قومی مفاہمت کی ضرورت!

قومی مفاہمت کی ضرورت!

خطے میں امن کی کوششوں کے دوران جو اسرار بھرے حادثات ہو رہے ہیں، ان کی روشنی میں ملک کے اندر استحکام اور مفاہمت کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے اور اس حوالے سے یہ کہا جاتا ہے کہ جو با اختیار اور کچھ دے سکتا ہو اس کی ذمہ داری زیادہ ہوتی ہے، اسی حوالے سے وزیر اعظم نے رینجرز اختیارات کے تنازعہ کو بات چیت سے حل کرنے کے لئے سندھ کے وفد کو بلایا جو وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی قیادت میں ملا۔ مذاکرات کے بعد وزیر اعلیٰ نے توقع ظاہر کی کہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ اس کے بعد بیانات میں تلخی کم ہونا شروع ہو گئی اور یہ سلسلہ اب اس حد تک پہنچ گیا کہ سید قائم علی شاہ کے بعد مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے بھی رینجرز کی موجودگی اور اس کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ وفاق سے کوئی تنازعہ نہیں اور نہ ہی وفاقی حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے تو یہاں تک کہا وزیر اعظم کو تحفظات سے آگاہ کر دیا۔ مائی باپ سے بھی تو گلہ کیا جاتا اور تکلیف بتائی جاتی ہے۔ یہ ایک اچھی پیش رفت ہے، سندھ کراچی آپریشن کے حوالے سے بھی ایک حساس صوبہ ہے جبکہ صوبے کے اندر بھی متحارب سیاسی قوتیں ہیں۔ رینجرز کی خدمات کو سبھی سراہتے ہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب ڈاکٹر عاصم کو گرفتار کیا گیا اور یہ تاثر پیدا ہوا کہ ڈاکٹر عاصم کے توسط سے سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کارروائی مقصود ہے۔ آصف زرداری خود ’’علاج‘‘ کے لئے دوبئی رک گئے۔ ان کے علاوہ شرجیل میمن اور اویس ٹپی بھی باہر ہیں۔ ان کے نام بھی لئے جا رہے تھے چنانچہ سندھ حکومت اور پیپلزپارٹی نے رینجرز اختیارات کے حوالے سے اعتراض اٹھایا اور اسمبلی سے قرارداد بھی منظور کرالی یوں وفاق سندھ محاذ آرائی شروع ہو گئی تاہم فریقین کے تحمل نے اسے زیادہ بڑھنے سے روک دیا۔ رینجرز اپنے اختیارات کے تحت کام کر رہی ہے، وفاق کی طرف سے نوٹیفیکشن کے ذریعے اختیارات بحال کئے گئے تھے جس پر سندھ نے آئینی اعتراضات اٹھائے۔ اس سلسلے میں لفظی جنگ جاری تھی جو اب بتدریج مدھم ہوتی چلی گئی ہے۔ اب وزیر داخلہ نے سندھ جا کر اعتراضات کی روشنی میں تحفظات دور کرنا ہیں۔

ان دنوں خطے میں جو حالات ہیں ان کو سنبھالنے کی کوشش جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن شروع ہے اور ہمسایوں کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش بھی جاری ہے۔ اس میں بھی رکاوٹیں ہیں جن کو عبور کرنا لازم ہے۔ ان مخصوص حالات میں اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ ملک کے اندر استحکام ہو اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب تمام سیاسی جماعتیں اور عناصر تحمل اور بردباری کا مظاہرہ کریں۔ تنقید احسن انداز سے ہو اور تنقید کا جواب بھی مثبت طریقے سے دیا جائے۔ حکمران جماعت نے جو راستہ سندھ اور کراچی کے حوالے سے اپنایا اسے مجموعی طور پر اختیار کیا جائے۔ اس طرح ایک بہتر فضا قائم ہو گی تو اندرونی اور بیرونی مسائل اور خطرات سے نمٹا جا سکے گا۔ حکمرانوں پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اس لئے بہتر عمل ڈائیلاگ ہے پہلے بھی یہی گزارش کی اور اب بھی عرض ہے کہ وزیر اعظم اپنے ٹھنڈے انداز اور مزاج سے سب کو اعتماد میں لیں۔ پارلیمینٹ میں اور پارلیمینٹ سے باہر کی تمام جماعتوں کا اتفاق رائے لازم اور ضروری ہے۔ قومی مفاد کے لئے اس پر عمل ہونا ضروری ہے۔

مزید : اداریہ