ججوں کی تعداد کم ہے ، حکومت کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے پر انصاف کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں : چیف جسٹس آف پاکستان

ججوں کی تعداد کم ہے ، حکومت کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے پر انصاف کی فراہمی میں ...
ججوں کی تعداد کم ہے ، حکومت کی طرف سے پذیرائی نہ ملنے پر انصاف کی فراہمی میں مشکلات درپیش ہیں : چیف جسٹس آف پاکستان

  

گوجرانوالہ (ما نیٹرنگ ڈیسک ) چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ آباد ی اور مقدمات کے تناسب سے ججوں کی تعداد کم ہے ، فوری انصاف کی فراہمی کے لیے حکومت پلان دیالیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پذیرائی نہیں ملی لیکن ہمیں اپنے طورپر کوشش جاری رکھنی ہے ۔ اُ نہوں نے بتایاکہ کوہستان ویڈیو سکینڈل پر تین بھائیوں کے قتل کا علم ہے اور کیس جلد ری اوپن کریں گے ۔ گوجرانوالہ بارایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس آف پاکستان کاکہناتھاکہ اُنہیں اللہ اور وکلاءکے علاوہ کسی کی حمایت حاصل نہیں ، وکلاءکی جدوجہد کی وجہ سے آزاد عدلیہ وجود میں آئی لیکن اب گھر نہیں بیٹھنا، اگلامرحلہ سب لوگوں کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرناہے ۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سوشل میڈیا پر لوگوں کے پیغامات میں عدلیہ پر اعتماد کیاجاتاہے ، آج عدلیہ اور وکلاءکو جو مقام حاصل ہے وہ کچھ سال پہلے تک نہیں تھا۔چیف جسٹس نے کہاکہ بطور چیف لاءآفیسر وزیراعظم اور وزیرخزانہ کو خط لکھ کر تیس ارب روپے کا پلان دیالیکن آٹھ ماہ گزرنے کے باوجود کوئی پذیرائی نہیں ہوئی ،انصاف ایسا ہو جو فوری عوام کو میسر ہو۔اُن کاکہناتھاکہ کوہستان ویڈیوسکینڈل میں رقص کرنے والے لڑکے کے تین بھائیوں کے قتل کا علم ہے اوریہ کیس جلد ری اوپن کرنے کا فیصلہ کیاجائے گا،اگر درخواست موصول ہوجائے تو یہ کیس کل ہی دوبارہ کھول سکتے ہیں۔انہوں نے ینگ ڈاکٹرز ایسوی ایشن کے حالیہ معاملہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ جونئیرکو چاہیے کہ وہ سینئرز ڈاکٹروں کا احترام کرے اورڈاکٹروں کو بھی برداشت بڑھانا ہوگی۔

مزید :

گوجرانوالہ -Headlines -