سود خوری کا مکروہ دھندہ

سود خوری کا مکروہ دھندہ
سود خوری کا مکروہ دھندہ

  



چند روز قبل ایک دوست کے ذریعے یہ جان کر سخت افسوس ہوا کہ ہمارے محلے کے انتہائی معزز سمجھے جانے والے دو صاحبان سود خوری کے گھناﺅنے دھندے میں ملوث ہیں۔ انہوں نے شرافت کا لبادہ اس قدر خوش اسلوبی سے اوڑھ رکھا ہے کہ یقین کرنا محال تھاکہ یہ صاحبان ایسا کرسکتے ہیں، چنانچہ مَیں نے اپنے ایک دوست کو اِن میں سے ایک سود خور کے پاس بطور "گاہک" بھیجا،اس نے بعد میں جو معلومات دیں اور سود کے حوالے سے جو واقعات میرے علم میں آئے، وہ پڑھ کر آپ بھی ایمان تازہ کرلیجئے ۔ میرے بھیجے ہوئے "گاہک"کو بتایا گیا کہ اگر انہیں پچاس ہزار روپے درکار ہیں تو اس کے لئے شٹامپ پیپر پر ایک معاہدہ ہوگا ،جس پر لکھے تو پچاس ہزار ہی جائیں گے، لیکن بارہ ہزار روپے "سروس چارجز"کاٹ کر اُن کے حوالے اڑتیس ہزار روپے کئے جائیں گے ، معاہدے کے علاوہ مزید سیکیورٹی کے لئے پچاس ہزار روپے کا چیک بھی بطور ضمانت رکھوانا ہوگا۔ اس رقم پر ماہانہ چھ ہزار روپے سود ادا کرنا ہوگا ، اگر مقررہ تاریخ تک سود نہ دیا گیا تو روزانہ پانچ سو روپے جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا ، یعنی ایک ماہ تک سود نہ دیا گیا تو پندرہ ہزار روپے جرمانہ بھی قرض کی رقم میں شامل ہوجائے گا اور اس رقم پر بھی سود ادا کرنا ہوگا۔

اگر سود لینے والا دیوالیہ ہوجائے تو پھر دفعہ F-489ت پ کے تحت اُس کے خلاف چیک ڈس آنر کا مقدمہ درج کروادیا جاتا ہے، یعنی غیرقانونی سود وصول کرنے کے لئے قانونی سہارا لیا جاتا ہے ۔ چند سال قبل لاہور کے علاقے جی او آر میں سود خوروں نے ایک جنازہ تک روک لیا تھا کہ مرنے والے نے ہم سے سود پر پیسے لئے تھے، جب تک ہماری رقم ادا نہیں کی جائے گی، جنازہ نہیں جانے دیا جائے گا۔ پنجاب اسمبلی کی ایک خاتون رُکن نے اس ہولناک واقعہ پر آواز بلند کی اور شاید کچھ قانون سازی بھی ہوئی، لیکن ”ڈھاک کے وہی تین پات“ ہیں۔

 ایک محفل میں اس حوالے سے ذکرِ چھڑا تو وہاں موجود ایک صاحب ، جو کسی سرکاری محکمے میں کلرک بادشاہ ہیں، نے بغیر کسی شرم و حیاءکے بھری محفل میں بتایا کہ انہوں نے ایک "خان صاحب" سے سود پر پانچ ہزار روپے لئے تھے ۔"مجبوری" کی وجہ سے وہ قرضہ اور سود بروقت ادا نہ کرسکے، چنانچہ اِس جرم کی سزا دینے کے لئے خان صاحب اُن کا بجلی کا میٹر اُتار کر لے گئے ہیں۔ لوگ تو یہ واقعہ سن کر خاصے محظوظ ہوئے، لیکن مجھے انتہائی افسوس ہوا کہ اِن صاحب کو یہ احساس بھی نہیں کہ انہوں نے اپنے ہاتھوں سے گناہ اور ذلت دونوں خریدرکھے ہیں اور یہ بھی اندازہ نہیں کہ جو سود خور آج اُن کا میٹر اُتارکرلے گیا ہے ،کل کلاں کوئی اور حرکت بھی کر سکتاہے۔تقریباً چھ سال قبل لاہور کے ایک انتہائی خدا ترس صنعتکار کے علم میں آیا کہ ایک خاتون سود خور سے لیا گیا قرض اُتارنے کے لئے اپنا گردہ بیچنا چاہتی ہے۔ اُس خاتون نے رائیونڈ روڈ کے "حاجی صاحب" سے ساٹھ ہزار روپے سود پر قرض لئے تھے، جن میں سے کافی ادا بھی کئے، لیکن اب وہ ساٹھ ہزار بڑھ کر ڈھائی لاکھ روپے ہوچکے ہیں۔ اب وہ سود خور اُس قدر ذلیل و رسوا کررہا ہے کہ وہ اپنا گردہ بیچ کر یہ قرض یکمشت ادا کرنا چاہتی ہے ۔

