چینی صدر کی زندگی کے ایک ایسے پہلو کے بارے میں کتاب کی اشاعت کہ ریلیز سے قبل کتاب چھاپنے والوں کو ہی ’غائب‘ کردیا گیا، اس کتاب میں ایسا کیا ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

چینی صدر کی زندگی کے ایک ایسے پہلو کے بارے میں کتاب کی اشاعت کہ ریلیز سے قبل ...
چینی صدر کی زندگی کے ایک ایسے پہلو کے بارے میں کتاب کی اشاعت کہ ریلیز سے قبل کتاب چھاپنے والوں کو ہی ’غائب‘ کردیا گیا، اس کتاب میں ایسا کیا ہے؟ جان کر آپ کو بھی بے حد حیرت ہوگی

  

ہانگ کانگ(مانیٹرنگ ڈیسک) چینی صدر شی جن پنگ کی”رومانوی زندگی“ پر مبنی کتاب چھاپنے کی تیاری کرنے والی کمپنی کے 5ملازم گزشتہ دنوں مبینہ طور پر اغواءہو گئے۔ ان کے متعلق ہانگ کانگ کی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک رکن اسمبلی ”البرٹ ہو“ نے الزام عائد کر دیا ہے کہ ان ملازمین کوچینی سکیورٹی آفیسرز نے اغواءکیا ہے۔ البرٹ ہو کے اس بیان پر ہانگ کانگ میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔البرٹ نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”چینی سکیورٹی آفیسرز کے اس اقدام پر ہانگ کانگ کے عوام میں شدید خوف و ہراس پایا جاتا ہے۔“اغواءہونے والے پانچوں ورکرز جس پبلشنگ ہاﺅس میں کام کرتے تھے وہ چینی حکومت پر تنقیدی کتب شائع کرنے کے حوالے سے خاصی شہرت رکھتا ہے۔ورکرز کے اغواءسے ہانگ کانگ کی نیم خودمختاری پربھی سوالات اٹھنا شروع ہو گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: ’میری موت کے بعد ان 4باتوں پر ضرور عمل کرنا۔۔۔‘ سعودی ارب پتی نے اپنے خاندان والوں کو انوکھی ترین وصیت کردی، جان کر آپ کو بھی حیرت ہوگی

ہانگ کانگ کے آئین کے مطابق وہاں آزادی¿ اظہار رائے ہر شخص کا حق ہے اور چینی سکیورٹی فورسز شہر میں کوئی بھی کارروائی کرنے کا حق نہیں رکھتیں۔اغواءشدگان کے متعلق تاحال یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ کیسے غائب ہوئے اوراب کہاں ہیں ۔کئی چھوٹے چھوٹے گروپوں نے ان کے اغواءکے خلاف احتجاجی مارچ کیا۔ البرٹ ہو کا مزید کہنا تھا کہ ”سکیورٹی فورسز نے ہانگ کانگ سے ملازمین کو اغواءکیا اور چین لے گئے کیونکہ یہ کمپنی شی جن پنگ اور ان کی ایک سابقہ گرل فرینڈ کے معاشقے پر مبنی کتاب چھاپنے جا رہی تھی۔ ان کا یہ معاشقہ کچھ ہی سال پرانا ہے۔“انہوں نے کہا کہ ”ہمیں اس لیے بھی یقین ہے کہ چینی سکیورٹی فورسز نے ہی ان افراد کو اغواءکیا ہے کیونکہ پبلشنگ ہاﺅس کے مالک کو کئی بارمتنبہ کیا جا چکا تھا کہ وہ کتاب نہ چھاپیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس