پانچ وفود رواں ماہ یورپی ممالک کا دورہ کریں گے‘ پاکستان فرنیچر کونسل

پانچ وفود رواں ماہ یورپی ممالک کا دورہ کریں گے‘ پاکستان فرنیچر کونسل

لاہور(کامرس رپورٹر) ملک کے نمایاں فرنیچر برآمد اور درآمد کنندگان کے پانچ وفود رواں ماہ یورپی ممالک کا دورہ کریں گے تاکہ ان ممالک کے ساتھ کاروباری اور تجارتی تعلقات کو فروغ دیا جا سکے۔ اس حوالے سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان فرنیچر کونسل کے چیف ایگزیکٹو میاں کاشف اشفاق نے بتایا کہ نئے سال کے پہلے ماہ میں یہ وفود اٹلی، پرتگال، جرمنی، ڈنمارک اور برطانیہ کے دورے کریں گے اور پاکستانی فرنیچر کی برآمد اور ان ممالک کے ساتھ جدید مہارتوں، نئے ڈیزائنوں میں شراکت داری کو فروغ دینے کے مواقع کی تلاش کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وفود پاکستانی فرنیچر میں دلچسپی رکھنے والے غیر ملکی خریداروں کی ضروریات اور رجحانات کا جائزہ لیں گے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستانی فرنیچر کی جدت، مضبوطی اور لکڑی کے اعلیٰ معیار کی وجہ سے بیرون ممالک میں اس کی بڑی مانگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے تجارتی شراکت دار یورپی یونین کو برآمدات کا زیادہ بڑا حصہ ٹیکسٹائل، کپڑے اور چمڑے کی مصنوعات پر مشتمل ہے جبکہ بڑی درآمدات میں مکینیکل اور الیکٹریکل مشینری اور ادویات شامل ہیں مگر پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تجارتی حجم بھارت کے مقابلہ میں متاثر کن نہیں ہے۔ پاکستان کی تجارتی برادری کو یورپی مارکیٹ کا جائزہ لے کر اسے مسخر کرنے کی ضرورت ہے اور پاکستان فرنیچر کونسل اس کیلئے کوشش کر رہی ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ غیرملکی تیارکنندگان کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کے اجراء اور جدید مشینری کے استعمال سے پاکستانی فرنیچر کو عالمی معیار پر لاکر اس صنعت میں انقلاب برپا کیا جا سکتا ہے اور اس کیلئے ضروری ہے کہ فرنیچر کو کاٹیج اور سمال انڈسٹری کے دائرہ سے نکال کر اس سے وابستہ افرادی قوت کو جدید فنی تربیت فراہم کی جائے۔

اور اسے ایک جدید انڈسٹری کے طور پر فروغ دیا جائے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان میں ایسی کوئی عالمی سطح کی معروف مارکیٹ نہیں ہے جس سے دنیا بھر کو پاکستانی مصنوعات اور ان کے معیار کے حوالے سے آگاہی مل سکے اور جو انہیں پاکستان کی طرف مائل کر سکے۔ اس لئے ضروری ہے کہ حکومت ٹریڈ مارکیٹس کو فروغ دینے کیلئے کاروباری اداروں کی حوصلہ افزائی کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی مصنوعات کو عالمی مارکیٹوں میں متعارف کروانے کیلئے یورپی ممالک میں تجارتی نمائشوں کا اہتمام انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یورپ پاکستانی ٹیکسٹائل مصنوعات کے سب سے بڑی منڈی ہے تاہم حکومت کو دیگر مصنوعات کی طرف بھی توجہ دینی چاہیے، پاکستان میں زیادہ تر فرنیچر ہاتھ سے بنا اور انتہائی سستا ہے جسے یورپی یونین ممالک میں مہنگے داموں فروخت کیا جا سکتا ہے۔ میاں کاشف اشفاق نے کہا کہ پاکستان فرنیچر کونسل ڈنمارک، فن لینڈ، آئس لینڈ، ناروے اور سویڈن میں نئی فرنیچر مارکیٹوں میں بھی دلچسپی لے رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 میں پاکستان اور یورپی یونین درمیان تجارتی حجم 10.5 ارب یورو تھا تاہم ان 7 نارڈک ممالک کے ساتھ تجارتی حجم صرف150 ملین یورو رہا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں موجود مواقع کے پیش نظر پاکستان فرنیچر کونسل نارڈک ممالک کو فرنیچر مصنوعات کی برآمدات بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔

مزید : کامرس


loading...