2013ءسے ایک مکالمہ

2013ءسے ایک مکالمہ
2013ءسے ایک مکالمہ

  

٭....سال 2013ءجی....سنائیے معاملات کیسے چل رہے ہیں؟

O.... ابھی تو صرف چار دن ہوئے ہیں چارج سنبھالے، معاملات کو دیکھ رہا ہوں، کچھ دن بعد ہی سمجھ آئے گی۔

٭....ارادے کیا ہیں؟

O....ارادے تو بہت نیک ہیں، باقی اللہ کی مرضی۔

٭....14 کو کیا کر رہے ہیں؟

O....ابھی تو کچھ پتہ نہیں، البتہ شیڈول خاصا سخت ہے، دیکھتا ہوں کیا ہو سکتا ہے۔

٭....سال تو آتے ہی رہتے ہیں، تاہم آپ کی تو شان ہی نرالی ہے، ہر کوئی آپ کے گُن گا رہا ہے، صدقے واری جا رہا ہے، کیا محسوس کرتے ہیں؟

O....ہاں یہ ہے تو فخر کی بات کہ مجھے ایک تاریخی اہمیت حاصل ہو رہی ہے، انتخابات تو میرے بھائی 2008ءکے نصیب میں بھی آئے تھے، مگر جو بات میرے انتخابات میں ہوگی وہ بلخ نہ بخارے۔

٭....کیا انتخابات ہو جائیں گے؟

O....کم از کم مجھے تو ان کے ہونے میں کوئی شک نہیں۔

٭....لیکن دوسروں میں شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔

O....میرا ذاتی خیال ہے کہ انتخابات کو مجھ سے چھیننا اب ممکن نہیں، اس کی کوئی بھی سپورٹ نہیں کرے گا۔

٭....آپ عجیب بات کر رہے ہیں، ڈاکٹر طاہر القادری اور الطاف حسین کو بھول گئے، جنہوں نے انتخابات سے پہلے انقلاب کا نعرہ لگادیا ہے۔

O....مجھے اُن سے کوئی خطرہ نہیں۔ وہ دونوں بھی انتخابات کو ملتوی کرنے کی بات نہیں کر رہے، البتہ شفاف بنانے کا مطالبہ ضرور کر رہے ہیں اور یہ بات سبھی کہتے ہیں۔ رہی بات اُن کے لانگ مارچ کی تو جتنا بھی لانگ مارچ کریں، اب کبھی کوئی مارچ کسی کوئیک مارچ کی بنیاد نہیں بن سکے گا۔

٭....یہ آپ کس طرح کہہ سکتے ہیں؟

O....اس لئے کہ مَیں 2013ءہوں۔ انتخابات کا سال، اب کس الزام اور کس وجہ سے کوئیک مارچ ہو سکتا ہے۔ اگر موجودہ سیٹ اَپ خراب ہے تو اُس کے بارے میں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، وہ خود بخود ختم ہونے جا رہا ہے۔ اب ایک ختم ہونے والی چیز کو ختم کرنے کے نام پر کیا مارشل لاءلگ سکتا ہے۔ یہ تو کوئلے کی دلالی میں منہ کالا کرنے والی بات ہوگی۔ ویسے بھی انتخابات کے لئے عوام ذہنی طور پر تیار ہیں اور اس بار عوام کے اندر یہ شعور پروان چڑھ چکا ہے کہ انہوں نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دینا ہے۔ میری ذاتی رائے یہ ہے کہ عوام کو اپنے ووٹ کی اہمیت کا آج جتنا احساس ہے، اس سے پہلے کبھی نہیں تھا۔

٭....کیا آپ کو اس بات کا افسوس ہوتا ہے کہ تبدیلی کا سال قرار پانے کے باوجود14 جنوری جیسی احتجاجی کالیں دی جا رہی ہیں اور خواہ مخواہ آپ کے حوالے کو متنازعہ بنایا جا رہا ہے۔

O.... افسوس تو ہے، آخر ڈاکٹر طاہر القادری نے مجھے ہی اس کرم فرمائی کے لئے کیوں منتخب کیا؟ یہ کام وہ پچھلے سال دسمبر یا اس سے پہلے کے کسی جنوری میں بھی کر سکتے تھے۔ مجھے منتخب کرتے ہوئے انہوں نے میری رائے تک نہیں لی۔ میری رائے لی ہوتی تو مَیں انہیں مشورہ دیتا کہ وہ اس نکتے پر مہم چلائیں کہ انتخابات بروقت اور شفاف ہونے چاہئیں۔ وہ حکمرانوں کو الٹی میٹم دینے کی بجائے عوام کو یہ وارننگ دیتے کہ اگر اس بار بھی انہوں نے اپنے ووٹ کا صحیح استعمال نہ کیا تو حالات پھر کبھی ٹھیک نہیں ہوں گے۔

