سراج الحق کی کرپشن فری پاکستان مہم۔ درست سمت میں ایک قدم

سراج الحق کی کرپشن فری پاکستان مہم۔ درست سمت میں ایک قدم
سراج الحق کی کرپشن فری پاکستان مہم۔ درست سمت میں ایک قدم

  

جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان کے لئے ایک تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہر حال یہ ایک خوش آئند اعلان ہے۔ جس پر امیر جماعت اسلامی سراج الحق اور ان کی ٹیم کو خراج تحسین ہی پیش کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت ملک میں کرپشن کے حوالہ سے ایک عجیب سا ماحول بنا ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی تو کرپشن کے خلاف ہر اقدام کو انتقامی کارروائی ہی سمجھتی ہے۔ اس لئے انہوں نے نا معلوم ہاتھوں کی جانب سے کرپشن کے خلاف شروع کی گئی مہم کی ہر سطح پر نہ صرف مخالفت کی ہے۔ بلکہ اس کو اپنے ساتھ نا انصافی قرار دیا ہے۔ اے این پی بھی کسی قسم کے احتساب کے خلاف ہے۔ ان کے دور میں تو ان کی جماعت کے ذمہ داران کو ایزی لوڈ جیسے خطاب ملے ہیں۔ اس لئے ان کے خلاف بھی جب کرپشن کے حوالہ سے کوئی کارروائی کی جاتی ہے تو اے این پی بھی پیپلزپارٹی سے کم احتجاج نہیں کرتی۔ ایم کیو ایم بھی کرپشن کوکوئی خاص برائی نہیں سمجھتی۔ یہ درست ہے کہ انہیں کرپشن کے حوالے سے کراچی سے باہر کوئی موقع نہیں ملا ہے۔ ان کو ملنے والی وفاقی وزارت پورٹس و شپنگ کا دائرہ اختیار بھی کراچی تک ہی محدود تھا۔ اس لئے ان کی کرپشن کی داستانیں بھی کراچی کے حوالہ سے زبان زد عام ہیں۔ گھوسٹ ملازمین پانی کی فروخت بھتہ خوری سب ہی کرپشن کی اقسام ہیں۔ اسی طرح جے یو آئی (ف) بھی کرپشن کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک کے حق میں نہیں ہے۔ ویسے تو مولانا فضل الرحمٰن کی جماعت کی خصوصیت ہی یہی ہے کہ وہ ہر دور میں کسی نہ کسی طرح حکومت میں شمولیت کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ اسی طرح اس جماعت کے افراد پر بھی کرپشن کے بیش بہا الزامات ہیں۔ باقی رہ گئی بلوچستان کی جماعتیں ۔ تو یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ بلوچستان میں کسی حد تک کرپشن کو قانونی ہی سمجھا جا تا ہے۔ وہاں کرپشن کے حوالہ سے کارروائی ایک بہت مشکل کام ہے۔ کیونکہ وہ اس کو غلط ہی نہیں سمجھتے تو اس کی روک تھام کیسی۔ بلوچستان کے حوالہ سے ایک موقف یہ بھی سامنے آتا ہے کہ بڑی مشکل سے تو لوگوں کو سیاسی عمل میں شریک کیا جا رہا ہے۔ اب اگر ان کے خلاف کرپشن کے تحت کارروائی کی جائے گی تو وہ سیاسی عمل سے دور ہو جائیں گے جو ملک کے مفاد میں نہیں۔ اس طرح وہاں کرپشن کے حوالہ سے ایسے دلائل موجود ہیں کہ ایسا تاثر ملتا ہے کہ اگر بلوچستان میں کرپشن کے حوالہ سے کوئی کارروائی کی گئی تو ملک کو نقصان ہو گا۔ اس لئے اگر بلوچستان کے سیاستدانوں کو پاکستان کا وفادار رکھنا ہے تو انہیں کم از کم کرپشن کی اجازت تو دینی ہو گی۔ اسی طرح سندھ میں کرپشن کے خلاف کسی بھی قسم کی کاروائی کو پاکستان کے خلاف ہی سمجھا جاتا ہے۔ سب جاگیردار کرپشن کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک کے خلاف متحد نظر آتے ہیں۔ باقی رہ گئی تحر یک انصاف تو یہ اس کا پہلا دور حکومت ہے۔اس کی جماعت میں شامل لوگوں پر ان کے ماضی کے حوالہ سے تو کرپشن کے الزامات موجود ہیں۔ لیکن تحریک انصاف بھی کرپشن کے حوالہ سے ڈبل سٹینڈرڈ کا شکار ہے۔ اس نے کے پی کے میں پہلے آفتاب شیر پاؤ کی جماعت کے ساتھ اتحاد اس لئے ختم کیا کہ ان کے وزراء کرپٹ تھے۔ لیکن سیاسی ضروریات کے تحت چند ماہ بعد ہی یہ اتحاد دوبارہ کر لیا۔ صرف اس ایک عمل سے ہی یہ سمجھنا کافی ہے کہ تحریک انصاف کے لئے کرپشن اہم یا سیاسی ضروریات۔ کیسے کرپٹ لوگ سیاسی ضرورت کے تحت ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح کرپشن کے خلاف کسی بھی قسم کی تحریک میاں نواز شریف کی سیاسی و انتظامی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔ ایسے سیاسی ماحول میں جماعت اسلامی کی جانب سے کرپشن کے خلاف تحریک چلانے اور کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لگانا یقیناًایک خوش آئند اقدام ہے۔

