سعودی عرب میں گھروں سے بھاگ جانے والی لڑکیوں پر تحقیق، انتہائی پریشان کن انکشاف سامنے آگیا

سعودی عرب میں گھروں سے بھاگ جانے والی لڑکیوں پر تحقیق، انتہائی پریشان کن ...
سعودی عرب میں گھروں سے بھاگ جانے والی لڑکیوں پر تحقیق، انتہائی پریشان کن انکشاف سامنے آگیا

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) سعودی عرب میں گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں کے متعلق کی گئی ایک تحقیق میں اس سنگین سماجی مسئلے کے انتہائی تشویشناک پہلو سامنے آگئے۔ عرب نیوز کے مطابق یہ تحقیق یونیورسٹی آف ام القراءکے ماہرین نے کی جس میں معلوم ہوا کہ مملکت میں گھر سے بھاگنے والی لڑکیوں میں سے تقریباً 96 فیصد سعودی ہیں، جبکہ تقریباً 4 فیصد غیر ملکی ہیں۔ گھر چھوڑنے والی لڑکیوں میں سے تقریباً 52 فیصد یونیورسٹی کی طالبات ہیں، تقریباً 36 فیصد ہائی سکول، اور تقریباً 12 فیصد مڈل سکول کی طالبات بھی ان میں شامل ہیں۔

مزید پڑھیں: وہ ملک جہاں ائیرہوسٹس بننے کی خواہشمند ہزاروں نوجوان لڑکیوں کو شرمناک کام پر مجبور کر دیا گیا، دنیا میں ہنگامہ

گھر سے فرار ہونے والی لڑکیوں کی عمر کے بارے میں جمع کی گئی معلومات کے مطابق تقریباً 54 فیصد 17 سے 21 سال کی ہیں، جبکہ تقریباً 27فیصد کی عمر 22 سے 26 سال ہے، اور تشویشناک امر یہ ہے کہ ان میں سے تقریباً 15 فیصد ایسی ہیں کہ جن کی عمر 16 سال سے بھی کم ہے۔

تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ ہر بچے کا حق ہے، اور جو بچے ان بنیادی ضروریات کی کمی کے شکار ہوتے ہیں ان میں عدم تحفظ کا احساس پیدا ہوجاتا ہے اور وہ بڑے ہوکر گھر چھوڑنے کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ ماہرین نے تحقیق کے دوران یہ بھی معلوم کیا کہ سوشل میڈیا کا غلط استعمال، بری صحبت، بیرونی کلچر کی اندھا دھند تقلید اور والدین کا سخت اور تشدد پر مبنی سلوک لڑکیوں کے گھروں سے بھاگنے کی بنیادی ترین وجوہات میں شامل ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس