ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا
ہو رہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائیں کیا

  

مَیں نے شاید اپنی زندگی میںکبھی کسی بھی شخص کو،جو مذہبی حلیے میںہو، اچھے الفاظ میں یاد نہیں کیا ، لیکن دیوالیہ پن کی شکار ہماری سیاست ہمیں اِس مقام پر لے آئی ہے کہ اب ملا اور مولوی اچھے لگنے لگ گئے ہیں.... ”انقلابات ہیں زمانے کے“!.... مصنف ہوریس والپول کا کہنا ہے ” انگلستان ایک اچھا ملک ہے اور مَیں اُسے پسند کرتا ،اگر اُس میں انگریز نہ ہوتے“....پسند کے اِسی پیمانے کے مطابق مَیں بھی پاکستانی جمہوریت کو پسند کرتا، اگراِس میں اتنے ”رستم زماں “ نہ ہوتے۔ آج پاکستانی جمہوریت کے خدوخال سوائے اِس کے اور کیا ہیں کہ ایک طرف نواب شاہ کا ”نواب “ ہے تو دوسری طرف رائے ونڈ کا ” راجہ “ ہے۔ جہاں تک ملک کو درپیش خطرات کا تعلق ہے تو ہمارا سب سے بڑا خطرہ ، یا دشمن بیرونی نہیں، بلکہ اندرونی ہے .... اور یہ دہشت گردی ہے جس کے بارے میں ہر طلوع ہوتے ہوئے سورج کے ساتھ ہم مزید تذبذب کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جمہوریت کے دونوں پیرائے نواب شاہی اور رائے ونڈی.... اِس سے نمٹنے کے لئے ایک جیسی پالیسی ہی رکھتے ہیں، جو ”دیکھو اور انتظار کرو“کے سوا کچھ اور نہیں۔

جمہوریت کے اِن مسند نشینوںکے بعد اُن کے ہونہار سجادہ نشین بھی ”خلافت “ کے لئے تیار ہیں۔اِس کا مطلب ہے کہ جمہوریت سے آنے والی تبدیلی کا راستہ ہمارے طرز ِ جمہور نے ہی روک رکھا ہے۔ جہاں تک فوجی مسیحاﺅں کا تعلق ہے تو اُن سے قوم نے گزشتہ ساٹھ برسوں سے کافی علاج کروایا ہے، لیکن مرض بڑھتا گیا تاہم خدا کے لئے یہ تو بتائیں کہ ہمارے لئے کیا یہی انتخاب رہ گیا ہے کہ ہم لے دے کے اِن دونوں اگرتیسرے کا موڈ نہ ہو میںسے کسی ایک کی اطاعت کر یں ؟اب صورت ِ حال اِس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اگر پانچ سال کے لئے موجود سیاست دان ، کسی بھی جماعت سے، دوبارہ واپس آجاتے ہیں تو کوئی بھی سانحہ دل خوش کن ہو گا۔

پہلی جنگ ِ عظیم چار سال، جبکہ دوسری چھ سال تک جاری رہی تھی۔ اِن چھ برسوں میں پرانے نظام کی کا یا پلٹ گئی اور گزرنے والی قیامت نے اِس کا ڈھانچہ منہدم کرکے ایک نیا نظام متعارف کرا دیا،جبکہ پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوںکے دوران کیا کچھ حاصل کیا گیا ہے ؟ اِن پانچ برسوں کے دوران وطن تعمیرِ ِ نو کے عمل سے گزر سکتا تھا ، پنجاب اپنی ترقی اور جدت پسندی سے دوسرے صوبوںکے لئے مثال بن سکتا تھا ، لیکن یہ پانچ سال بیکار گزر گئے ۔ اگر عوام کے پیٹ قانونی ترامیم سے بھرے جاسکتے ہیں تو پھر ہم نے اٹھارہویں اور انیسویں ترامیم کی ہیں.... اِس کے علاوہ اپنے دفتر میں کوئی عمل نہیں ہے، جسے عوام کے محشر کے سامنے پیش کیا جا سکے، تاہم ہمارے پاس وہی گھسا پٹا محاورہ ہے، جس کی گردان ہم ہر اچھے برُے وقت میں بے تکان کرتے رہتے ہیں کہ ہم نے جمہوریت کا تسلسل یقینی بنایا ہے اور جمہوریت تمام مسائل حل کر دے گی، چونکہ خوش فہمی کے سمندر میں غوطہ زن رہنا خلاف ِ فطرت ہوتو ہو، خلاف ِ قانون نہیںہے، اِس لئے اگرچہ ہمارے سامنے وہی سیاست دان ہیں جو کبھی تھے ایک نے کوئی تیس سال پہلے سیاست میں قدم رکھا اور دوسرے، جس نے کسی قدیم زمانے میں دس فیصد سے سیاست شروع کی تھی، کی سیاسی عمر آج بیشتر نوجوانوںکی طبعی عمروں سے فزوں تر ہے ، گھوم پھر کر سیاسی اکھاڑے میں آجاتے ہیں اور ہم خوش ہیںکہ جمہوری عمل کا تسلسل جاری ہے۔اِس پر مستزاد، ہم نے اُن سے انقلابی تبدیلیوں کی امیدیں بھی لگا رکھی ہیں۔

اب اُکتاہٹ اِس قدر ہے کہ اِس دہرائے جانے والے ڈرامے سے کچھ بھی بہتر لگتا ہے۔ مَیں اِس بات کو، جو چینیوںکے لئے اُن کے رہنما کی طرف سے طبل ِ جنگ تھی، ہزار مرتبہ دہرا چکا ہوں، مگرکیا کریں ہمارے ہاں موجود صورت ِ حال ہمیشہ سے اِس کے لئے برمحل رہی ہے۔ چینی رہنما کا کہنا ہے.... ” بدنظمی اور افراتفری کا دور دورہ ہے، چنانچہ تبدیلی کے لئے اچھا موقع ہے“.... کچھ روز قبل تک صورت ِ حال ایسی تھی کہ گھٹن اتنی زیادہ تھی کہ تبدیلی کا ایک سانس بھی لینا محال تھا اور جمہوریت کے نام پر نصب شدہ بھاری پتھر سرکتے نظر نہیں آتے تھے ، لیکن شاید آسمانی طاقتوںکو ہمارے حال پر رحم آگیا ہے اور ایک غیر متوقع سمت سے آنے والی صدا نے خاموشی کو چیلنج کر دیا ہے۔ ابھی فی الحال اس بات کو فراموش کر دیں کہ چیلنج کرنے والے کے داﺅ پیچ کیا ہیں اور وہ کن امکانات کی نوید سنارہا ہے، صرف یہ بات دیکھیں کہ موسم میں ہلکے سے تغیر کے ساتھ ہی جمہوریت کی کشتی کے دائمی ناخدا سراسیمگی کا شکار ہو گئے ہیں۔

یہ سب حیران کن نہیں ہے کہ ایک شخص کی آمد نے ہوش اُڑا دئیے ہیں، کیونکہ ان سے توایک معمولی سا مسئلہ ، جیسا کہ یوٹیوب کو کھولنا، بھی طے نہیںہو سکا ،اِس لئے اُن کے لئے ہوا کا جھونکابھی سونامی سا ہے۔ اُن کو یہ بھی نہیں علم کہ دھوکے باز طالبان کے ساتھ بات کیسے کرنی ہے، کیا اُن سے قوم نے انقلابی تبدیلیوںکی امیدیں لگائی ہوئی ہیں ؟ نیا سال 2013ءآچکا ہے.... اِس میں موجود 13 کا عدد بعض لوگوںکے نزدیک منحوس ہوتا ہے.... لیکن ہوسکتا ہے کہ اِس بدقسمت ترین ریاست کی قسمت میں مزید ستم نہ ہوں اور یہ سال اس کے لئے سعد ثابت ہو، تاہم اِس بات کا انحصار اِس بات پر ہے کہ آسمانی طاقتیں ہماری یاوری کتنی اور کس حد تک کرتی ہیں؟.... کیا ڈاکٹر طاہر القادری اپنا ” مجوزہ “ مہماتی مارچ کر سکیںگے اور کیا اِس سے تبدیلی کی کوئی ہوا چل نکلے گی ؟کیا اُن کے پیروکار منجمد کردینے والی سرد ی میں شاہرائہ دستور کو نعروں سے گرما سکیںگے ؟

