تحریک آزادی کے حامی آج پانچ فروری کو 36 واں یوم یک جہتی کشمیر منارہے ہیں،جوں جوں دنیا کے سیاسی حالات تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں، اس لحاظ سے کشمیر کی تحریک آزادی بھی نئے امتحان اور نئی آزمائش سے دوچار ہورہی ہے، تحریک آزادی کشمیر، بھارت کے ظلم، قابض بھارتی فوج کے بدترین ستم، اور 5اگست2019ء کی تاریک گھاٹیوں سے ہوتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے تو اسے آج  بورڈ آف پیس کا بھی سامنا ہے، جسے اقوام متحدہ کے متبادل کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی قراردادوں میں پوری دنیا نے کشمیری عوام سے یہ وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کے  سیاسی مستقبل کا فیصلہ منصفانہ و آزادانہ رائے شماری کے مطابق ہوگا، کشمیری عوام اپنے مستقبل کا فیصلہ اپنے ووٹ اور خود اپنی مرضی سے کریں گے لیکن اس وعدے تک پہنچنے کے لئے کشمیری عوام اب تک لاکھوں انسانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں، خواتین کی عصمتیں پامال ہوئی ہیں،بچے بوڑھے اور نوجوان شہید ہوئے ہیں، مالی نقصان اس قدر کہ باغا ت اجڑ چکے ہیں اور معیشت تباہ حال ہو گئی، ڈھل جھیل میں چلنے والی کشتیاں پانی میں ہونے کے باوجود خشک ہوچکی ہیں، وادی میں گلی گلی شہداء کے قبرستان آباد ہو رہے ہیں، مگر اقوام متحدہ کا وعدہ ابھی تک پورا نہیں ہوسکا، یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ اس کا کسی کو علم نہیں ہے، مگر کشمیری قوم آج بھی  آزادی کے حصول کی جدوجہد کر رہی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ آخر کب تک کشمیری قوم کا خون بہتا رہے گا، اس مسئلے کے حل کے لئے، مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی، اقوام متحدہ کے علاوہ دنیا کی پانچ بڑی ایٹمی قوتوں، روس، امریکہ، چین، برطانیہ اور فرانس سمیت دنیا بھر کے انسانی حقوق کے اداروں اور تنظیموں کو اپنی بند آنکھیں کھولنا ہوں گی، اور بھارت کا راستہ روکنا ہوگا۔

پاکستان کی عسکری قوت نے گزشتہ سال معرکہ حق کے دوران فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر کی قیادت میں بھارت کو ناقابل فراموش سبق سکھایا تھا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بھارت نے ابھی پوری طرح سبق نہیں سیکھا،اس کی طرف سے دوبارہ حملہ کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں، تاہم عسکری قیادت اور پوری قوم وطن عزیز کے دفاع کے لئے تیار ہے بھارت کو پہلے سے بھی زیادہ  بدترین انجام تک پہنچایا جائے گا، معرکہ حق میں تو اس کے ساتھ کچھ رعایت کی گئی کہ رحم کھا کر اس کے لاک کیے ہوئے درجنوں جہاز چھوڑ دیئے، مگر اب اس کے تمام رافیل اور دیگر جنگی جہاز، حربی اور دفاعی نظام اور سامان تہس نہس کر دیا جائے گا۔

