کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارک اور میڈیا!

کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارک اور میڈیا!
کرکٹ ٹیم کی جیت پر مبارک اور میڈیا!

  

پاکستان کرکٹ ٹیم بھارت کے دورے پر تھی۔ پہلا ٹی ٹوئنٹی جیت چکی تھی اور دوسرا جاری تھا۔ شادی کی تقریب میں ہم بہت سے لوگ جمع تھے اور کرکٹ پر بات ہو رہی تھی۔ ایک سابق بیورو کریٹ، جن کی زیادہ ملازمت پولیس سروس میں تھی، کہہ رہے تھے کہ پاک بھارت کرکٹ سیریز فکس ہے، دونوں ملکوں کے بورڈ یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی برابر ہوگی اور ایک روزہ بین الاقوامی میچوں کی سیریز بھارت جیتے گا۔ پہلا میچ پاکستان دوسرا بھارت جیت جائے گا۔ یوں دہلی میں 6 جنوری کو ہونے والا میچ فائنل کی شکل اختیار کرجائے گا اور یہ بھارت جیتے گا۔ اس وقت دوسرا ٹی ٹوئنٹی جاری تھا اور میچ کا کچھ بھی فیصلہ ہو سکتا تھا۔ بہرحال تھوڑی دیر بعد ہی ہمارے بھانجے آئے تو یہ خبر لے کر آئے کہ میچ بھارت نے گیارہ رنز سے جیت لیا ہے۔ اس کے بعد یہ صاحب رُک ہی نہیں پا رہے تھے اور مسلسل اپنی تھیوری پر مصر تھے۔ ہم نے بہت کوشش کی کہ یہ باور کراسکیں کہ اب دنیا میں ایسا نہیں ہوتا اور جہاں تک فکسنگ کا تعلق ہے تو پوری ٹیم کو اس پر آمادہ نہیں کیا جاسکتا کہ وہ سیریز ہی ہار جائے، اس لئے فیصلہ کھیل کے میدان میں ہوتا ہے اور جہاں تک پاکستان اور بھارت کا سوال ہے تو ان دو کے درمیان ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ جو ٹیم اچھا کھیلے گی وہ جیتے گی۔ وہ صاحب مان ہی نہیں رہے تھے۔

اس محفل میں اور بھی بہت سے لوگ ان کے ہمنوا تھے اور دوسرا میچ ہارنے پر دل برداشتہ سے تھے۔ ہم نے گزارش کی کہ اس وقت پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیمیں ایک دوسرے کے مقابلے میں متوازن ہیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کو باو¿لنگ میں اور بھارتی کرکٹ ٹیم کو بیٹنگ میں تھوڑی برتری حاصل ہے، تاہم بھارتی ٹیم برطانیہ کی ٹیم کے سامنے یہ ثابت کر چکی کہ وہ تیز باو¿لروں کو اچھا نہیں کھیل پا رہی۔ پاکستان کے پاس عمر گُل، جنید خان اور دوسرے فاسٹ باو¿لرز بھی ہیں۔ سپین باو¿لنگ میں سعید اجمل کا ساتھ دینے کے لئے محمد حفیظ بھی ہیں۔ بہرحال یہ بحث ختم نہ ہوئی اور سب اپنی اپنی رائے پر مُصر رہے اور پاکستان کرکٹ ٹیم میں کیڑے نکالتے رہے، تقریب ختم ہونے پر اپنے اپنے گھر چلے آئے۔

 اب جو صورت حال بنی، اس میں پاکستان کرکٹ ٹیم نے پہلے دونوں ایک روزہ انٹرنیشنل میچ جیت کر تین میچوں کی سیریز جیت لی ہے اور اتوار کو اب تیسرا میچ ہونا ہے۔ پاکستان جیتا تو وائٹ واش، اگر بھارت نے جیت لیا تو آنسو پونچھنے والی بات ہوگی کہ سیریز کا فیصلہ تو ہو چکا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے بلاشبہ اچھی اور بہتر کارکردگی سے دونوں میچ جیتے اور کھیل میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے، جو ٹیم وقت پر اچھا کھیل جائے، اسے فتح مل جاتی ہے اور ایسا ہی ہوا ہے۔ اب اس فتح پر پاکستانیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور یہ فطری بات ہے کہ پاکستان اور بھارت ہمیشہ سے حریف رہے ہیں۔ پاکستان جیتا ہے تو ٹیم کی تمام کوتاہیوں اور غلطیوں پر پردہ پڑ گیا۔ بھارت ہار گیا تو ٹیم سخت ترین تنقید کی زد میں ہے، حتیٰ کہ دھونی کو کپتانی سے ہٹانے کا مطالبہ کیا جانے لگا ہے۔ پاکستانیوں نے تو اپنے انداز ہی سے خوشی منائی ہے۔ یہاں بھنگڑے بھی ڈالے گئے، ناچ بھی ہوئے اور پھر ہوائی فائرنگ سے بھی لطف اندوزہوا گیا۔ کرکٹ ٹیم کی جیت نے میچ فکسنگ کہنے والوں کے بھی منہ بند کر دئیے ہیں۔ ہم اس جیت پر پاکستان کرکٹ ٹیم کو دلی مبارکباد دیتے اور اس سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کھیل کو مزید نکھارے گی اور دنیائے کرکٹ میں پھر سے نام پیدا کرے گی۔ ابھی ٹیم نے جنوبی افریقہ اور پھر ویسٹ انڈیز جانا ہے، اس لئے کھلاڑیوں کو محنت کرنا ہے تو بورڈ اور سلیکٹر حضرات کو بھی ٹیم سے چناو¿ اور تربیت پر توجہ دینا ہوگی۔

