خواتین پر تشدد

خواتین پر تشدد

دفتروں اور کاروباری اداروں میں خواتین کو ہراساں کرنے اور گھروں میں عورتوں پر تشدد کرنے والے مردوں کی فطرت میں درندگی کا عنصر کچھ زیادہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ عنصر زیادہ ہو تو پڑھائی لکھائی اور جہالت ایک ہی صف میں کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ عورت مرد کے ہم پلہ نہیں ہے۔ جسمانی طور پر کمزور ہے۔ بعض افعال کی ادائیگی میں جو مردوں کا خاصہ ہیں، ہمت نہیں رکھتی۔ اپنی چند کمزوریوں کے باوجود عورت نصف بہتر ہے، زندگی کے دو پہیوں میں سے ایک ہے۔ کائنات کا حسن ہے، زندگی کی رونق ہے اور قوم و ملک کی ترقی اور فلاح و بہبود میں وہی اہمیت رکھتی ہے جس کی مردوں سے توقع کی جاتی ہے۔

ہم موضوع کی طرف دوبارہ لوٹتے ہیں۔ یہ موضوع ہے عورتوں کو ہراساں کرنا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنانا۔ ان دونوں قباحتوں کے حوالے سے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں کوئی تخصیص نہیں ہے۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ ہراساں اور تشدد کرنا ان پڑھوں، جاہلوں اور احساس کم تری رکھنے والے لوگوں گا عمل ہے بلکہ پڑھے لکھے اور با شعور لوگ بھی اس قبیح عادت میں مبتلا پائے گئے ہیں۔

حال ہی میں ایک قومی ٹی وی چینل نے ایک ایسے گھرانے میں دخل اندازی کی جس میں ایک خاتون اپنے شوہر کے ہاتھوں بے پناہ ظلم کا شکار بن رہی تھی۔ اس کے بال کاٹ دیئے گئے اور اس کی بھنویں مونڈ دی گئی تھیں۔ خاتون کا چہرہ زخموں کے نشان لئے ہوئے تھا اور اس کا ایک بازو زخمی ہونے کے باعث بندھا ہوا تھا۔ شروع شروع میں تو اس عورت نے اپنے شوہر کی حمایت میں بیان دیا لیکن جونہی اس کے وحشی خاوند کو وہاں سے دور کیا گیا وہ عورت ٹوٹ گئی اور اس نے خود پر ہونے والے تشدد اور مظالم کی ایک ہوش ربا داستان سنائی۔ یہ داستان کسی پتھر دھات کے زمانے میں بسنے والے لوگوں کی نہیں تھی بلکہ ایک جیتے جاگتے اور بھرے پُرے شہر کا واقعہ تھا۔ اہل محلہ روزانہ عورت کی چیخیں اور واویلا سنتے تھے لیکن کسی کو ہمت نہیں پڑتی تھی کہ معاملہ کی جانچ پڑتال کرے۔ وہ تو بھلا ہو اس چینل کا کہ جس کے بے خوف کارکنوں نے ایک مظلوم عورت کو بے بسی، بے کسی اور اذیت بھری زندگی سے نجات دلا دی۔

یہ صرف ایک شہر کی کہانی نہیں ہے۔ ہر روز اس ملک کے دیہاتوں، قصبوں اور شہروں میں ایسے کتنے ہی واقعات رونما ہوتے ہیں لیکن دب جاتے ہیں۔ ہمارا معاشرہ رفتہ رفتہ اپنے خول میں بند ہو رہا ہے۔ نفسا نفسی کے دور میں انفرادی مفادات کو اہمیت دی ہے۔ لوگ معاشرتی اصلاح اور بہبود کو فرد کی نہیں حکومت کی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ برائی کو ہاتھ سے روکنا تو دور کی بات ہے اب زبان سے بھی بُرا نہیں کہتے۔ دنیا کا کوئی مذہب عورت پر تشدد کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن مار پیٹ تو ایک طرف عورت کے بدن اور روح کو اس طرح داغ دار کیا جاتا ہے کہ اس کو ایک نظر دیکھنے والے عام لوگ بھی کانپ اُٹھتے ہیں۔

