گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ مستان سنگھ کی درخواست ضمانت پر حکومت اور پراسیکیوشن سے جواب طلب

گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ مستان سنگھ کی درخواست ضمانت پر حکومت ...

لاہور ( نامہ نگار خصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے گوردوارہ پربندھک کمیٹی کے سابق سربراہ مستان سنگھ کی درخواست ضمانت پر پنجاب حکومت اور محکمہ پراسیکیوشن سے جواب طلب کرلیا ہے۔جسٹس مظہر اقبال سدھو کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے رخواست ضمانت پر کیس کی سماعت کی۔ مستان سنگھ کے ہمراہ درجنوں سکھ بھی عدالت میں پیش ہوئے۔عدالت میں مستان سنگھ کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ متروکہ وقف املاک کے چیئرمین صدیق الفاروق اور پربندھک کمیٹی کے موجودہ صدر شام سنگھ نے لینڈ مافیا کے ساتھ مل کر گردوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب کی سیکڑوں کنال اراضی ہاؤسنگ سکیم کے لئے فروخت کی جس کے خلاف سکھ برادری نے احتجاجی مظاہرہ کیا تو صدیق الفاروق اور سردار شام سنگھ نے سکھ برادری کو دباؤ میں لانے کے لئے ان کے خلاف پاکستان کے خلاف نفرت پھیلانے، دہشت گردی اور دیگر سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرادیا جو جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ وکیل نے استدعا کی کہ مستان سنگھ کی درخواست ضمانت منظور کی جائے، مقدمے کے مدعی شام سنگھ کے وکیل طارق بشیر اعوان نے بنچ کو آگاہ کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش محکمہ انسداد دہشت گردی کو منتقل ہو چکی ہے اس لئے تفتیش مکمل ہونے تک ضمانت کی درخواست پر فیصلہ نہ کیا جائے۔جس پر عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد محکمہ پراسیکیوشن اور پنجاب حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آج 5 جنوری کوجواب طلب کر لیا۔ عدالتی کارروائی کے بعد سکھ برادری نے ہائی کورٹ کے احاطہ میں چیئرمین متروکہ وقف املاق صدیق الفاروق کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی بھی کی۔

مزید : صفحہ آخر