سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی

سعودی عرب اور ایران میں کشیدگی

سعودی عرب نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کر دیئے ہیں اور ریاض میں تمام سفارتی عملے کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ سعودی وزیرخارجہ گزشتہ روز اسلام آباد کے دورے پر آنے والے تھے اس بحران کی وجہ سے انہوں نے اپنا دورۂ پاکستان منسوخ کر دیا ہے اور اب امکان ہے کہ وہ جمعرات (7جنوری)کو پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئیں گے۔ سفارتی تعلقات کے خاتمے کے اعلان سے پہلے گزشتہ روز ریاض میں ایرانی سفیر کو طلب کرکے تہران میں سعودی سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے کو جلائے جانے کے واقعہ پر احتجاج کیا گیا تھا دونوں ملکوں میں موجودہ کشیدگی کا آغاز شیعہ مبلغ نمربا قرالنمر کو دی جانے والی سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد ہوا، مجموعی طور پر 47 افراد کا سر قلم کیا گیا جن میں غیر ملکی بھی شامل تھے، ان پر الزام ہے کہ وہ مملکتِ سعودی عرب میں دہشت گردی میں ملوث تھے اور انہیں اسلامی قوانین کے تحت سزائیں دی گئیں۔ مشہد میں سعودی قونصل خانے کو جلائے جانے کے بعد سعودی عرب نے ردعمل کے طور پر ایرانی سفیر کو ملک چھورنے کا حکم دیا تھا، ابھی یہ سلسلہ جاری تھا کہ تہران میں سعودی سفارت خانے کو آگ لگا دی گئی جس پر سعودی عرب نے سفارتی تعلقات ختم کرنے کا انتہائی اقدام کر دیا۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تو ایران میں انقلاب کے بعد کبھی خوشگوار نہیں رہے۔امام خمینی نے اپنے فتوے میں جن پانچ حکومتوں کا تختہ الٹنے کی ہدایت کی تھی ان میں سعودی عرب بھی شامل تھا۔ بعد ازاں جب صدام حسین نے ایران پر حملہ کر دیا تو سعودی عرب نے عراق کی حمایت کی اور عملی طور پر مدد بھی کی اس وقت سے آج تک دونوں ملکوں کے تعلقات میں کسی نہ کسی مسئلے پر کشیدگی چلی آ رہی ہے، تاہم 1999ء میں ایرانی صدر محمد خاتمی کے سعودی عرب کے دورے سے تعلقات میں قدرے بہتری آئی، لیکن قلب ماہیت نہ ہو سکی،دلوں میں کشادگی پیدا نہ ہوئی۔ تازہ ترین مسائل میں شام اور یمن کا بحران ہے جس میں دونوں ملکوں کے موقف میں بُعدالمشرقین کی وجہ سے کہیں مقامِ اتصال نہیں آتا، یمنی باغیوں کو ایران کی حمایت حاصل ہے اور سعودی حکمرانوں کا خیال ہے کہ یمن کے راستے مملکت میں دہشت گردی ایکسپورٹ کی جا رہی ہے۔ دونوں ملکوں میں اختلافات اس وقت بھی ابھر کر سامنے آ گئے تھے جب حج کے موقع پر منیٰ میں بھگدڑ مچ جانے کی وجہ سے بہت سے حاجی شہید ہو گئے تھے جن میں ایرانی حجاج کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ایران نے اس پر نہ صرف سعودی حکمرانوں سے احتجاج کیا بلکہ یہ مطالبہ بھی داغ دیا کہ سعودی حکومت حج کے انتظامات نہیں کر سکتی تو یہ کام بین الاقوامی کمیٹی کو سونپ دیا جائے جبکہ سعودی حکمرانوں کا خیال تھا کہ بہترین حج انتظامات کے باوجود غلط راستے سے جانے والے حاجیوں کی وجہ سے یہ حادثہ پیش آیا تھا اور اس سلسلے میں انتظامات میں کوئی خرابی نہیں تھی۔

