ای۔پروکیورمنٹ: حکومتِ پنجاب کا شفافیت کی طرف ایک اور قدم

ای۔پروکیورمنٹ: حکومتِ پنجاب کا شفافیت کی طرف ایک اور قدم
 ای۔پروکیورمنٹ: حکومتِ پنجاب کا شفافیت کی طرف ایک اور قدم

  

پنجاب کے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف کرپشن اور بدعنوانی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے عملی اقدامات کر رہے ہیں۔اس مقصد کے لئے جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لایا جارہاہے۔دوسرے لفظوں میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ وزیر اعلیٰ کے ان خوابوں کی تعبیر میں اہم کردار ادا کر رہاہے۔ ڈاکٹر عمر سیف کی سربراہی میں پنجاب آئی ٹی بورڈ نے پنجاب کے محکموں میں شفافیت، خود احتسابی اور موثر نگرانی کو فروغ دینے کے لئے متعدد منصوبے شروع کئے ہیں۔ ان میں سٹیزن فیڈ بیک مانیٹرنگ پروگرام کو عالمی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ پنجاب میں کامیابی کے بعد ورلڈ بینک اس پروگرام کو یورپی ممالک البانیہ اور رومانیہ میں بھی متعارف کرا رہا ہے۔ سکولوں اور ہسپتالوں میں سمارٹ مانیٹرنگ سے حاضری کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور فرضی معائنوں کا خاتمہ ہوا ہے۔ ای۔خدمت مراکز میں ڈومی سائل، شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر بنیادی خدمات کی کمپیوٹرائزیشن نے جہاں رشوت ستانی کی کمر توڑی ہے وہاں خدمات کا معیار بھی بہتر ہوا ہے۔پولیس میں رپٹ اورایف آئی آرکے کمپیوٹرائزڈ اندراج سے شفافیت اور کارکردگی میں اضافہ ہوا ہے۔ ای۔ویکسی نیشن پروگرام کے تحت سمارٹ فون کا استعمال بچوں کو ویکسین کی فراہمی میں کافی بہتری لایا ہے۔

حال ہی میں وزیر اعلیٰ کی ہدائت پر پی آئی ٹی بی نے ای۔پروکیورمنٹ کے نام سے ایک اور اہم منصوبہ شروع کیا ہے جس کے تحت سرکاری محکموں میں کی جانے والی ہر قسم کی پروکیورمنٹ کے تمام مراحل کواس طرح کمپیوٹرائزڈ کیا جا رہا ہے کہ سابقہ نظام میں پائی جانے والی خامیوں پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور سرکاری سطح پر خدمات، ٹھیکوں اورخریداری کا عمل کافی حد تک شفاف ہو جائے گا ۔ شفافیت اور بدعنوانی کے خاتمے کے لئے یہ اتنا اہم اقدام ہے کہ ورلڈ بینک نے فوری طور پر اس کی معاونت پر رضامندی ظاہر کر دی ہے جبکہ پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کا تعاون بھی پی آئی ٹی بی کو حاصل ہے۔اس مقصد کے لئے ایک جامع پروگرام پر تیزی سے کام جا ری ہے تاہم ابتدائی طور پرپی آئی ٹی بی نے ایک لاکھ روپے تک کی پروکیورمنٹ کو آن لائن کر دیا ہے، جسے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن،محکمہ قانون، پنجاب پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی،پنجاب ریسورس مینجمنٹ پروگرام اور پی آئی ٹی بی میں رائج کر دیا گیا ہے۔اس نظام کے تحت ایک لاکھ روپے تک کی خریداری آن لائن ہو گی۔پی آئی ٹی بی کے ماہرین نے اس نظام کو چلانے کے لئے مذکورہ محکموں کے متعلقہ عملے کو تربیت بھی فراہم کر دی ہے۔

