”جونیئر زرداری“میدان سیاست میں

”جونیئر زرداری“میدان سیاست میں
”جونیئر زرداری“میدان سیاست میں

  

گڑھی خدا بخش میںاپنی والدہ کے مقبرے سے کچھ دُور بلاول بھٹو زرداری خارزار سیاست میں اترنے کا اعلان کر رہا تھا۔ دراز قد اور خوبرو بلاول بھٹو زرداری بے نظیر بھٹو کے لہجے کی اُردو میں اچھی طرح یاد کی ہوئی تقریر کر رہا تھا اور سامنے جیالوں کا ٹھنڈ اٹھار ہجوم ”جونیئر زرداری“ میں بھٹو تلاش کررہا تھا۔

بلاول بھٹو زرداری کی ماں کو بڑے مختلف حالات میں پارٹی قیادت ملی تھی۔محترمہ بے نظیربھٹو 29سال کی عمر میں 1982ءمیں شریک چیئرمین بنیں،تین سال پہلے والد کی پھانسی کے زخم ابھی تازہ تھے اورجنرل ضیاءالحق کے مارشل لاءکا قہربھی جاری تھا۔پیپلزپارٹی کا نام لینا گرفتاریوں اور کوڑو ں کو دعوت دینا تھا۔ ذوالفقارعلی بھٹو کی ”پنکی “نے بڑی جرا¿ت سے حالات کا مقابلہ کیا۔ دبی اور سہمی پارٹی کے کارکنوں کا حوصلہ بلند رکھا ۔ 1986ءمیں لاہور اتریں توبے نظیر استقبال کیا گیا۔ 2دسمبر 1988ءکو ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کی حیثیت سے حلف اٹھایا، لیکن اگست 1990ءمیں ان کی حکومت برطرف کر دی گئی۔ دوسری بار 19اکتوبر 1993ءکو وزیراعظم بنیں، مگر نومبر 1996ءمیں دوبارہ حکومت سے بے دخل کردیا گیا۔دونوں بار برطرفی کی وجوہات میں کرپشن کا الزام اور اس میں ایک نام نمایاں تھا۔

 محترمہ بے نظیر بھٹو کو والد کی سیاست کو قریب سے دیکھنے اور سیکھنے کا کافی وقت ملا تھا۔والد کے ساتھ قومی اور عالمی حالات پر سیر حاصل گفتگو ہوتی، لیکن بلاول بھٹو زرداری کو والدہ سے سیکھنے کا موقعہ نہیں ملا،والدہ نے اسے ہمیشہ پڑھائی پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی۔ بلاول بھٹو زرداری سیاست میں اترے ہیںتو انہیں بے نظیر بھٹو جیسے سخت حالات کا سامنا نہیں ہے، آسائشوں میں پلے اور بڑھے فرزند کے سر پر والد کی چھتر چھایا بھی موجود ہے، جوملک کے سب سے طاقتور عہدے پر بیٹھے ہیں۔ پانچ سال پہلے والدہ کی شہادت کے زخم پرانے نہیں، مگراس وقت ٹیسیں شائدزیادہ اٹھتی ہوں، جب یہ احساس کچوکے لگاتا ہو کہ حکومت قاتلوں کا سراغ نہیں لگا سکی۔

بلاول بھٹو زرداری کی اسائنمنٹ مگر سخت ہے.... والد نے اپنی حکومت کی نااہلی اور مایوس کن کارکردگی کا بوجھ اس کے نازک کندھوں پر ڈال دیا ہے ۔اسے کارکردگی کا دفاع کرنا ہے، رنگین اصطلاحوں میں لپیٹ کر پیش کرنا ہے ۔ اسے ایسی زبان میں تقریر کرنا ہے جو اس کے لئے بولنا اور پڑھنا آسان نہیں،ایسے لوگوں کو خطاب کرنا ہے، جن کو وہ بہت کم جانتا ہے ۔پھر بھی اس نے عوام کے جذبات کو ابھارنا ہے ،پارٹی کے لئے دلوں کو نرم کرنا ہے کہ وہ اس کی پانچ سالہ کارکردگی کو نظر انداز کردیں۔عوام اپنی حالت ،اپنی محرومیوں کو بھول کر بے نظیر بھٹو کے لعل کو دیکھیں،اپنے بچوں کے زرد چہروں، بوسیدہ کپڑوں ،ٹوٹے جوتوںاور خالی ہاتھوں کو دیکھنے کے بجائے بن ماں کے بچے کی دہائی کو سنیں، جو پانچ سال بعد جھولی پھیلائے آپ سے اپنے والد کے لئے مزید پانچ سال مانگنے آیا ہے۔ والدکی حکومت کی نااہلی کو نہ دیکھیں،اربوں روپے کی کرپشن نہ دیکھیں،کھوکھلے ہوتے اداروں کو نہ دیکھیں،شہروں میں گرتے لاشوں کو نہ دیکھیں ،بموں سے اڑتے سکول،گولیوں کا نشانہ بنتے بے گناہوں کو نہ دیکھیں ،پسماندگی میں رینگتے ،سسکتے کروڑوں بچوں کو نہ دیکھیں،بس بے نظیر بھٹو کے بچوں کو دیکھیں ۔

