ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے ٹیکس چوروں اور ملی بھگت کرنے والی بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی ہو گی، پاکستان اکانومی واچ

ٹیکس ایمنسٹی سکیم سے ٹیکس چوروں اور ملی بھگت کرنے والی بیوروکریسی کی حوصلہ ...

لاہور(آن لائن) ٹیکس ایمنسٹی سکیم ایف بی آر کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔اس سے ٹیکس چوروں اور ملی بھگت کرنے والی بیوروکریسی کی حوصلہ افزائی ہو گی۔ ٹیکس چوروں کو کالا دھن سفید کرنے میں مدد دینے کا سلسلہ بند کیا جائے ۔حکومت کے فیصلہ سے پتہ چلتا ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ پھیلانے، مراعات یافتہ شعبوں کے خلاف کاروائی، ناجائز اثاثے ضبط کرنے کیلئے مناسب قانون سازی اور غیر ملکی بینکوں میں موجود اربوں ڈالر کی واپسی کے سلسلہ میں اقدامات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی جس سے ملک ہمیشہ ملکی و غیر ملکی قرضوں کا محتاج رہے گا۔ ان خیالات کااظہار پاکستان اکانومی واچ کے صدر ڈاکٹر مرتضیٰ مغل نے آن لائن سے خصوصی گفتگو میں کیا۔

ایک سوال کے جواب میں مرتضی ملک نے کہا کہ ایسے فیصلوں سے اصلاحات جنکی رفتار پہلے ہی سست ہے دم توڑ دیتی ہیں۔ڈاکٹر مرتضیٰ مغل کے مطابق اس سکیم سے نہ تو حکومت کی آمدنی بڑھے گی، نہ ٹیکس نیٹ کو توسیع ملے گی اور نہ ہی بجٹ خسارہ کم ہو گا۔اس طرح کی سکیموں سے مسائل کو وقتی طور پر حل کرتے ہیں جبکہ معاشرے میں کرپشن کو تقویت ملتی ہے ۔ ہمیں ایسے ٹیکس نظام کی ضرورت ہے جوصنعت و تجارت کو نقصان پہنچائے بغیر حکومت کی آمدنی میں اضافہ کرنے کے علاوہ دولت کی منصفانہ تقسیم ، فوائد کی عوام کو منتقلی اور معاشرے کے کمزور طبقات کی دیکھ بھال کو یقینی بنائے۔ بعض شعبوں پر ضرورت سے زیادہ ٹیکس اور دیگر کو بے جا مراعات دینے اور ایماندار ٹیکس گزاروں کی جائز شکایات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ معیشت کے سارے نظام کو زمین بوس کر رہا ہے۔ جب تک ارباب اختیار ٹیکس کے منصفانہ نظام کے لئے اقدامات نہیں کریں گے ہمارا کوئی مستقبل نہیں ہو گا۔ڈاکٹر مغل نے کہا کہ ٹیکس چوروں کے لئے معافی کی سکیمیں بھگت کا نتیجہ ہیں۔ اسکے علاوہ زیر زمین معیشت اورقیاس آرائی پر مبنی تجارت کی سرپرستی، کثیر القومی کمپنیوں کے ہتھکنڈوں کو نظر انداز کرنااور حکومت کا بڑھتا حجم بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ عوامی نمائندوں کو ٹیکس کے معاملات سے دور رکھنا، نا اہل غیر ملک ماہرین پر دارو مدار، غریبوں پر ٹیکس میں اضافہ جبکہ اشرافیہ پر کمی کی وجہ سے ملک بے روزگاری، بد امنی ،سرمائے اور اثاثہ جات کے فرار، سرمایہ کاری میں بھی کمی اور بین الاقوامی عدم اعتماد کا سبب ہے۔(اشفاق رحمانی)

مزید : کامرس