مرغی خانہ اور سکول!

مرغی خانہ اور سکول!
مرغی خانہ اور سکول!

  

بقول وزیر آغا:” کلچر،زمین سے وابستہ ہونے کے باوجود ذہن کی برانگیختگی اور شخصیت کے بے محابا اظہار کی ایک صورت ہے، یہی وجہ ہے کہ کلچر ایک تخلیقی اٹھان اور اس کا وجود خلاق شخصیتوں کی مساعی کا مرہون ہے، مگر جب تخلیقی اٹھان معاشرے کے رگ و پے میں سرایت کر چکنے کے بعد قدرتی طور پر رقیق ہو جاتی ہے تو تہذیب کہلاتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کلچر قدروں کے اظہار کی ایک صورت ہے، جبکہ ان قدروں کے عوام کی سطح پر قبول ہونے کا عمل تہذیب کا عمل ہے“.... تہذیب کا ایک پیمانہ حکومت اور عوام میں قومی اہمیت کے مسائل اور وسائل کی ترجیح اور تربیت ہے۔ جب تہذیب ترقی کرتی ہے تو انصاف کے ساتھ صحت و تعلیم پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے، جس سے ملک کا اندرونی اور بیرونی دفاع مضبوط ہوتا ہے۔

پاکستانی معاشرے و کلچر میں تخلیقی اٹھان پر زیادہ انگریزی اور کم بجٹ غالب ہے، چنانچہ قومی ترجیحات کے صدقے غیر ملکی کلچر ٹی وی، کیبل اور انٹر نیٹ ہماری رگوں میں تیزی سے شامل ہو رہا ہے اور تہذیب ان تینوں کے رقیق مادے سے پنپ رہی ہے جو ایک معاشرتی تضاد اور اخلاقی و تہذیبی خلا کو جنم دے رہی ہے۔ اسی معاشرتی تضاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مَیں نے قومی ترجیحات میں مرغی خانے اور سکول کا موازنہ کیا ہے، جس سے ہماری نئی تہذیب کا خاکہ دیکھنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئے گی، جہاں ایک اخلاقی و تہذیبی خلا پیدا ہونے کو ہے جو صرف تباہ ہوتی تہذیبوں میں اتنا واضح نظر آتا ہے۔ اگر آپ نے پرائیویٹ سکول بنانا ہے تو اس کے لئے آپ کی جتنی کم تعلیم ہوگی، آپ کی کامیابی کے امکانات زیادہ ہوں گے۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ آپ کو حکومت کے تقریباً درجن بھر اداروں کے کلرکوں سے عزت نفس پر حملے خندہ پیشانی سے برداشت کرنے پڑیں گے، چونکہ کلرکوں کی عزت نہیں ہوتی، صرف نفس ہوتا ہے، جس کے لئے وہ زبان اور قانونی سینگ کا استعمال جب چاہے کر سکتے ہیں، اگر آپ نے ان کے نفس کا خیال نہ رکھا۔

ان اداروں میں عزت صرف افسروں کی ہوتی ہے، جس کی حفاظت وہ کلرکوں سے باہم معاہدے سے کرتے ہیں، چنانچہ وہ قانون، کلرکوں اور عوام کے درمیان حائل نہیں ہوتے اور اپنی عزت بچا کر دفتروں میں معاشرتی بے حسی و بے بسی پر تبصرے کرتے ہیں یا اپنے تبادلے کرواتے یا رکواتے ہیں۔ یوں عوام کی نہ عزت رہتی ہے اور نہ نفس، اسی لئے چاروں طرف نفانفسی کا عالم ہے۔ ان اداروں میں سب سے پہلے مالک مکان، پھر پراپرٹی ٹیکس والے، محکمہ تعلیم تک پہنچنے سے پہلے کسی آرکیٹیکٹ سے بلڈنگ کے محفوظ ہونے کا سرٹیفکیٹ، پھر اس کی بلڈنگ ڈیپارٹمنٹ سے تصدیقی سند، جو ہر دو سال بعد لازمی ہے، پھر ایل ڈی اے سے اجازت، جس کی فیس بھاری اور جرمانہ اس سے بھی بھاری اور حل صرف ماہانہ جرمانہ غیر سرکاری، اس کے بعد محکمہ تعلیم کے دورے کہ آپ کی گراو¿نڈ ہونی چاہئے، صاف ستھرے باتھ روم، لیبارٹری، لائبریری، قیمتی اساتذہ، اچھا فرنیچر اور اس سب کو چیک کرنے کی فیس جمع کروانے کے بعد انسپکشن ٹیم کے دورے کی تاریخ لینے کا مرحلہ، جس میں سرکاری و پرائیویٹ سکولوں کے اساتذہ شامل ہوتے ہیں۔ ان کو یکجا آنے کے لئے منانا اور تاریخ لینا اور پھر ان کی سواری کا بندوبست کرنا مالک سکول کی ذمہ داری ہے۔ اگر یہ مہر تسلی لگا دیں تو پھر محکمہ تعلیم کی اجازت مل جائے گی۔

