پٹھانکوٹ کے فضائی مستقر پر شب خون۔۔۔؟ (2)

پٹھانکوٹ کے فضائی مستقر پر شب خون۔۔۔؟ (2)
 پٹھانکوٹ کے فضائی مستقر پر شب خون۔۔۔؟ (2)

  

ہم تیسری دنیا کے اسلامی ممالک آج مل کر بھی امریکہ تو امریکہ رہا، یورپ کے کسی ایک ملک کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اس کی دو وجوہات ہیں۔۔۔ ایک تو یہ کہ ان ممالک کی وارٹیکنالوجی ہم سے کہیں آگے ہے۔ ہم ان سے بھاری ہتھیاروں کی جو کھیپ درآمد کرتے ہیں وہ دراصل ان کے اپنے ہاں Discard ہو چکی ہوتی ہے۔ ان کا کوئی طیارہ ، توپ، ٹینک، آبدوز، بحری جنگی جہاز ایسا نہیں جو ہم خریدتے ہوں اور جو ان کے جدید ترین ورشن (Version) کے مقابل ہو۔ اگر وہ ایسا کریں گے تو اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی ماریں گے۔ اس لئے وہ اپنی آرڈننس فیکٹریوں کو چالو رکھنے کے لئے ہمیں وہ مال فروخت کرتے ہیں جو ان کے اپنے ہاں متروک قرار پا چکا ہوتا ہے۔۔۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اگر آج تیسری دنیا کا کوئی اسلامی ملک کسی یورپی ملک کو آنکھیں دکھانے کی کوشش کرے تو ان کا سالارِ لشکر (امریکہ) ان کی مدد کو آ جاتا ہے۔ یہ ناٹو تنظیم کیا ہے؟ یہ ترقی یافتہ مغربی ممالک کا ایک ایسا خصوصی عسکری کلب ہے جس کے اراکین کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہی نہیں، ایک دوسرے کے ساتھ چسپاں ہیں۔ جہاں ہم مسلم ممالک ایک دوسرے کے زبردست مخالف ہیں وہاں وہ ایک دوسرے کے زبردست محافظ بن جاتے ہیں۔ یہ گویا ہمارے دورِ گزشتہ کی اسلامی طرزِ حکمرانی (خلافت) کی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ اگر اسلامی خلافت کا دور چلتا رہتا تو شائد مسلم ممالک بھی آج مغربی حکمرانی کے اس کلچر کا روپ دھار لیتے ۔ لیکن ’’کاش‘‘ ایسا ہو جاتا!

یک ’’کاشکے‘‘ بودکہ بہ صد جا نوشتہ ایم

اندریں حالات ہم صرف ’’دعا‘‘ پر ہی تکیہ کر سکتے ہیں۔ عرف عام میں اس کو ’’بددعا‘‘ بھی کہا جائے گا۔ دعائیں مانگنے اور التجائیں کرنے میں تو ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ اسلامی ممالک کی ساری فضائیں اکثر’’دعاؤں‘‘ سے لبریز اور معمور رہتی ہیں۔ چنانچہ مجھے تو اس حقیقت میں کوئی شبہ نظر نہیں آتاکہ اگر امریکہ کو زوال آیا تو ہماری ’’بددعائیں‘‘ ہی ہمارے کام آئیں گی۔ کارکنانِ قضا و قدر بھی شائد ہمارے ساتھ اظہارِ یکجہتی کریں اور سارا مغرب دھڑام سے نیچے آ گرے! اے کاش!

یک ’’کاشکے‘‘ بودکہ بہ صد جا نوشتہ ایم

ہمارے دانشور اکثر ہماری ساری ابتلاؤں اور مصیبتوں کو کرپشن کے کھاتے میں ڈالنے کے عادی ہیں۔ میں خود کرپشن کلچر کا زبردست مخالف ہوں لیکن جب ترقی یافتہ معاشروں میں کرپشن کی انتہائیں دیکھتا ہوں تو کرپشن کے عقیدے پر میرا ایمان ڈانواں ڈول ہو جاتا ہے۔ آج جتنے ترقی یافتہ ممالک دنیا میں موجود ہیں ان کی ترقی ’’کرپشن‘‘ ہی کی مرہونِ احسان ہے۔ کرپشن کی کوئی جامع تعریف آج تک نہیں ہو سکی۔ اس کی اَن گنت صورتیں اور بے شمار شکلیں ہیں۔ ہمارے پاکستان کے جو ’’بڑے بڑے لوگ‘‘ کرپشن کے ملزم / مجرم ٹھہرائے جاتے ہیں، ان سے پوچھ کے دیکھیں تو وہ کہیں گے کہ بین الاقوامی اخلاقیات کی رو سے پاکستانی کلچر، مغربی (یا جدید مشرقی) کرپشن کلچر سے لاکھوں کوس پیچھے ہے!۔۔۔