سعودی عرب کے وزیرخارجہ عادل الجبیر نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت سعودی عرب کی سلامتی کو خطرے میں ڈال رہی ہے۔ سعودی مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل شیخ نے 47 دہشت گردوں کو دی گئی سزائے موت کو اسلامی شرعی قصاص قرار دیتے ہوئے کتاب و سنت کے مطابق برحق قرار دیا، انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو موت کی سزائیں شریعت کے عین مطابق اور قصاص فی الاسلام کے تحت ہیں۔ قصاص اللہ کے بندوں کے لئے باعث رحمت ہے، کیونکہ سزا کے نفاذ سے ملک میں افراتفری، انارکی اور فساد فی الارض کی روک تھام میں مدد ملتی ہے۔ عالمِ اسلام اس وقت دہشت گردی کے دور سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں ہم سب کی اولین خواہش مسلم امہ میں امن و استحکام کے ساتھ ساتھ افرادکی زندگیوں ،عزت و ناموس اور اموال کا تحفظ ہے، لوگوں کی زندگیوں سے کھیلنے والوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ مصر کی سب سے بڑی دینی درسگاہ جامعہ الازہر کے علمانے بھی سزاؤں کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکومت نے اہم شرعی فریضہ ادا کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکامات کی تعمیل کی۔ دوسری جانب ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ العظمیٰ علی خامنہ ای نے سعودی عرب میں دی جانے والی سزاؤں پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ یہ سعودی عرب کی بڑی سیاسی غلطی ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ سعودی سیاست دانوں کو شیخ النمر کو ہلاک کرنے پر قدرت کی طرف سے سزا ملے گی اور اللہ کے غضب اور انتقام کا سامنا کرنا پڑے گا ،انہیں سعودی حکمرانوں کی مخالفت پر موت کی سزا دی گئی۔ انہوں نے کبھی کسی مسلح مہم کے لئے لوگوں کو اکٹھا کیا نہ کسی خفیہ منصوبے کاحصہ رہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے مظاہرین کی جانب سے تہران اور مشہد میں سعودی سفارت خانے اور قونصل خانے پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شیخ النمر کی سزائے موت سے فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھے گی۔ سعودی حکومت نے اس فعل سے دنیا بھر میں اپنا امیج خراب کر لیا۔ امریکہ نے بھی سزائے موت پر عملدرآمد کو تشویش کی نظر سے دیکھا اور کہا کہ موجودہ صورت حال میں فرقہ وارانہ کشیدگی کم کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکی ترجمان جان کربی نے خطے کے ملکوں پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کے خاتمے کے لئے اپنی کوششوں میں اضافہ کریں۔ سعودی عرب انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام مقدمات میں منصفانہ عدالتی کارروائی کرکے شفاف عمل کو یقینی بنائے۔اختلافِ رائے کے پُرامن حق کی اجازت دے اور تناؤ کم کرنے کے لئے کمیونٹی کے رہنماؤں سے مل کر کام کیا جائے۔ سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون نے کہا کہ وہ شیخ نمر باقرالنمرکی موت پر افسردہ ہیں۔ تمام علاقائی رہنما فرقہ واریت کے خاتمے کے لئے اقدامات کریں۔

اوپر کی سطور میں سعودی عرب اور ایران، امریکہ کا موقف تفصیل سے سامنے آ گیا ہے۔ تاہم اب خطے کے امن کا تقاضا ہے کہ کشیدگی کا موجودہ درجہ بڑھنے نہ دیا جائے اور حالات کو معمول پر لانے کے لئے اقدامات کئے جائیں۔ ایرانی صدر نے ان مظاہرین کی مذمت کی ہے جنہوں نے سعودی سفارت خانے پر حملہ کیا۔ کہا جاتا ہے کہ پٹرول چھڑک کر آگ لگانے والوں میں پاسدارانِ انقلاب کے نوجوان شامل تھے انہی نوجوانوں نے انقلاب کے بعد امریکی سفارت خانے پر حملہ اور بعد میں قبضہ کر لیا تھا اور امریکی عملے کو 444دن تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔کسی بات پر احتجاج اپنی جگہ درست ہو سکتا ہے تاہم سفارت خانوں پر حملوں میں اگر حکومتی اداروں کے لوگ ہی شامل ہوں تو سفارتی عملے کی حفاظت مشکل ہو جاتی ہے۔ تہران کا واقعہ پیش نہ آتا تو شاید سعودی عرب بھی اتنی جلدی تہران سے سفارتی تعلقات توڑنے کا انتہائی اقدام نہ کرتا، اب بھی امریکہ کا مشورہ صائب ہے کہ ان کوششوں کو دوچند کیا جائے جن کے ذریعے کشیدگی اور فرقہ وارانہ تنازعات کو کم کیا جا سکے۔ دونوں اسلامی ملک ہیں اور عالم اسلام میں ایک خصوصی اہمیت رکھتے ہیں ۔ اس لئے کشیدگی جتنی جلد ختم ہو جائے اور سفارتی تعلقات دوبارہ بحال ہو جائیں ،اتنا ہی بہتر ہے۔

مزید : اداریہ