 بلاول بھٹو زرداری کی اسائنمنٹ اس لئے بھی سخت ہے کہ اسے پارٹی کو ایک بار پھر مظلوم بناکر پیش کرنا ہے۔ پورے پانچ سال حکومت میں رہنے کے بعد کرپشن کی اَن گنت داستانوں،نااہل تقرریوں،بے دریغ یار نوازی،کھوکھلی پالیسیوں اورنیم دلانہ اقدمات کے باوجود بھی خود کو مظلوم بنا کر پیش کرنا ہے ۔ گڑھی خدا بخش میں صدر آصف علی زرداری بڑے مسرور تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی پڑھائی مکمل کرلی ہے اور اب ان کی تربیت کا وقت آگیا ہے۔ظاہر ہے ان کی سب سے زیادہ تربیت خود والدآصف علی زرادری کریں گے۔محترمہ کو ان کے والد کی تربیت ملی....جیسا والد ویسی بیٹی، جبکہ بلاول بھٹو زرداری کو ان کے والدتربیت دیں گے....جیسا والد ویسا بیٹا....والد اپنے بیٹے کو رموزسیاست سکھائیں گے کہ کس طرح سیاست دانوں کو مائل اور قائل کرنا ہے ، کس طرح وعدے کرنا ہے اور انہیں کس طرح اور کس وقت تک نبھانا ہے،مفاہمت کی سیاست کیسے کرنی ہے ، کیسے افراد کو قریب لانا اور نوازناہے، کس کو کلیدی عہدے پر لگانا ہے اور پھر کس طرح کے کام لینا ہیں؟

 والد نے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو امورمملکت کی نزاکتیںسمجھانا ہیں،تلخ تجربات سے اخذ سبق سکھاناہیں اور مردان کار کی پہچان بتانا ہے، تب جاکر ہمیں ایک تربیت یافتہ سیاست دان ملے گا، جو ہمارے نہیں تو ہمارے بچوں پر حکمرانی کی جد وجہد کرے گا .... کہ وہ حکمرانی کے لئے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ کچھ افراد اور طبقات پیدائشی طور پر حکمران ہوتے ہیں اور کچھ پیدائشی کمی،کمین،محکوم اور محروم۔یہی محکوم جمہوریت کا ایندھن ہیں،ان کو غربت اور محرومی کی بھٹی میں جلایا جائے گا توان کے خا لی پیٹوں سے نعرے نکلیں گے اور جمہوریت چمکے گی۔

جونیئر زرداری نے کہا کہ ہمارا نعرہ روٹی کپڑا اور مکان ہی رہے گا،لیکن 40سال پہلے والے نعرے میں اب وہ دلکشی اوربانکپن نہیں رہا۔ چار بار حکومتیں ملنے کے باوجود روٹی کپڑا اور مکان عوام کی پہنچ سے دُور ہی ہوتا گیا۔ پاکستانی سیاست اب نہ ستر والی ہے، نہ اسی اور نوے والی۔اس میں بہت سے نئے عوامل، نئے ایشوز، نئے نعرے اور نئے کھلاڑی آگئے ہیں۔عوام کا شعور بڑھ گیا ہے اور احساس محرومی بھی،اب وہ پرانے منتروں کے سحر میں نہیں آئیں گے ۔ پرانے نعرے کو اپنانے کا مطلب ہے کہ آپ کے پاس نئے چیلنجوں کے حل کے لئے نئی سوچ اوراپروچ نہیں ہے۔بے نظیر بھٹو زیرک رہنما تھیں،بدلے ہوئے حالات کے مطابق ویژن اور پالیسی بناتیں۔انہوںنے2008ءکے انتخابات کے لئے پرانا نعرہ زندہ کرنے کی کوشش نہیں کی، بلکہ پانچ ”ای“ کا منشور پیش کیا تھا ....جس میں ایجوکیشن، انرجی، ایمپلائنمنٹ ،مساوات اورماحولیات شامل تھے۔

اب بلاول بھٹو زرداری بھی اپنی آکسفورڈ کی تعلیم کوبروئے کار لاکر نئے راستے تخلیق کرسکتے ہیں، مسائل کے نئے حل پیش کرسکتے ہیں.... لیکن ہماری فیوڈل کلاس دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں پڑھ کر بھی اپنے ملک میں روایتی طرز سیاست نہیں بدلتی.... جونیئر زرداری کے سامنے ایک حوصلہ شکن چیلنج والدکی حکومت کی کارکردگی بھی ہے ۔حکومت کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سے پارٹی کی مقبولیت کا گراف بہت نیچے آگیا ہے۔ ساکھ اسی صورت میں بہتر بنائی جاسکتی ہے کہ وہ اپنی حکومت کی ناکامیوں کو تسلیم کریں،اس پر تنقید کریں اور اپنی ماں کی طرح نیا ویژن متعارف کرائیں ،چاہے وہ الفاظ کی حد تک ہی پُرکشش ہو۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ سیاسی شہادتوں کی تاریخ رکھنے والی 45سالہ پارٹی کے 24سالہ نوجوان چیئرمین ”بلاول بھٹو زرداری“بھٹو کے ورثے کو بڑھائیں گے ،والدہ کے سبق آزمائیں گے یا والد کے درس اپنائیں گے؟ ٭

مزید :

کالم -