٭....خیر چھوڑئیے یہ بتائیے کہ پاکستان کے ساتھ آپ کیا سلوک کریں گے؟

٭....مجھے بہت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑتا ہے کہ آپ لوگ ہر گزرے ہوئے سال کو یہ طعنہ دیتے ہیں کہ وہ پاکستان کے لئے اچھا نہیں رہا۔ یہ بات تو اکثر کہی جاتی ہے کہ پاکستان کوقائم ہوئے 65 برس گزر گئے، مگر ابھی تک یہ کسی نوزائیدہ ملک کی طرح ڈانواڈول ہے۔ یہ تماشا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ نئے سال کی آمد پر بڑے زور شور سے یہ کہا جاتا ہے کہ ملک کی سیاسی، معاشی اور معاشرتی زندگی کے لئے سنگِ میل ثابت ہوگا، لیکن جب وہ سال گزر جاتا ہے تو اسے ناکام سال کہہ کر اخبارات یہ سرخیاں جماتے ہیں کہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اور ہنگامہ خیز سال ماضی میں ڈوب گیا۔ یہ وہی صورت حال ہے جو کسی علاقے میں نئے ایس ایچ او کی آمد پر پیدا ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ بڑھک مارتا ہے کہ اپنے علاقے میں جرائم پیشہ افراد کو جینے نہیں دے گا۔ دوسری طرف لوگ اُس کی ان بڑھکوں سے اس خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ نئے ایس ایچ او کے آنے سے امن و امان کی صورت حال مثالی ہو جائے گی، حالانکہ ایس ایچ او کے اپنے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں اور وہ پولیس کے اس نظام میں بُری طرح جکڑا ہوتا ہے، جس میں عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش سرے سے موجود ہی نہیں۔میری صورت حال بھی کچھ اسی قسم کی ہے۔ سال بذاتِ خود کچھ نہیں ہوتا، اسے تو آپ جیسا چاہیں بنا لیں اور جیسے چاہیں گزار سکتے ہیں، مگر اس کے باوجود پوری قوم نے مجھ2013 سے اَن گنت توقعات باندھ لی ہیں۔ میری تو خواہش ہے کہ سب اچھا رہے، لیکن اب معلوم نہیں یہ ڈیڈ لائنیں دینے والے مجھے کیسے گزارنا چاہتے ہیں؟

٭.... کہا یہ جاتا ہے کہ نئے سال کو بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں، آپ کن چیلنجوں میں گھرے ہوئے ہیں؟

O....ارے بھائی مَیں تو ایک مسکین سا سال ہوں، لیکن یہ بھی درست ہے کہ مجھ پر عجیب و غریب ذمہ داریاں ڈال دی گئی ہیں، مثلاً اب یہی دیکھئے کہ ملک کے تین بڑے میری موجودگی میں اپنے عہدوں سے سبکدوش ہوں گے۔ اگر اس میں وزیراعظم کو بھی شامل کر لیں تو چار ہوئے اور نگران وزیراعظم کو ڈالیں تو پانچ ہوں گے۔ پرانی اسمبلیوں کو بھی مَیں نے ہی رخصت کرنا ہے اور نئی اسمبلیوں کا استقبال بھی مجھ غریب کو ہی سونپا گیا ہے۔ میری مثال تو ”اک جندڑی تے دُکھ ہزار“ والی ہے۔ اگر ذرا سی بھی کہیں گڑ بڑ یا کوتاہی ہوگئی تو مجھے تاریخ میں ایک بُرے سال کے نام سے یاد رکھا جائے گا۔ اس لئے مَیں آپ کے ذریعے اپنے تمام سیاسی بھائیوں سے کہتا ہوں کہ وہ جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے آگے ہاتھ جوڑنے کو تیار ہوں۔ وہ میرے حال پر رحم کریں اور مجھے انتخابات کا سال ہی رہنے دیں۔

O....کمال ہے آپ صدر آصف علی زرداری صاحب کے ہوتے ہوئے اس قدر خوفزدہ اور پریشان ہیں۔ انہوں نے گزشتہ پانچ برسوں میں کچھ نہیں ہونے دیا تو اب کیا ہونے دیں گے؟

٭....مجھے تو آپ کے بھولپن پر ہنسی آ رہی ہے۔ مجھے سب سے زیادہ خطرہ تو ہے ہی آصف علی زرداری کی وجہ سے۔

O.... ہیں، یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں، اُن کی وجہ سے کیسا خطرہ؟

٭....دیکھو اگر آصف علی زرداری 2013ءمیں نہیں جاتے تو اگلے پانچ برس بھی اُن کے ہوئے، اس لئے اگر کچھ لوگ انہیں میری جھولی میں ڈال کے رخصت کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، تو پھر اُن کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت کچھ رخصت ہوگا، جن میں خود انتخابات بھی شامل ہیں اور مَیں غریب بڑوں کی اس لڑائی میں منی کی طرح مفت میں بدنام ہو جاو¿ں گا۔ ٭

مزید :

کالم -