اس کے بعد یہی سلسلہ پھر بورڈ آف سکینڈری ایجوکیشن سے چل نکلے گا اور یہ بھی حل ہوگیا تو پھر تیار رہیں کہ یہ سارا سلسلہ سال دو سال بعد پھر دہرانا پڑے گی۔ سکول کے لئے کوئی ادارہ قرضہ نہیں دے گا۔ کسی حکومتی ادارے سے چند سال کی رعایت نہیں ملے گی جو مرغی پال، مویشی پال، ٹریکٹر اور چھوٹے کاروباری لوگوں کو کچھ مدت کے لئے حاصل ہوتی ہے۔ اس مرحلے کے بعد بجلی، گیس، پانی والے آکر آپ کو کمرشل بل تھما دیں گے، جس کے ریٹ ڈبل کے قریب ہو جاتے ہیں اور جونہی آپ کو بچوں کا منہ دیکھنا نصیب ہوگا، انکم ٹیکس والے بھی آدھمکیں گے۔ اب ڈینگی سکواڈ بھی آپ کی کارکردگی دیکھنے ضرور آئے گا، کیونکہ چیف منسٹر کے سخت احکامات ہیں۔ سوشل سیکیورٹی والے بھی رجسٹریشن کے لئے دباو¿ ڈالنے پہنچیں گے۔ اس کے علاوہ آج کل کے والدین آپ کی گردن پر سوار رہنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔ بچے کی ہر کمزوری و بدتمیزی کا حساب آپ کو دینا ہوگا کہ انہوں نے آپ کی خدمات خرید رکھی ہیں۔ اب والدین میں بھی ہر محکمے اور قماش کے لوگ آپ کو دھمکیوں کی زد میں رکھیں گے۔

اس ساری کارروائی میں ایک قانونی تضاد قابل توجہ ہے اور وہ یہ سوال کہ حکومت کے اسی فیصد سکول قانونی بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، جبکہ حکومت ان کے لئے ٹیکس بھی لیتی ہے اور ووٹ بھی۔ وہاں عمارتوں کی ابتر صورت حال، پانی، بجلی اور دوسری بنیادی سہولتیں عوامی تنقید کی زد میں رہتی ہیں۔ پھر وہاں لاوارثوں کے بچے پڑھتے ہیں، چنانچہ ان سے کوئی تعلیمی معیار کے بارے میں نہیں پوچھتا، نہ حکومت، نہ والدین۔ قومی بجٹ میں تعلیمی بجٹ کا حصہ وزیراعظم، صدر، گورنرز، چیف منسٹرز اور منسٹرز کی تنخواہوں، مراعات، دوروں اور پروٹوکول کے اخراجات کے قریب قریب ہے۔ اس کے برعکس مرغی خانہ آپ بانس گاڑ کر کسی بھی ویران جگہ کھول سکتے ہیں۔ کسی ادارے کی اجازت نہیں چاہئے۔ کوئی آپ کی پڑتال کرنے نہیں آئے گا۔ اگر ذرا بڑا مرغی خانہ بنانا ہے تو حکومت اور بینک سہولتیں دینے کو مچلیں گے، نہ آپ کو گاہکوں کا خطرہ، نہ حکومت کا۔ ٹیکس اور محکمہ صحت والے آپ کے قدرتی پارٹنر بن جائیں گے۔ مشکل میں آپ کو سیاسی پناہ بھی مل سکتی ہے اور قرضوں کی معافی کی رعایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔

کسی سیانے نے ہمیں سمجھایا کہ مرغی خانے اس لئے سیاسی لوگوں کو بھاتے ہیں کہ مرغیوں کے ووٹ نہیں ہوتے، جبکہ سکولوں میں پڑھنے والوں کے ووٹ ہوں گے اور پڑھے لکھے ووٹ کو بے وقوف بنانا خود بے وقوف بننے کے برابر ہے، لہٰذا حکومت کی ترجیحات اپنے مفاد میں بالکل ٹھیک ہیں اور اس سلسلے میں سیاسی، نیم سیاسی، ٹیکنوکریٹ اور ڈکٹیٹر حکومتوں میں ہمیشہ سے یکجہتی رہی ہے، لیکن میری پڑھے لکھے لوگوں سے گزارش ہے کہ وہ قومی بھلائی کے لئے سکولوں کی بجائے مرغی خانے کھولیں، جن کی مانگ اب خوش حال ملکوں میں بہت زیادہ ہے۔ ویسے بھی خوش حال ملکوں نے مرغیاں پالنا بند کر دی ہیں، وہ تعلیمی ادارے بنانے پر توجہ دے رہے ہیں تاکہ وہاں ہمارے بچے پڑھ سکیں، یوں وہ ہماری قوم کے لئے نئے روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، جن کو ہماری حکومت اور عوام کو بھرپور طریقے سے بروئے کار لا کر قیمتی زر مبادلہ کمانا چاہئے، جس کی حکمرانوں اور حکومت کو اشد ضرورت ہے۔  ٭

مزید :

کالم -