پی آئی ٹی بی کے چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف کے مطابق بہت جلد باقی محکموں میں بھی اسے رائج کیا جا رہا ہے جبکہ حکومت کی تمام پروکیورمنٹ آن لائن کرنے کے لئے عالمی بینک اور پیپرا کے تعاون سے جامع نظام تیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے سابقہ نظام کی خامیوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پہلے ٹھیکہ دینے والا عملہ بآسانی کاغذی ریکارڈ میں ردو بدل کر کے من پسند کمپنیوں کو ٹھیکہ دے سکتا تھا بلکہ ایک لاکھ روپے تک کی پروکیورمنٹ کا عمل تو اتنا آسان تھا کہ اس کے لئے صرف تین کوٹیشنوں کی ضرورت ہوتی تھی۔ عام طور پر جس کمپنی کو ٹھیکہ دینا مقصود ہوتا اسی کو کہا جاتا کہ وہ اپنے علاوہ دو دیگر کوٹیشنوں کا بندو بست بھی کرے۔اس طرح جعل سازی سے دیگر دو کوٹیشنوں میں زیادہ رقم درج کر کے اپنی کمپنی کے لئے ٹھیکہ حاصل کر لیا جاتا۔ اس سارے عمل میں شامل سرکاری عملہ کورشوت یا کمیشن دینے کے امکانات بھی ہوتے، لیکن اب ایسا ممکن نہیں کیونکہ اسے اپنا قومی ٹیکس نمبر سسٹم میں درج کرنا پڑے گا اور ایک ٹھیکے کے لیے ایک کمپنی کی طرف سے صرف ایک ہی کوٹیشن جمع ہو سکے گی۔ اس نظام کا ایک اور فائدہ یہ ہے کہ ویب سائیٹ پر ہی ہر محکمہ اپنے مطلوبہ ٹھیکوں کی تفصیل فراہم کرے گا۔ اسی جگہ درخواست ٹائپ کرنے اور سسٹم میں جمع کرانے کی سہولت موجود ہوگی،مقررہ تاریخ گزر جانے کے بعد سسٹم خود بخود تقابلی رپورٹ تیار کر ے گا اور جس کا ریٹ سب سے کم ہو گا اسے آن لائن ٹھیکہ تفویض ہو جائے گا۔اب بولی دہندگان کو دفتروں کے چکر لگانے اور وہاں عملے کو رشوت دینے کی ضرورت نہیں ،بلکہ وہ اپنے دفتریا گھر میں بیٹھ کر ہی مطلوبہ ہدایات پر عمل کر کے ٹھیکہ حاصل کر لے گا۔ اس طرح مڈل مین کا کردار ختم ہو جائے گا اور بدعنوانیوں کی نذر ہونے والی رقم سرکاری خزانے کوبچ جائے گی، جیسا کہ یہ نظام بھارت اور بنگلہ دیش میں کامیابی سے چل رہا ہے، جہاں سرکاری خزانے کو25فیصد تک بچت ہو رہی ہے۔اس سلسلے میں عالمی بینک کے کنسلٹنٹ مسٹر پال رونالڈ شیپر اور سینئر پروکیورمنٹ سپیشلسٹ عظمیٰ صدف نے بھی گذشتہ ماہ پنجاب آئی ٹی بورڈ کا دورہ کیا ،جہاں چیئرمین ڈاکٹر عمر سیف نے منصوبے پرتفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ پی آئی ٹی بی پہلے سے ہی اس منصوبے پر کام کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے سابقہ کاغذی نظام ختم ہو جائے گا اور سرکاری ٹینڈرزکی تشہیر، درخواست گزاری،تقابلی جائزہ ، ٹھیکوں کی عطائیگی اور اجرت کی ادائیگیوں سمیت تمام مراحل آن لائن ہونگے۔

عالمی بینک کی ٹیم نے اس منصوبے کے لئے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہا کہ اس سے پروکیورمنٹ کے نظام میں پائی جانے والی موجودہ خامیوں کا سدِ باب ہو گا اور نتیجتاًعوام کو بہتر سرکاری خدمات ملنے کے ساتھ ساتھ اس ضمن میں پائی جانے والی بدعنوانیوں پر قابو پانے میں بھی مدد ملے گی۔ بولی کے عمل میں شفافیت آئے گی اور عالمی اداروں کے مطلوبہ معیار کی بھی تکمیل ہوگی۔پی آئی ٹی بی نے ای۔پروکیورمنٹ کے لئے ٹریننگ کے ساتھ سرکاری ویب سائٹ ۔۔۔ www.eprocurement.pitb.gov.pk ۔۔۔کا اجرا ء بھی کر دیا ہے جس پر ٹینڈرز کی تمام تفصیل اور رجسٹر ہونے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔خواہشمند کمپنیاں یا افراد اس ویب سائیٹ پر رجسٹر ہو کر آن لائن بولی میں حصہ لے سکتے ہیں ، دیگر سرکاری محکمے جو اس طریقہء کار کو اپنانا چاہتے ہیں وہ پی آئی ٹی بی سے رابطہ کرکے لاگن(Login) آئی ڈی اور پاس ورڈ حاصل کر سکتے ہیں ۔

مزید : کالم