چند روز پہلے میں، افغانستان کے بارے میں ایک امریکی سرکاری ایجنسی کی رپورٹ پڑھ رہا تھا۔ امریکہ کے زوال کی خوشخبری میں نے آپ کو اسی لئے سنائی ہے کہ وہ معاشرہ گلے گلے تک کرپشن کے گندے تالاب میں ڈوبا ہوا ہے۔2000ء میں جب افغانستان کی جنگ شروع ہوئی تھی تو امریکہ، دامے، درمے اور سخنے میدانِ جنگ میں کود گیا تھا۔ لیکن جب 2008ء تک امریکی انتظامیہ کے حسبِ منشاء افغانستان وار کا کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا تو امریکی ٹکسال میں ہلچل شروع ہوئی۔ اس جنگ کے لئے جو بجٹ مختص کیا گیا تھا اس کے اخراجات کی تفصیلات سرتاسر کرپشن کے غلاف میں لپٹی ہوئی تھیں۔ کوئی سرکاری یا غیر سرکاری شعبہ ایسا نہ تھا جس میں کرپشن کے ’’اعلیٰ ترین‘‘ نمونے دیکھنے میں نہ آئے ہوں۔ آخر انتظامیہ نے عاجز آکر بزعم خود ایک شعبہء احتساب قائم کیا جس کے سربراہ کا نام جان سوپکو (John Sopko) تھا۔ یہ سوپکو صاحب برسہا برس تک مختلف سرکاری اور نیم سرکاری محکموں میں حکومتی اخراجات کی نگرانی (Oversight) کا تجربہ رکھتے تھے۔ ان کو اس افغانستان وار کے اخراجات کی نگرانی کا کام سونپا گیا اور امید رکھی گئی کہ اب اس مد میں کرپشن کی یلغار مدھم پڑ جائے گی۔ ان کے لئے ایک نیا منصب بھی تخلیق کیا گیا جس کام ’’سیگار‘‘ رکھا گیا۔ انگریزی کا یہ پنج حرفی لفظ Sigarجن الفاظ کا مخفف تھا وہ یہ تھے:

Special Inspector General for Afghanistan Reconstruction

اس کا اردو ترجمہ : ’’ خصوصی انسپکٹر جنرل برائے تعمیرِ نو افغانستان‘‘ کیا جا سکتا ہے۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں یہ جنگ 14برس تک جاری رہی اور 2014ء میں کہیں جا کر امریکی اور ناٹو افواج کا انخلاء عمل میں لایا گیا۔ تاہم آج بھی افغانستان میں 10800امریکی ٹروپس موجود ہیں جن کا کمانڈر چاروں ستاروں والا ایک جرنیل (جنرل کیمپبل) ہے۔ ’’سیگار‘‘ کو جو بجٹ دیا گیا وہ 110 ارب ڈالر تھا۔ نومبر2015ء میں(یعنی امریکی ٹروپس کے انخلاء کے تقریباًایک سال بعد) جان سوپکو نے واٹسن انسٹی ٹیوٹ (امریکہ) میں اس ’’بحالیء افغانستان‘‘ پر ایک حیران کن لیکچر دیا جس کے چند پیراگراف ذیل میں درج کر رہا ہوں تاکہ قارئین کو معلوم ہو کہ امریکہ، کرپشن کی کن انتہاؤں کو پہنچا ہوا ہے اور اس لئے روبہ زوال کیوں ہے۔ واٹسن انسٹی ٹیوٹ میں میڈیا اور دیگر حاضرین کے سامنے تقریر کرتے ہوئے انسپکٹر جنرل، جان سوپکو نے کہا:

