عدالت کی اجازت کے بغیر نیب از خود انکوائری ڈراپ نہیں کرسکتا: لاہور ہائیکورٹ 

عدالت کی اجازت کے بغیر نیب از خود انکوائری ڈراپ نہیں کرسکتا: لاہور ہائیکورٹ 

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

                                                                                                لاہور(نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ میں چوہدری شوگر ملز کیس میں زر ضمانت کی واپسی کیلئے وزیر اعلی پنجاب کی درخواست پر سماعت،چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم کی سربراہی میں فل بنچ نے احتساب عدالت کو انکوائری ڈراپ کرنے اور زرضمانت کی واپسی کی بابت  30 روز میں فیصلہ کرنے کا حکم دے دیا،عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالت کی اجازت کے بغیر نیب از خود انکوائری ڈراپ نہیں کر سکتا، نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ چیئر مین نیب کو ریفرنس کیس واپس لینے وغیرہ واپس لینے کا اختیار ہے درخواست گزار کے خلاف ریفرنس انکوائری میں الزامات ثابت نہ ہوئے، چیئر مین نیب نے انکوائری واپس لینے کی منظوری دے دی، عدالت  نے نیب وکیل کے بیان کی روشنی میں انکوائری ڈراپ کر دی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ انویسٹی گیشن رپورٹ کی قانونی حیثیت کیا ہے؟ انکوائری رپورٹ میں کہاں انکوائری ڈراپ کی سفارش کی گئی؟ نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو  آگاہ کیا کہ نیب کے میٹنگ منٹس میں واضح لکھا ہے نیب  آپریشن  ونگ (بورڈ)کے فیصلے کی روشنی میں انکوائری ڈراپ کی گئی،چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے وزیر اعلی کی درخواست منظور کی،نیب فائل میں پراسیکیوٹر جنرل اور چیئر مین نیب کی سفارش موجود نہیں جسکی بنیاد پر انکوائری ڈراپ کی گئی،آپ انکوائری ڈراپ کرنے سے قبل عدالت سے منظوری لیتے، آج ہم زرضمانت واپس لینے کا حکم دیتے ہیں تو باتیں اٹھیں گی

 انکوائری ڈراپ

مزید :

علاقائی -