ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی سے اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا: سیاسی، مذہبی، عسکری امور خارجہ ماہرین

ایران اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی سے اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا: ...

لاہور(محمد نواز سنگرا،شہزاد ملک)سعودی عرب کا ایرانی سے سفارتی تعلقات کا بائیکاٹ کرنا مسلم امہ کیلئے باعث پریشانی ہے،جس سے دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔دنوں مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی عدم مداخلت نہایت ضروری ہے ،وقت کو جانچتے ہوئے پاکستان کو دونوں ممالک کے درمیان صلح کرانی چاہیے۔اسلامی ممالک کی ایک کانفرنس وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں سعودی عرب اور ایران کی کشیدگی سمیت مشرق وسطیٰ کے تمام ممالک کے درمیان مسائل کو حل کیا جائے۔ان خیالات کا اظہار ملک کے سیاسی،عسکری،مذہبی اور خارجہ امور کے ماہرین نے روز نامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔سابق وفاقی وزیر خارجہ سردار آصف احمد علی نے کہا ہے کہ شیعہ ،وہابی اور سنی کی تفریق ختم ہونی چاہیے اور سعودی عرب کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہیں جس سے مسلم امہ مضبوط ہو ،کسی ایک فرقے کے تسلط کی کوشش کسی لحاظ سے درست نہیں ہے۔سعودی عرب اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقا ت ختم کرنے کے حوالے سے پاکستان کو دور رہنا چاہیے کیونکہ مشرق وسطیٰ کے مسائل ناقابل حل ہیں اور پاکستان پہلے بھی اپنی جنگ لڑ رہا ہے ۔سابق امریکی سفیر عابدہ حسین نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کی عدم مداخلت میں ہی فائدہ ہے۔ ایک شیعہ عالم کو سعودی عرب کی طرف سے سزا دینے کے مشرق وسطیٰ ایران،عراق،شام،اردن اور دیگر ممالک پر منفی اثرات مرتب ہو ں گے۔جنرل(ر)جمشید ایاز نے کہا کہ سعودی عرب اور ایران دونوں مسلم ممالک ہیں ان کی کشیدگی سے اسلام دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔سفارتی تعلقا ت ختم نہیں کرنے چاہیں تھے بات چیت سے مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔پاکستان کو آگے بڑھ کر دونوں کے درمیان صلح کرانی چاہیے۔برگیڈئیر (ر)اسلم گھمن نے کہا کہ دونوں مسلم ممالک کے درمیان کشیدگی میں پاکستان کا کردار نیوٹرل ہونا چاہیے۔دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کے حل کیلئے مسلم دنیا کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ ان واقعات سے عالم اسلام میں دراڑ مزید گہری ہوگئی ہے جس کا فائدہ بلاشبہ اسلام دشمن قوتیں اٹھائیں گی اگر بھارتی ایما ء پر بنگلہ دیش میں اسلامی رہنماؤں کی سزائے موت پر عملدرآمد روکنے کیلئے عالمی برادری اور عالم اسلام کردار ادا کرتا تو آج اسلامی دنیا اس صورت حال سے دو چار نہ ہوتی اس صورت حال پر ترکی اور پاکستان الگ تھلگ رہنے کی بجائے سعودی عرب ایران کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپناکردار ادا کریں وگرنہ یہ آگ ان دونوں ممالک میں بھی حالات کو انتہائی تلخی کی طرف لے جائے گی۔جے یو پی کے مرکزی صدر پیر اعجاز ہاشمی نے کہا کہ دونوں ممالک کو چاہئے کہ وہ ایشوز کو کسی کشیدگی کی طرف لیجانے یا پھر کوئی جنگی کیفیت پیدا کرنے کی بجائے مل بیٹھ کر ایک با مقصد ٹیبل ٹاک سے مسلےء کو حل کریں اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو پھر اس صورت حال سے مسلم ممالک اغیار کے لوگ بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں گے جس کا امہ کو بہت زیادہ نقصان ہو گا اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو بات چیت سے حل کیا جائے۔

مزید : صفحہ آخر