اُس خدا ترس صنعتکار نے پیسے دے کر اُس عورت کی جان چھڑائی ،مگر سود پر قرض لے کر دین و دنیا خراب کرنے والا ہر شخص اتنا خوش قسمت نہیں ہوتا ۔ لوگوں نے دکانیں، مکان، یہاں تک کہ گردے بیچ کر سود خور وںکو رقم ادا کی اور جن کا کوئی بس نہیں چلا، انہوں نے خود کُشی کرلی۔ قصور وار اکیلا سود خور نہیں ہے ،بلکہ وہ لوگ بھی برابر شریکِ جرم ہیں ،جو ان سے سود پر رقم لیتے ہیں، کیونکہ سود خور کسی گھر کا دروازہ کھٹکھٹاکر نہیں کہتے کہ بھائی سود پر رقم لے لو۔ لوگ خود اُن کے پاس جاکر کبھی نہ ختم ہونے والے عذاب میں گرفتار ہوتے اور سود خوروں کا دھندہ چمکاتے ہیں۔ سود خوروں کے چنگل میں پھنسنے والے 90فیصد افراد وہ ہیں جو کاروباریاپھر بچے بچیوں کی شادی کرنے ، مکانوں کی مرمت کروانے یا پھر زمین یا مکان خریدنے کے وقت رقم کی کمی پورا کرنے کے لئے قرضہ لیتے ہیں ۔ صرف دس فیصد لوگ ایسے ہیں جو علاج و معالجے کی غرض سے ان شیطانوں کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ عموماً سود خوروں سے قرضہ لینے والے یہ توجیہ پیش کرتے ہیں کہ بڑی مجبوری میں قرضہ لیا تھا، لیکن انہیں بعد میں اس حقیقت کا ادراک ہوتا ہے کہ اُس مجبوری کی وجہ سے پیدا ہونے والی مشکلات اُن مشکلات سے کہیں کم تھیں جو سود خور سے قرضہ لینے کے بعد پیدا ہوئیں، لہٰذا ان لوگوں کو اپنا عمومی رویہ تبدیل کرنا ہوگا ۔

 سود خوروں سے قرضہ لینا کسی بھی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ سے جنگ کی مانند ہے، لہٰذا انہیں اِس سے بالکل اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر کوئی بیماری یا قرض کی وجہ سے بہت بُری طرح پھنس گیا ہے تو سود خوروں سے رجوع کرنے کے بجائے کسی مخیر صنعتکار یا تاجر سے رجوع کرلے تو بہتر ہوگا اور ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی ہرگز کمی نہیں ہے، جو اللہ کے دئیے مال سے مخلوقِ خدا کی دل کھول کر خدمت کررہے ہیں۔ ویسے بھی صدقات اور عطیات دینے کے حوالے سے پاکستانی دنیا بھر میں اوّل درجے پر ہیں۔ سود خوری جیسے سنگین جرم پر حکومت بھی خاموش تماشائی کا کردار ادا نہ کرے، بلکہ ان لوگوں کے خلاف انتہائی سخت ایکشن لے جو کھلے عام یہ مکروہ دھندہ اور انسانیت کی تذلیل دونوں بڑی دیدہ دلیری سے کررہے ہیں۔ عوامی فلاح و بہبود کی ذمہ داری ریاست پر ہوتی ہے، لہٰذا وہ غریب و نادار لوگوں کی دیکھ بھال کا خصوصی نظام قائم کرے، تاکہ کوئی علاج و معالجے یا پھر بیٹی کی شادی کے لئے سود خوروں کے جال میں پھنس کر دین و دنیا دونوں خراب نہ کربیٹھے ۔

مزید : کالم