پاکستان کے عوام اور سیاسی و عسکری لیڈر شپ، کشمیر کا مسئلہ پر امن طور پر، رائے شماری کے ذریعے حل کرنے کی حامی ہے، لیکن  بھارت کسی بھول میں نہ رہے  ہم گھی کو ٹیڑھی انگلیوں سے بھی نکالنے کے لئے تیار ہیں، پاکستان کی قوت کا اندازہ اسے راجیو گاندھی کے ماتھے پر آنے والے  پسینے سے لگا لینا چاہیے، یہ پسینہ کسی حملے کے نتیجے میں نہیں آیاتھا بلکہ جنرل محمد ضیاء الحق شہید کے دو بول ہی تھے کہ ”اچھا تم نے حملہ کرنا ہے تو کرکے دیکھ لو، مگر یاد رکھو پھر دنیا کے نقشے پر ہندوستان باقی نہیں رہے گا“۔یہ الفاظ سن کر راجیو کے ماتھے پر جو پسینہ آیا تھا،بھارت کو وہ بھولنا نہیں چاہئے۔ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں جن کی شدید مذمت کی جا رہی ہے، بھارت کا رویہ خطے کے امن اور استحکام کے لئے ایک سنگین خطرہ سمجھا جا رہا ہے، بلوچستان میں اس کی  مداخلت اور فتنہ ہندوستان کو شہہ دینا، اس سمیت ہم اس کے من گھڑت بیانیے کو تہس نہس کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اس کے خلاف ٹھوس اور عملی اقدامات کریں گے۔بھارتی فوج کے کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کر رہے ہیں، افواجِ پاکستان ملکی خودمختاری اور سالمیت کے دفاع کے لئے پوری طرح تیار ہے،کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا، عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ اوراپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

مادرِ وطن کے امن و استحکام کے لئے شہدائے افواجِ پاکستان، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پاکستانی شہریوں کی لازوال قربانیوں کا ہم دفاع کرنے والے ہیں،اس خطے میں  درپیش خطرات سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس کا مفصل جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ علاقائی اور داخلی سلامتی کے منظر نامے پر ہماری نگاہیں لگی ہوئی ہیں۔ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) اور ورکنگ باؤنڈری کے پاس جو کچھ ہو رہا ہے، سب ہمارے علم میں ہے۔

  یوم یکجہتی کشمیر (5 فروری) کے موقع پر بھارت کو یہ بتا دینا چاہتے ہیں کہ کشمیر کے پُرعزم لوگوں کے ساتھ ہم مکمل اظہار یکجہتی کر رہے ہیں۔بھارت کی جانب سے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہیں اور انہیں خطے کے امن اور استحکام کے لئے ایک سنگین خطرہ سمجھتے ہیں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق، کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لئے ان کی جدوجہد میں پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے رہیں گے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزیوں سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون کی اہمیت پر بھی زور دیتے رہیں گے۔

بھارتی فوجی قیادت کے حالیہ عاقبت نا اندیش اور اشتعال انگیز بیانات کا بھی سخت نوٹس لیا جانا چاہئے،جو غیر ذمہ دارانہ اور علاقائی استحکام کے لئے نقصان دہ ہیں۔افواجِ پاکستان ملکی خود مختاری اور سالمیت کے لئے پوری طرح تیار ہے، ہمیں علم ہے کہ بھارتی فوج کے یہ کھوکھلے بیانات ان کی بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کرتے ہیں، اس قسم کے بیانات،اپنے عوام اور عالمی برادری کی توجہ بھارت کی اندرونی خلفشار اور اُس کی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کے لئے ہیں، کسی بھی مہم جوئی کا پاکستان مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گاکیونکہ عسکری قیادت قوم کو درپیش کثیرالجہتی چیلنجز سے مکمل طور پر آگاہ ہے، عسکری قیادت پاکستان کی قابلِ فخر عوام کی بھرپور حمایت کے ساتھ اپنی آئینی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لئے پُرعزم ہے۔

مئی 2025ء کے معرکہ حق میں پاکستان کا موقف صرف دفاعی یا ردِعمل پر مبنی نہیں تھا بلکہ سٹرٹیجک لحاظ سے موثر تھا،  لڑائی کے پہلے دن پاکستان نے ”پانچ“ بھارتی طیارے مار گرائے، پاکستان نے اچانک حملوں کے بعد دن کی روشنی میں ردِعمل دیا،  پاکستان کے فوجی ردِعمل میں اہم نکتہ  نظریاتی دفاع سے متعلق ہے اور ملک کی سلامتی اور نظریاتی مفادات کا دفاع ہماری پہلی ترجیح ہے اور کشمیر بھی پاکستان کا نظریاتی بازو ہے، اس کا دفاع ہمارا حق بھی ہے اور فرض بھی اور ہم اپنا یہ فرض بھی بخوبی نبھائیں گے۔

2

مزید :

ایڈیشن 1 -