صنعتکار یورپی یونین کو بلا خوف و خطر برآمدات جاری رکھیں: خرم دستگیر

صنعتکار یورپی یونین کو بلا خوف و خطر برآمدات جاری رکھیں: خرم دستگیر

اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر تجارت انجینئر خرم دستگیر خان نے کہا ہے کہ جی ایس پی پلس کی مراعات دس سال کیلئے دی گئی ہیں، ایکسپورٹرز یورپی یونین کو برآمدات بغیر شکوک و شبہات جاری رکھیں، ان مراعات میں خاتمے یا کمی کی افواہوں میں کوئی صداقت نہیں، جی ایس پی پلس یکم جنوری 2014ء سے 31 دسمبر 2023ء تک بلا تعطل جاری رہے گا، اس سلسلے میں پاکستان اپنی تمام تر قانونی ذمہ داریوں سے عہدہ برا ہو رہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر نے جی ایس پی پلس کے دو سال مکمل ہونے پر جاری کردہ ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی تجارت میں مسلسل کمی کے باوجود پاکستان کی برآمدات کو جی ایس پی پلس کی بدولت خاصا استحکام ملا ہے۔ جی ایس پی پلس فریم ورک کے تحت پاکستان اور یورپی یونین کے مابین پائیدار ترقی کیلئے شفاف اور تعمیری تعاون میں مزید اضافہ ہوا ہے جس کا یورپی یونین کے حکام متعدد بار اعتراف کر چکے ہیں۔ جی ایس پی پلس کیلئے پاکستان نے اقوام متحدہ کے 27 کنونشن پر عمل درآمد کیلئے ادارے قائم کر دیئے ہیں جن میں وزیراعظم آفس کے تحت کام کرنے والا ادارہ ٹریٹی امپلی منٹیشن سیل سرفہرست ہے جس کے سربراہ اشتر اوصاف ہیں۔ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق اور ہائی کورٹس میں انسانی حقوق کے سیل کا قیام بھی ملک میں انسانی حقوق کی بہتری کیلئے قابل تحسین اقدام ہیں۔ مزید برآں نیشنل فریم ورک برائے انسانی حقوق بھی تیاری کے حتمی مراحل میں ہے۔

اکتوبر اور نومبر 2015ء میں پاکستان نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کنونشن پر عمل درآمد سے متعلق متعلقہ اداروں کو رپورٹس بھی جمع کروا دی ہیں۔ یورپی کمیشن یورپی پارلیمنٹ اور ممبر ممالک کیلئے ایک رپورٹ تیار کر رہا ہے جس میں جی ایس پی پلس کے ذریعے تجارت میں اضافے اور انسانی حقوق پر عمل درآمد کیلئے کی گئی قانونی اور انتظامی کاوشوں سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔ اس میں پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق لئے گئے اقدامات کی تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ معاشی، تجارتی اور سوشل سیکٹرز میں تعمیری تعاون جاری رکھے گا۔

مزید : کامرس