اِس میںکوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے پیروکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اُن کے پاس تنظیمی صلاحیت بھی ہے، جس کا مظاہرہ ہم سب دیکھ چکے ہیں اور یہ مَیںنے چکوال میں بھی دیکھا کہ کس طرح وہ عوام کو متحرک کرنے کے لئے پمفلٹ تقسیم کررہے ہیں، ٹرانسپورٹ کا انتظام کررہے ہیںاور فنڈوغیرہ اکٹھے کررہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ فوجی جوانوںکی طرح خشک راشن لے کر اسلام آباد کی طرف مارچ کریںگے۔ اگر خاطر خواہ ہجوم اکٹھا ہو گیا تو پھر جیسا کہ جولیس سیزر میں شاعر کہتا ہے کہ ہنگام ِ وقت کوئی ہنگامہ بھی بپا کر سکتا ہے.... شکست ِ آرزو، فکری انحطاط اور پژ مردگی کے65 برسوں کے بعد آج ہمارے قدم خستہ حال مسافروںکی طرح گرد آلود ہیں، تاہم ہم میںسے رجائیت پسندوں کو ابھی یقین ہے کہ ”ہزارہا شجر ِ سایہ دار راہ میں ہیں“ اور ہم راکھ سے نئی سلطنت تعمیر کر سکتے ہیں۔ ایک بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ پاکستان انڈیا نہیںہے، یہ انڈیا ہو بھی نہیں سکتا تھا، کیونکہ ہمارے حالات مختلف ہیں۔ ہماری قسمت ان کے ستاروںکے ہاتھ میں نہیںہے۔ چنانچہ ہمارا مقدر بھی ہمارا اپنا ہو گا اور اس کے لئے بر صغیر کی تاریخ سے سبق نہیںلیا جا سکتا۔ ہمارا اپنا سفر ہے، ہمارا اپنا راستہ ہے، اپنا عمل ہے اور اس کا نتیجہ جنت بھی ہو سکتا ہے اور جہنم بھی۔

اِس نازک موڑ پر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ہمارے قومی نظریے کے محافظوںکے کیا ارادے ہیں؟ اُن کی نگاہِ کرم کے بغیر ڈاکٹر طاہر القادری کی اسلام آباد آمد ، رفت کے مترادف ہی ہو گی ،کیونکہ اب تک کی تاریخ بتاتی ہے کہ پاکستانی لانگ مارچ چینی لانگ مارچ نہیںہوتے ۔ اِس غلط فہمی میں کسی کو نہیں رہنا چاہیے کہ ”’مارچ “سے موسم تبدیل ہو جاتا ہے ،اِس کے لئے مقتدر طاقتوں کی رضا مندی ضروری ہے۔ عدلیہ بحالی کی تحریک کا سبق سب کو یاد ہو گا ۔اِس لئے ڈاکٹر طاہر القادری اکیلے تو اِس سرد خرابات کو نہیں گرما سکتے۔ ہاں ”درپردہ چشم ِ یار کی شہ “ ہو تو اور بات ہے.... چنانچہ دوبارہ وہی سوال کہ دفاعی اداروں کی نیت کیا ہے؟ویسے مکمل ”حال“ تو اوپروالا ہی جانتا ہے، لیکن ماضی تو ہماری نظر وں کے سامنے ہے۔ یہ حقیقت سب پر منکشف ہے کہ اس وقت فوج دنیا کے دشوار گزار ترین علاقوں میںایک مشکل جنگ لڑ رہی ہے اور میدانِ کارزار میں وہ اکیلی ہی ہے۔ اُسے حکومت یا عوام کی بھرپور حمایت حاصل نہیں۔ دوسری طرف قومی رہنما بھی ابہام کا شکار ہیں ۔ اُن سے تو یوٹیوب بھی نہیں کھلی ....(دہرانے پر معذرت) .... چنانچہ یہ طالبان کے ساتھ نمٹنے جیسا دشوار کام کیسے کر سکتے ہیں؟ہماری سراسیمگی ملاحظہ فرمائیںکہ ایک نہایت سفاک دشمن ہم پر حملہ آور ہے اور ہم ” پس چہ باید کرد “ کی عملی مثال بنے ہوئے ہیں۔ اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے پاس سیاسی طبقہ تو ہے، لیکن قیادت ناپید ہے۔