’’تھینک یو! خواتین و حضرات!!۔۔۔ میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے اس سہ پہر مجھے یہ موقع دیا کہ آپ کے ساتھ چند حقائق شیئر کر سکوں۔ میں وعدہ کرتا ہوں کہ اپنے خطاب کو مختصر رکھوں گا اور الفاظ کی ’’مٹھاس‘‘ کو بھی نظر انداز نہیں کروں گا تاکہ سوال و جواب کا سیشن زیادہ طویل ہو سکے اور میں آپ کے شکوک اور سوالات کا بھرپور جواب دے سکوں۔۔۔ ہو سکتا ہے ایسا کرنا میرے لئے ذرا سا مشکل ہو کیونکہ میں ٹریننگ کے اعتبار سے ایک وکیل ہوں اور اس تناظر میں جتنے الفاظ بولوں گا ان کا اتنا ہی معاوضہ بھی وصول کروں گا۔۔۔ پھر بھی کوشش کرتا ہوں کہ کم سے کم الفاظ بولوں‘‘۔

’’خواتین و حضرات! میں آپ کے سامنے یہ عرض کرنے کے لئے کھڑا ہوا ہوں کہ آپ کے گوش گزار کر سکوں کہ آج امریکہ کو سیکیورٹی کا کتنا بڑا چیلنج درپیش ہے اور نہ صرف آج بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے لئے بھی یہ چیلنج بہت بڑا ہوگا۔۔۔ میرا موضوع یہ ہے کہ ہم کسی بھی جنگ کے بعد کسی بھی جنگ زدہ ملک کی بحالی اور اس کی تعمیرِ نو میں کس حد تک آگے جا سکتے ہیں۔۔۔ شام، عراق اور یمن کی مثالیں تو آپ کے سامنے ہیں۔ ان کو دیکھئے اور پھر نومبر 2015ء میں پیرس پر حملے کے سانحے کو بھی نگاہ میں رکھئے۔ تب آپ کو معلوم ہو گا کہ دنیا میں کتنے ممالک ہیں جو ناکام ریاستوں (Failed States) کے سٹیٹس تک آ پہنچے ہیں۔ آپ کو احساس ہونا چاہیے کہ اگر ہم نے ان ناکام ریاستوں کے مسائل اور ان کی مشکلات کا آج کوئی سدباب نہ کیا تو آنے والے کل میں ہم پر کیا کیا اور کتنی بڑی بڑی آفات و بلیّات وارد ہو سکتی ہیں!‘‘

’’ذرا سوچئے کہ ہماری قوم کے لئے یہ سب کچھ کتنا اہم ہے۔ واٹسن انسٹی ٹیوٹ میں آنے والوں کو یہ تو معلوم ہی ہوگا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے ۔اگر تاریخ سے ہم نے کوئی سبق سیکھنا ہے تو ہمیں ادراک کرنا چاہیے کہ ہم آجکل ایک بڑے ناکام ملک کو استحکام ’’عطا‘‘ کرنے کے کارِ دشوار میں گرفتار ہیں۔۔۔ ایک ایسے ملک کو جو عدم سلامتی کا شکار ہے، جس میں کرپشن زوروں پر ہے، جس میں منشیات کی پیداوار ٹنوں میں ہے اور جہاں شہری ترقی اور امن و امان کی بحالی کی سست رفتاری زوروں پر ہے۔۔۔ ایک اور بات بھی کہتا چلوں تو کچھ ہرج نہیں ہوگا کہ افغانستان کی اس 14سالہ جنگ سے ہم امریکی جو سبق سیکھ سکتے ہیں، وہ بھی انمول ہے!‘‘

’’خواتین و حضرات! افغانستان ہماری طویل ترین جنگ ہے۔ اس ملک افغانستان میں ہماری سرمایہ کاری کی وسعت کی مثال ماضی میں کہیں نہیں ملتی۔ آج جب میں آپ سے مخاطب ہوں تو امریکہ ، افغانستان کی تعمیرِ نو پر 110 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ یہ رقم ایک خطیر اور کثیر رقم ہے۔ وہ سامعین جو اس رقم کا اندازہ کرنے کی کوشش کر رہے ہوں گے ، اجازت دیجئے کہ ان کے تصور (Concept) کو کچھ واضح کر سکوں۔۔۔ کسی ملک کی تعمیر نو کے لئے خرچ کی گئی یہ رقم امریکی تاریخ میں آج تک خرچ کی گئی سب سے بڑی رقم ہے۔ اگر افراطِ زر کا حساب شامل کر لوں تو یہ رقم (110ارب ڈالر) اس رقم سے بھی بڑی ہے جو جنگ عظیم دوم کے بعد مغربی یورپ کی بحالی پر خرچ کی گئی تھی اور جس کا نام ہم نے ’’مارشل پلان‘ رکھا تھا۔۔۔ اور اس بات کو بھی نگاہ میں رکھیئے کہ ابھی افغانستان میں ہمارا کام ختم نہیں ہوا۔ ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ ہم نے اور ہمارے اتحادیوں نے افغانستان کی بحالی پر آنے والے برسوں میں مزید اربوں ڈالر کے وعدے کر رکھے ہیں‘‘۔

