بھارت میں جبری جنسی تشدد کے مجرموں کو سزائے موت دینے پر اتفاق نہ ہو سکا

بھارت میں جبری جنسی تشدد کے مجرموں کو سزائے موت دینے پر اتفاق نہ ہو سکا
بھارت میں جبری جنسی تشدد کے مجرموں کو سزائے موت دینے پر اتفاق نہ ہو سکا

  

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم اور اس قبیح عمل کے دوران آئے روز ہلاکتوں کے باوجود اس شرمناک فعل کی سزا میں اضافے پر اتفاق نہ ہو سکا۔ بھارت کی مرکزی حکومت کی طرف سے تمام ریاستوں کے چیف سیکرٹریوں اور پولیس کے سربراہوں کے خصوصی اجلاس میں خواتین کے خلاف جرائم خصوصاً جنسی تشدد اور ہلاکتوں کے معاملات کا جائزہ لیا گیا اور اس جرم سے متعلقہ قانون میں ترمیم پر غور کیا گیا۔ دن بھر ہونے والے اس اجلاس میں صرف دو چیف سیکرٹریوں نے تجویز پیش کی کہ خواتین سے جبری جنسی تشدد اور ہلاکتوں کے مجرموں کی سزا بڑھا کر سزائے موت کر دی جائے لیکن باقی چیف سیکرٹریوں اور پولیس کے سربراہوں نے چپ رہنے پر ہی اتفاق کیا۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شنڈے کا کہنا تھا کہ جنسی جرائم کے مجرموں کو سزائے موت دینے سمیت دیگر تجاویز چیف سیکرٹریوں اور پولیس کے سربراہوں کے سامنے پیش کی گئی تھیں تاکہ وہ اپنی سفارشات مرتب کر کے مرکزی حکومت کو بھجوائیں۔ بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق تمام ریاستی حکومتیں اور وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام کا خیال ہے کہ خواتین سے جبری جنسی تشدد کے ملزموں کو موت کی سزا ملنی چاہئے اور اس ضمن میں نہ کوئی رعایت کی جانی چاہئے اور نہ ہی ایسے کسی مجرم کو پے رول پر رہائی ملنی چاہئے۔واضح رہے کہ بھارت میں راہ چلتی، گھروں میں کام کرتی اور سفر کرتی خواتین بھی محفوظ نہیں ہیں اور ابھی چند روز قبل ہی بس میں ایک طالبہ کو جنسی اور جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جس سے اس کی جان چلی گئی اور پوری دنیا میں بھارت کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔

مزید :

بین الاقوامی -