”جو معطل ہو گئے، جو بچا لیے گئے“

”جو معطل ہو گئے، جو بچا لیے گئے“
”جو معطل ہو گئے، جو بچا لیے گئے“

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

سعدیہ اور کمسن ردا فاطمہ کی موت کے بعد حکومتِ پنجاب نے جن محکموں کے خلاف کارروائی کی، وہ سب ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ ٹیپا اور ایل ڈی اے کے افسران معطل ہوئے، پانچ ذمہ داران کے خلاف مقدمات درج ہوئے، اور وزیراعلیٰ نے یہاں تک کہہ دیا کہ انہیں نوکری سے ہمیشہ کے لیے فارغ کیا جائے۔ یہ سب بظاہر ایک مضبوط اور قابلِ تحسین قدم ہے۔مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ انصاف مکمل ہے؟ یا پھر ایک بار پھر صرف وہی کٹہرے میں کھڑے کیے گئے جو نسبتاً کمزور تھے؟اس پورے سانحے میں ایک کردار ایسا ہے جس کے بغیر نہ صرف بیانیہ بنا، بلکہ ریسکیو آپریشن بھی متاثر ہوا اور وہ ہے پولیس۔حقیقت یہ ہے کہ سعدیہ کے شوہر غلام مرتضی کو موقع سے حراست میں لے کر اس پر تشدد کیا گیا، اس الزام میں کہ اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو قتل کیا ہے اور مین ہول میں گرنے کی کہانی گھڑ رہا ہے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سانحہ محض انتظامی غفلت نہیں رہا، بلکہ ریاستی جبر میں بدل گیا۔پولیس کے اسی بیانیے کے باعث موقع پر موجود ریسکیو ٹیم نے وقتی طور پر سرچ آپریشن معطل کیا۔ شوہر، اہلِ خانہ اور عینی شاہدین چیختے رہے کہ ماں بیٹی ان کی آنکھوں کے سامنے مین ہول میں گری ہیں، مگر پولیس ماننے کو تیار نہ تھی۔ روایتی تفتیش کے نام پر ایک ایسے شخص کو توڑا جا رہا تھا جو پہلے ہی سب کچھ کھو چکا تھا۔یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اگر سعدیہ اور ردا فاطمہ کی لاشیں نہ ملتیں، تو غلام مرتضی آج ایک اعترافی ملزم ہوتا۔روایتی تفتیش، تشدد اور دباؤ کے سامنے ایک غریب آدمی کب تک کھڑا رہتا؟کیا یہ سچ نہیں کہ وہ جو کچھ پولیس کہتی، آخرکار ماننے پر مجبور ہو جاتا؟ یہاں سوال صرف ایک ایس ایچ او کا نہیں۔پولیس کے اعلیٰ افسران مان رہے ہیں کہ ”غلطی ہو گئی“، متعلقہ حکام تسلیم کر رہے ہیں کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ مگر دو جانوں کے ضیاع پر محض زبانی اعتراف کافی نہیں ہوتا۔اگر صرف مقامی ایس ایچ او کو معطل کر کے باقی افسران کو بچا لیا گیا، تو یہ انصاف نہیں، مثال سے فرار ہے۔یہ پہلا موقع نہیں۔چند عرصہ قبل ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے ہاتھوں پیش آنے والے گھریلو سانحے میں بھی لاشیں ملنے کے باوجود قتل کا مقدمہ درج کرنے کے بجائے قانونی موشگافیوں میں معاملہ الجھایا گیا۔ اس وقت بھی صرف نچلی سطح پر کارروائی ہوئی، فیصلہ سازی کرنے والے محفوظ رہے۔آج تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جس بیانیے کی بنیاد پر پولیس نے غلام مرتضی پر تشدد کیا، اسی بیانیے کو حکومتی سطح پر بغیر مکمل تصدیق آگے بڑھا دیا گیا۔ایک ذمہ دار منصب پر بیٹھے عہدے دار کی جانب سے محض ابتدائی معلومات پر رائے قائم کرنا نہ صرف عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف تھا بلکہ اسی کا خمیازہ ایک بے گناہ شخص نے بھگتا۔ ریاستی اختیار اگر معلومات کے بغیر استعمال ہو تو وہ طاقت نہیں رہتا، ظلم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تاہم اس پورے اندھیرے میں ایک پہلو ایسا بھی ہے جسے نظرانداز کرنا ناانصافی ہو گی۔ ایم ڈی سیف سٹی  ڈی آئی جی احسن یونس نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سیف سٹی کیمروں کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی کہ سعدیہ اور اس کی کمسن بیٹی واقعی مین ہول میں گری ہیں۔ یہی وہ تکنیکی تصدیق تھی جس نے پورے کیس کی سمت درست کی اور ریسکیو و تحقیقاتی عمل کو دوبارہ پٹری پر ڈالا۔ڈی آئی جی احسن یونس کا یہ کردار کوئی اتفاق نہیں۔ اسلام آباد میں بطور آئی جی تعیناتی کے دوران بھی ان کی کارکردگی ایسی رہی کہ عہدے سے ہٹائے جانے پر اْس وقت  سپریم کورٹ کے جسٹس صاحبان  نے بھی ان کے کام کی تعریف کرتے ہوئے دوبارہ تعیناتی کی بات کی۔ آج اگر سیف سٹی منصوبہ مؤثر انداز میں کام کر رہا ہے اور وزیراعلیٰ پنجاب بھی اس کارکردگی سے مطمئن دکھائی دیتی ہیں، تو یہ اسی پیشہ ورانہ دیانت، مہارت اور کام سے لگن کا نتیجہ ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ دیگر افسران بھی اس طرزِ عمل کو محض سراہیں نہیں، بلکہ اپنائیں۔یہی وہ دوہرا معیار ہے جو عوام کا اعتماد توڑتا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب نے درست کہا کہ“ہم سب جواب دہ ہیں ”، مگر اب اصل امتحان یہ ہے کہ کیا یہ جواب دہی سب کے لیے برابر ہو گی؟اب یہ ذمہ داری نئے آئی جی پولیس پر عائد ہوتی ہے کہ وہ تشدد میں ملوث افسران کے خلاف واضح کارروائی کریں محض معطلی نہیں، فوجداری مقدمات درج ہوں یہ طے کریں کہ ریسکیو آپریشن میں مداخلت کس کے کہنے پر ہوئی سعدیہ اور ردا فاطمہ کا کیس صرف کھلے مین ہول کا نہیں، یہ کھلے نظام کا کیس ہے۔اگر یہاں بھی طاقتور بچ نکلے اور کمزور قربان ہو گئے، تو مان لینا چاہیے کہ مسئلہ صرف نالوں کا نہیں —انصاف کا ہے۔

مزید :

رائے -کالم -