’’خواتین و حضرات! میں آپ کی توجہ ایک اور جانب بھی مبذول کروانا چاہوں گا۔ اور وہ یہ ہے کہ اس خطیر رقم کو ’’درست طریقے‘‘ پر خرچ کرنے کا چیلنج خود اس رقم کے حجم سے بھی بڑا ہے۔ لیکن ہم یہ سب کچھ اس لئے کر رہے ہیں کہ افغانستان، مستقبل میں کہیں پھر سے عالمی دہشت گردی کو لانچ کرنے کے لئے ’’سپرنگ بورڈ‘‘ نہ بن جائے! ہم نے آج تک افغانستان کی جنگ میں ایک ہزار ارب ڈالر (One Trillion) خرچ کر دیئے ہیں،2200 امریکی جانوں کو ہلاک کروایا ہے اور اس سے کہیں زیادہ کو اپاہج بنوایا اور زخمی کروایا ہے۔۔۔ اس لئے جب تک ہم عوام کے ان اربوں ڈالر کے ٹیکس کا حساب کتاب ٹھیک نہیں رکھیں گے اور جب تک اس خطیر رقم کو خرچ کرنے کی صاف شفاف نگرانی نہیں کریں گے، تب تک اسی طرح کے ’’پراجیکٹوں‘‘ پر اسی قسم کی ’’سرمایہ کاری‘‘ کرتے رہیں گے۔۔۔ ان کی انتہا کیا ہوگی اس کا جواب میں آپ حاضرین و سامعین پر چھوڑتا ہوں۔‘‘

قارئین کرام! اس تمہید کے بعد جان سوپکو نے اپنی نصف گھنٹے کی تقریر میں امریکی کرپشن کا جو نقشہ کھینچا ہے، وہ چشم کشا ہے۔ اس تقریر کا ایک فقرہ یہ بھی ہے : ’’افغانستان کے ہمسائے پاکستان میں ایک پٹرول پمپ لگانے پر جو رقم صرف ہوتی ہے، وہ تین لاکھ سے پانچ لاکھ ڈالر تک ہے جبکہ افغانستان میں ویسا ہی پٹرول پمپ لگانے پر جو لاگت آتی ہے وہ پاکستانی لاگت سے 8000(آٹھ ہزار گنا) زیادہ ہے!‘‘

امریکہ، آج کل افغانستان کی بحالی اور تعمیر نو کے لئے جو کوششیں کررہا ہے اس کا کنیوس بہت وسیع ہے۔ جان سوپکو نے اپنی تقریر میں جا بجا امریکہ میں کرپشن کے جو اعداد و شمار دیئے ہیں وہ چشم کشا ہی نہیں، ہوشربا بھی ہیں۔ ان کے سامنے ’’پاکستانی کرپشن‘‘ پرِکاہ بھی نہیں! امریکیوں نے کرپشن کرنے، کرپشن نبھانے، کرپشن پالنے اور کرپشن کو جوان کرنے کے ایسے ایسے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں جن کی کوئی خبر ہنوز ہمارے ہاں ’’درآمد‘‘ ہی نہیں کی گئی۔ اس کی تفصیل کتاب کا مضمون ہے ،ایک دو کالموں میں نہیں سما سکتا۔اس لئے مناسب یہی ہے کہ اس باب کو مزید نہ کھولا جائے۔ بس یہی امید رکھی جائے کہ امریکی معاشرہ اگر اسی روش پر گامزن رہا تو ’’انشاء اللہ‘‘ اندر سے اتنا کھوکھلا ہوتا چلا جائے گا کہ ایک دن کریشن کر جائے گا!یہاں پہنچ کر ’’کاش‘‘ نہیں کہوں گا بلکہ عرض کروں گا:

خاموش باش نعمتؔ و رازِ حق مکن فاش

در سالِ ’’کُنتُ کِنزاً‘‘ باشد چنیں بیانہ

مزید : کالم