اِسی سے وابستہ ایک اور سوال ہے کہ کیا اِس مسئلے کی وجہ سے دفاعی ادارے ڈاکٹر طاہر القادری کی پشت پناہی کرتے ہوئے انتخابات ملتوی کروا کر طویل عرصے کے لئے وسط مدتی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں؟فی الحال اِس کا جواب کسی کے پاس نہیںہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابھی حمایت نہ ہو، لیکن حالات دیکھتے ہوئے عین موقع پر مطلوبہ حمایت کر دی جائے، یا پھر اب حمایت کا وعدہ ہو، لیکن عین وقت پر آنکھیں پھیر لی جائیں؟ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ آج شاید وقت آگیا ہے کہ ہم اپنے ہاں پائے جانے والے جمہوری معروضات پر غور کرلیں۔ کبھی یہ بھی کہا گیا تھا کہ مسلسل انتخابات کرانے سے مسائل حل ہوجائیںگے، کم از کم 1970ءسے پہلے تک یہ بات درست تھی۔ ا ِس کے بعد ضیاءالحق کا دور آیا تو ہم نے کہا کہ اگر آمریت ختم ہو گئی تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ اِس کے بعد ہم نے نوے کی دھائی میں جمہوریت کا بھاری بوجھ بھی اُٹھا لیا۔اِس جمہوریت نے سوائے بدعنوانی، قرضے معاف کرانے اور فوجی جنرلوںکے ہاتھوں میںکھیلنے والے سیاست دانوںکے سوا ہمیںکچھ نہ دیا.... پھراِ س جمہوری دور کے دوران ہمارے محافظوں ، جیسا کہ جنرل اسلم بیگ، نے قوم کو جہاد کا تحفہ بھی دیا یا جہادی قوتوںسے مجرمانہ اغماض برتا۔ اِسی غفلت کا خمیازہ ہم آج بھگت رہے ہیں۔

یاد ہو گا کہ اکتوبر 1999 ءمیں جنرل پرویز مشرف کو برطرف کرنے کی کوشش کی گئی، حالانکہ اُسے چند ماہ پہلے، اپریل یا مئی میں کارگل حماقت پر نکالا جانا چاہیے تھا۔ اب شاید ہم ایک مرتبہ پھر اُمیدلگائے ہوئے ہیں کہ جب وقت کا پہیہ چلے گا تو نئی انتظامیہ ہو گی، ملک حسنِ انتظام کے قمقموںسے جگمگا اٹھے گا ، حالانکہ معمولی مسائل ، جیسا کہ سڑک پر ٹریفک کنٹرول کرنے یا پلاسٹک بیگ، جن کو ”کیمیائی طالبان“ کہا جا سکتا ہے، پر پابندی لگانے کے بھی اہل نہیں ہیں، تاہم جنوری میں کچھ نہ کچھ ہو گا ضرور.... تبدیلی یا تبدیلی کے نام پر مایوسی.... لیکن خوشی یہ ہے کہ اب انتظار کی گھڑیاں تمام ہونے والی ہیں۔

مصنف، معروف کالم نگار اور سیاسی تجزیہ کار ہیں۔

نوٹ ! اس کالم کے جملہ حقوق بحق رائٹ ویژن میڈیا سنڈیکیٹ پاکستان محفوظ ہیں۔ اس کی کسی بھی صورت میں ری پروڈکشن کی اجازت نہیں ہے۔ ٭

مزید :

کالم -