میرا مشاہدہ ہے کہ لوگوں میں برداشت کا مادہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ ذاتی کمزوریوں، محرومیوں، نا آسودہ خواہشوں اور طبیعت میں عدم برداشت کے باعث ہی بیشتر لوگ عورتوں پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔ عورت بے چاری بہت سے سماجی وسوسوں کے خوف سے ظلم سہتی ہے اور عادی ہو جاتی ہے۔ ہمت والی عورتیں جو وقت پر صحیح فیصلہ اور موزوں اقدام کرتی ہیں اس جہنم سے نکل آتی ہیں اور نئی زندگی کی شروعات میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔

میں سمجھتی ہوں کہ خواتین کو زیور تعلیم سے ہر ممکن طور پر آراستہ ہونا چاہئے۔ ایک پڑھی لکھی خاتون اپنے حقوق و فرائض سے بخوبی آگاہ ہوتی ہے۔ علم نیکی ہے اور جہالت بدی۔ علم قوت عطا کرتا ہے، ایسی قوت جو زندگی کے سفر میں آنے والے خطرات کا سامنا کرنے میں مدد دیتی ہے۔ علم اپاہج بننے سے بچاتا ہے اور ظلم و اذیت سے لڑنے کا حوصلہ بخشتا ہے۔

عورتوں پر ظلم و تشدد صرف نچلے طبقے ہی میں پھیلا ہوا مرض نہیں ہے بلکہ اس کی بھیانک مثالیں اونچے طبقے میں بھی پائی جاتی ہیں۔ میرے علم میں اشرافیہ کے ایسے کئی گھرانے ہیں جہاں عورتوں پر تشدد کو مردانگی اور فوقیت و بالا دستی کی نشانی سمجھا جاتا ہے۔ عورتیں بے چاری اپنی عزت اور اپنے خاندان کے نام کی خاطر خاموش رہتی ہیں۔ وہ چپ چاپ ظلم سہتی ہیں اور اپنی چیخوں کو اپنے سینوں ہی کے اندر دبا لیتی ہیں۔ جسمانی اذیت کے ساتھ ساتھ وہ روحانی کرب سے بھی دو چار ہوتی ہیں۔

یہ المیہ ہے اس معاشرے کا جس کے بڑوں نے اس ملک کے قیام کے وقت دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی تھی اور جان و مال اور عزت کی قربانیاں دی تھیں۔

اب حکومت نے بڑھتی ہوئی شکایات کے پیش نظر قانون سازی شروع کی ہے۔ ادارے وجود میں لائی ہے۔ سزاؤں کو مشتہر کیا ہے لیکن اصل کام معاشرے کے ذمہ دار اور درد دل رکھنے والے اصحاب کے ذمہ ہے۔ جب تک وہ فعال نہیں ہوں گے یہ سماجی برائی پنپتی رہے گی اور بے بس خواتین کو جسمانی اور روحانی اذیت میں مبتلا کرتی رہے گی۔ عورتوں کو ہراساں کرنا اور تشدد کا نشانہ بنانے کا جرم صرف قانون بن جانے سے ختم نہیں ہوگا بلکہ اس پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہوگا۔ ارد گرد کے لوگوں کو بھی ہمت کر کے آواز بلند کرنا ہو گی اور درندہ صفت انسانوں کے اس مشغلے کو سختی سے روکنا ہوگا۔

ہمارے وطن کی عام عورتوں نے بہت پریشانیاں سہی ہیں۔ آزادی سے پہلے بھی وہ مویشیوں کی طرح زندگی گزارتی تھیں اور آزادی کے بعد بھی وہ مویشیوں ہی کی طرح جی رہی ہیں۔ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں وہ فعال کردار ادا کر سکتی ہیں اگر اپنے حقوق کا ادراک کریں اور اپنے فرائض سے آگاہی حاصل کریں۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...