ویسے تو ملک میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والے سب سے بڑے ادارے نیب کے سربراہ نے بھی اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ ان کے ادارے میں بھی کرپشن موجود ہے۔ اس اعتراف نے کرپشن کے خلاف تحریک کا راستہ روکنے والے لوگوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں۔ اسی طرح یہ کہنا کسی بھی طرح غلط نہ ہو گا کہ سابق صدر آصف زرداری کا یہ موقف بھی غلط نہیں ہے کہ من پسند احتساب بھی کرپشن ہے۔

جماعت اسلامی کو کم از کم یہ کریڈٹ تو جا تا ہے کہ اس کی مرکزی قیادت میں سے کسی پر بھی کرپشن کا کو ئی الزام نہیں۔ یہ بھی جماعت اسلامی کا کریڈٹ ہے کہ یہ ملک کی واحد جمہوری سیاسی جماعت ہے۔ جہاں ووٹ کی طاقت سے قیادت کا انتخاب ہو تا ہے۔ جہاں موروثیت نہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ایک غریب آدمی ہیں۔ دو کمروں کے گھر میں رہتے ہیں۔ وہ تو خود کہتے ہیں کہ جب وہ اپنے ہم عصر سیاستدانوں کو ملتے ہیں تو وہ خود کو ان میں نہ صرف اجنبی سمجھتے ہیں بلکہ سراج الحق کو ان کے ملازم بھی اپنے سے زیادہ خوشحال لگتے ہیں۔ ایسے میں صرف جماعت اسلامی ہی کرپشن فری پاکستان کے خلاف مہم چلا سکتی ہے۔

گو کہ جماعت اسلامی نے کرپشن فری پاکستان کی مہم چلانے کا اعلان تو کر دیا ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کی قیادت اس ابہام کا شکا ر ہے کہ ان کی اس مہم کا فائدہ کہیں وہ قوت نہ اٹھا لے۔ جو کرپشن کے نام پر ملک میں جمہوریت کا بستر گول کرنا چاہتی ہے۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اگر جماعت اسلامی کرپشن فری پاکستان کی مہم ایک مربوط اور بھر پور طریقہ سے چلائے گی تو ملک میں جمہوریت کمزور نہیں مضبوط ہو گی۔ کرپشن کے نام پر ملک میں جمہوریت کا بستر گول کرنے والوں کامقدمہ بھی کمزور ہو جائے گا۔ ویسے بھی اگر بھارت میں ایک اکیلا شخص انا ہزارے اپنی پر امن تحریک سے کرپشن کے حوالہ سے بھارتی پارلیمنٹ کوقانون سازی پر مجبورکر سکتا ہے۔ تو جماعت اسلامی تو ایک مکمل بھر پور سیاسی جماعت ہے۔ اس کے لئے تو یہ کام نسبتا آسان ہو نا چاہئے۔ ہماری جماعت اسلامی سے درخواست ہے کہ اپنے تمام کارکنوں کو ہر قسم کی کرپشن کی تحقیق پر لگا دیں۔ کرپشن کی ہر داستان کو منظر عام پر لائیں۔ اور سراج الحق اگر کرپشن فری پاکستان کو ہی اپنا واحد نعرہ بنا لیں تو یقیناًان کی عوامی پذیر ائی میں بہت اضافہ ہو گا۔

مزید : کالم