 اس سلسلے میں یہ گزارش کرنا ہے کہ اگر بورڈ نے سابق کپتان انضمام الحق کو بیٹنگ کوچ کے لئے چنا ہے ، یہ تقرری عارضی ہی سہی، لیکن بہتر ہوگا کہ ٹیم کی سلیکشن کے حوالے سے بھی ان سے پوچھ لیا جائے، چاہے ان سے رائے آف دی ریکارڈ ہی لی جائے۔ ہمیں ان کا یہ تبصرہ اچھا لگا کہ ایک روزہ میچ میں فطری سٹروک پلیئر ہونا ضروری ہے۔ اظہر علی، یونس خان، مصباح الحق اور شعیب ملک ایک ہی مزاج اور انداز کے کھلاڑی ہیں۔ مڈل آرڈر میں فطری سٹروک پلیئر کا ہونا ضروری ہے، اس لئے عمر اکمل کو نظر انداز نہ کیا جائے اور کامران اکمل کے بیٹنگ آرڈر پر بھی توجہ دی جائے۔ ٹیم سولہ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے اور آج کے دور میں جب تینوں قسم کے میچوں کے لئے الگ الگ کھلاڑی چن کر ٹیمیں بنائی جاتی ہیں تو یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ انضمام الحق نے یونس خان کے تجربے کی روشنی میں ان کو تین نمبر پر کھلانے کی تجویز دی ہے، جو بہتر ہے۔ بہرحال یہ بورڈ اور سلیکشن کمیٹی کام ہے جو خود ماہر ہیں۔ ہم تو یہی کہیں گے کہ حفیظ تجربہ کار ہو چکا۔ ناصر جمشید اپنے فطری کھیل میں بہتر ہوگیا ہے، جبکہ عرفان اور جنید خان کی شکل میں اچھے باو¿لر مل گئے ہیں۔ اب اور بھی ضروری ہوگیا ہے کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کی صحیح اور درست تربیت کا انتظام کیا جائے تاکہ یہ قومی اثاثہ ثابت ہوں اور ان کی کارکردگی ٹیم کے لئے مفید ثابت ہو سکے۔

ہمارا تعلق میڈیا سے ہے اور ہم میڈیا کے رویے کے بارے میں بات کرنے سے نہیں رہ سکتے۔ یہ خوشی اور مبارک کی بات ہے کہ پہلے ہاکی ٹیم نے ایشئن کپ ہاکی میں بھارت کو ہرا کر چیمپیئن شپ جیتی اور اب کرکٹ ٹیم بھی سرخرو ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں جو امر ملحوظ خاطر رکھنے والا ہے، وہ یہ ہے کہ میڈیا کی ذمہ داری بہت زیادہ ہے۔ ہم دو ایسے ہمسائے ہیں جو آپس میں دو سے زیادہ جنگیں لڑ چکے، پھر دہشت گردی اور تخریب کاری کی وارداتیں ہوں تو ایک دوسرے کے خلاف ہی شبہ ظاہر کیا جاتا ہے۔ تعلقات خراب ہیں جو اب آہستہ آہستہ بہتر ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان کئی متنازعہ امور ہیں، جن کو حل ہونا ہے۔ ایسے میں اگر تعلقات میں بہتری کے لئے کوئی عمل شروع ہے تو ہم میڈیا والوں کو اس میں تعاون کرنا چاہئے اور اپنے قومی مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے، لیکن دونوں طرف کیا ہو رہا ہے۔ کھیل کو ہی جنگ بنا دیا گیا۔ بھارتی میڈیا ہم سے کئی ہاتھ آگے نکل گیا۔ ایک طرف گالیاں تک دی گئیں، ادھر ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا نے ایسی ایسی پٹیاں چلائیں اور ایسی سرخیاں جمائیں کہ 1965ءکی جنگ یاد آگئی۔ لاہور پریس کلب اور چندی گڑھ پریس کلب نے قریباً چار پانچ بار بھارت اور پاکستان میں مجالس مذاکرہ اور آپس میں مذاکرات کا اہتمام کیا۔ ہر مرتبہ میڈیا کے کردار پر بات کی گئی اور یہی درخواست کی گئی کہ میڈیا مفاہمت میں اپنا کردار ادا کرے۔ دونوں ممالک کے عوام جنگ نہیں، امن چاہتے ہیں۔ اس لئے میڈیا کو اپنا کردار عوامی اُمنگوں کے مطابق رکھنا اور ماحول کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس سلسلے میں جیت کی خوشی بھی ہو، لیکن سرخیاں جمانے اور پٹیاں چلانے میں احتیاط کی جائے۔ ایک مرتبہ پھر قوم کو مبارک باد دیتے ہوئے اپنے دوستوں سے نرم روی کی استدعا ہے۔ ٭

مزید :

کالم -