2015 میں نیب کی کارگردگی ایف آئی اے پولیس اور اینٹی کرپشن سے بہتر رہی

2015 میں نیب کی کارگردگی ایف آئی اے پولیس اور اینٹی کرپشن سے بہتر رہی

لاہور( لیاقت کھرل ) سال 2015میں کرپشن ،لوٹ مار اورقومی خزانہ کونقصان پہنچانے کے خلاف کاروائی کرنے والے اداروں میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی کارکردگی ایف آئی اے اور محکمہ پولیس سمیت اینٹی کرپشن سے بہتر رہی، نیب پر اعتماد اورشکایات کی شرح میں42 سے 45فیصداضافہ رہاہے جبکہ محکمہ پولیس کے پاس 25سے 30فیصد شہری شکایات لے کر گئے۔ ایف آئی اے نے محض انسانی سمگلروں کی گرفتاری کی جانب اپنی توجہ مرکوزکیے رکھی جبکہ اینٹی کرپشن کے محکمہ کی کارکردگی تھانیدار اورپٹواری سے آگے نہ بڑھ سکی ۔ نیب کے چیئرمین چودھری قمرالزمان کی تعیناتی سے نیب کی پہلی بار کرپشن کے خلاف عوام میں آگاہی مہم کامیاب رہی اور بالخصوص یونیورسٹیوں،کالجوں اور سکولوں میں آگاہی مہم سے نوجوانوں میں کرپشن کے خلاف بیداری سے نیب کا عوام کی نظروں میں اعتماد بڑھا ہے جس سے جہاں کرپشن کے گراف میں کمی واقع ہوئی ہے وہاں نیب کوسال2015میں سال 2013اورسال2014ء کی نسبت کرپشن،مالی بے ضابطگیوں اوربے قائد گیوں کے خلاف شکایات دُگنا موصول ہوئی ہیں جس سے نیب کی کارکردگی نمایاں رہی ہے۔ سال 2015ء میں نیب نے رینٹل پاور پر وجیکٹ سکینڈل میں اربوں روپے مالیت کی کرپشن پر مزید 9ریفرنس تیار کئے گئے۔ مضاربہ سکینڈل میں 22 ارب کی ریکوری سمیت لینڈ فراڈ میں اربوں روپے کی ریکوری کی گئی ہے اور نیشنل ٹرانمیشن اینڈ ڈسٹری بیوشن کمپنی کے چیف انجینئر عنایت حسن کو ٹرانسفارمرز کی خریداری میں 13ارب روپے کی کرپشن میں گرفتار کیا۔لینڈ مافیا کے خلاف آپریشن میں 118کنال اراضی کے سب سے بڑے سکینڈل عبدالواحد اور عرفان احمد کو گرفتار کیا گیا ۔ ڈبل شاہ سکینڈل اور کرمانوالہ ہاؤسنگ سکیم کے 200سے زائد متاثرین میں اربوں روپے تقسیم کیے گئے۔ نیب حکام کے مطابق سال2015میں کرپٹ اوربد عنوان عناصر کی گرفتاری کے لیے سپیشل ٹاسک فورس کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جس میں 110تربیت یافتہ افسروں کو تعینات کیا گیاہے، دوسری جانب نیب کے علاقائی دفاتر میں نیب پنجاب کی کارکردگی پہلے نمبر پر رہی ہے جس میں ڈی جی نیب پنجاب میجر (ر) سید برہان علی شاہ کی نگرانی میں نیب پنجاب کو سال 2015ء میں سیاست دانوں، بیوروکریسی اور دیگر کرپٹ عناصر کے خلاف 4753 شکایات موصول ہوئیں، 600 سے زائدانکوائریوں پر تحقیقات کو مکمل کیا۔نیب پنجاب نے 156کرپٹ اوربدعنوان ملزمان کو گرفتار کیا۔جبکہ206 انکوائریوں پر تحقیقات مکمل کر کے ریفرنس کی شکل دی گئی، جس میں سے 95 سکینڈلز میں تحقیقات کو حتمی شکل دے کر ریفرنس تیار کرکے عدالتوں میں پیش کئے گئے ہیں اور120 انکوائریوں کو انوسٹی گیشن کی شکل دی گئی، جبکہ 86 انکوائریوں پر نیب تحقیقات کر رہا ہے ۔ نیب پنجاب نے کرپٹ عناصر سے دوران انکوائری رضاکارانہ سکیم کے تحت 300 ملین کی ریکوری کی جبکہ گرفتار ملزمان سے دوران تفتیش پلی پارگیننگ سکیم کے تحت 1166 ملین کی رقم ریکوری کیلئے منظور کی، جس میں سے ملزمان سے 716 ملین روپے کی ریکوری کی ہے۔ اس طرح رینٹل پاور پر وجیکٹ اور پنجاب کے ایک صوبائی وزیر کے خلاف کرپشن کی شکایات سمیت سیاسی شخصیات اور بیوروکریسی کے خلاف گھیرا تنگ رہا، جبکہ کرپشن کے خلاف عوام میں آگاہی مہم سے رقم کو ڈبل کرنے کا جھانسہ دے کر منافع خوروں کے فراڈ میں کمی آئی ہے اور کرپشن کے خلاف آگاہی مہم سے بالخصوص نوجوان طبقہ میں بیداری پیدا ہوئی ہے۔ رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ کرپشن کے خلاف نیب کی کارکردگی دیگر احتساب کرنے والے اداروں سے بہتر رہی ہے جس میں نیب نے ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور پولیس کو پیچھے چھوڑا ہے، جبکہ سال 2016ء میں بھی نیب نے کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف اپنی مہم کو تیز رکھنے کا عزم کر رکھا ہے۔ جس سے کرپٹ اور بدعنوان عناصر میں نیب کا خوف پایا جانے کے بارے تاثردیا گیا ہے۔ اس حوالے سے نیب پنجاب کے ڈی جی سید برہان علی شاہ نے کہا ہے کہ سال 2016ء میں بھی کرپٹ اور بدعنوان عناصر کے خلاف بڑ ے پیمانے پر کریک ڈاؤن جاری رہے گا۔ کرپشن اور بدعنوانی کے خلاف سیمینارز اور آگاہی مہم کو مزید تیز کیا جائے گا۔کرپٹ اور بدعنوان عناصر کے خلاف شکایات کے لئے ٹال فری نمبر دیا جا رہا ہے جبکہ رنگے ہاتھوں گرفتاری کے شعبہ کو بحال کیا جا رہا ہے۔ کرپٹ اور بدعنوان کے خلاف ریفرنس اور گرفتاری کے لئے سپیشل سکواڈز قائم کر دئیے گئے ہیں۔ جس سے نیب پر عوام کا اعتماد بڑھے گا اور بدعنوان اور کرپٹ کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

نیب کی کارکردگی

مزید : علاقائی