باپ کے قاتلوں کو سزا دلوانے کیلئے انصاف کی بھیگ مانگتے 15 سال گزر چکے ،شوکت علی

باپ کے قاتلوں کو سزا دلوانے کیلئے انصاف کی بھیگ مانگتے 15 سال گزر چکے ،شوکت علی

 لاہور(کامران مغل)باپ کے قاتلوں کو سزاء دلوانے کے لئے عدالتوں سے انصاف کی بھیک مانگتے آج 15سال سے گزرچکے ہیں ،سیشن عدالت میں صرف تاریخیں ملتی ہیں انصاف کا پتہ نہیں کب ملے گا۔مذکورہ مقدمہ کے ملزمان بھی تاحال اشتہاری ہیں جبکہ پولیس نے بھی مقدمہ کا چالان ابھی تک پیش نہیں کیا ہے ۔غریب آدمی ہوں ،مزید پیشیاں نہیں بھگت سکتا ،مقدمہ کا فیصلہ کرکے میری عدالتوں میں دھکے کھانے سے جان چھڑائی جائے ۔چچاکے قتل کے مقدمہ کی سماعت پرسیشن کورٹ جانے کے لئے گھر سے نکلتے ہی صبح سویرے مخالف گروپ کے 3بھائیوں سمیت دیگر نے راستے میں پہلے میرا باپ کو اغواء کیا ،بعد میں فائرنگ کرکے قتل کرنے کے بعد نعش گاڑی سمیت چھوڑ کر فرار ہوگئے ۔پاکستان کی جانب سے "ایک دن ایک عدالت "کے سلسلے میں کئے جانے والے سروے کے دوران ڈاھیانوالہ اعوان کا رہائشی شوکت علی اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان سناتے ہوئے روپڑا، متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس کے چچاکو دیرینہ دشمنی کی بنا پر قتل کردیا گیا تھا جس کامقدمہ تھانہ جنوبی چھاؤنی میں مقدمہ نمبر210/96میرے والد معراج دین کی مدعیت میں درج تھا ۔19اپریل 2001ء کو جب وہ اپنے والد معراج دین کے ہمراہ مذکورہ مقدمہ کی تاریخ پیشی کے لئے گھرسے تقریباساڑھے 6بجے نکلا،گھر سے کچھ فاصلے پر پہلے سے گھات لگائے بیٹھے ویگن نمبر ی 7668/FPJپر سوار ملزمان تین بھائی شاہد ،منور اوربابر علی نے اپنے دیگر ساتھیوں سے مل کر زبردستی میرے والد کو اغواء کرلیا تاہم اسی دوران میرا کزن صابر بھی پہنچ گیا جس کے بعد ہم نے ویگن کا تعاقب شروع کردیا ،اسی دورا ن ملزمان نے فائرنگ کردی ،بعدازاں ملزمان میرے والد کو خون میں لت پت گاڑی سمیت چھوڑ کرفرار ہوگئے ، فوری طبی امداد کے لئے اسے ہسپتال لے جایا گیا جہاں وہ چند گھنٹے زندگی وموت کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد دم توڑ گیا ۔بعدازاں پولیس نے مذکورہ ملزمان کے خلاف میری مدعیت میں تھانہ برکی میں مقدمہ نمبر103/2001درج کرلیا۔ متاثرہ شخص کا مزید کہناتھاکہ وہ اپنے والد کے قاتلوں کو سزاء دلوائے بغیر چین سے نہیں بیٹھے گا اور سفاک قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچا کرہی دم لے گا۔ مذکورہ مقدمہ کے حوالے سے مقدمہ مدعی کے وکلاء نے بتایا کہ اس کیس کی سماعت اب ایڈیشنل سیشن جج عامر شہباز میر کی عدالت میں جاری ہے اور اس کیس کی مزید سماعت اب 6جنوری کوہوگی ۔ وکلاء کا مزید کہنا تھا کہ ظلم کی انتہا ہے کہ ایک شخص جس کا والد قتل کردیا گیا ہو اور وہ گزشتہ 15سال سے انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھارہاہو اس پر کیا گزررہی ہوگی؟۔ستم بالا ستم یہ ہے کہ مذکورہ مقدمہ میں ملوث ملزمان بھی تاحال اشتہاری ہیں جن کی گرفتاری نہ ہونا بھی پولیس حکام کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے ، انہوں نے کہا کہ زیادہ تر مقدمات التواء کا شکار اس لئے ہوتے ہیں کہ پولیس کی جانب سے بروقت عدالتوں میں چالان پیش نہیں کئے جاتے ،جس کی وجہ سے سائلین بروقت انصاف کی فراہمی سے محروم رہتے ہیں۔

ایک دن ایک عدالت

مزید : علاقائی