دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج کی قربانیاں

دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج کی قربانیاں
 دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پاک فوج کی قربانیاں

  


پاک فوج نے 2016ء کے دوران بھارت کی جانب سے سیزفائرکی خلاف ورزیوں اورمسلح افواج کی کارکردگی اورکارروائیوں کے بارے میں’’ 2016ء کا سفر محفوظ اورپرُامن ہم سب کا پاکستان ‘‘کے نام سے جاری کردہ رپورٹ میں کہا ہے کہ بھارت کی طرف سے ایک سال میں لائن آف کنٹرول اورورکنگ باؤنڈری پرسیزفائرکی 379 خلاف ورزیاں کی گئیں۔ اس دوران 40 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے۔ بھارتی فائرنگ سے 46 پاکستانی شہری شہیدہوئے۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے حوالے سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق دوہزارسولہ میں 870 کلومیٹر روڈ نیٹ ورک مکمل کئے گئے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کراچی آپریشنز کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے کہا کہ مجموعی طور پر 1992ء آپریشنز کئے گئے جن کے دوران2847 جرائم پیشہ افراد جبکہ 350 دہشت گرد گرفتار کئے گئے، اس عرصے کے دوران 446 ٹارگٹ کلرز کو گرفتار کیا گیا اور شہرمیں ٹارگٹ کلنگ کی شرح میں 91 فیصدکمی ہوئی اور دہشت گردی کے واقعات 72 فیصد کم ہوگئے۔

فوجی عدالتوں کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ274 مجرموں کوسزائیں سنائی گئیں جن میں سے 161 کو سزائے موت جبکہ 113 کو قید کی سزائیں سنائی گئیں 12 مجرموں کوپھانسی دی گئی۔ ضرب عضب کے باعث عارضی طور پر بے گھر ہونے والے افراد میں سے شمالی وزیرستان کے 71فیصد جنوبی وزیرستان کے 69 فیصد ،خیبرایجنسی کے91فیصدجبکہ مجموعی طور پر 82 فیصد افراد اپنے علاقوں میں واپس چلے گئے۔ 2016ء میںآپریشن ضرب عضب کے دوران سیکیورٹی فورسزکے 583افسر اورجوان شہیداور 2108زخمی ہوئے جبکہ 3300دہشت گردہلاک ہوئے۔انٹیلی جنس کی بنیاد پر اور کومبنگ آپریشن کی مجموعی تعداد25620تھی، جن میں سے پنجاب میں 11735،بلوچستان میں294، سندھ میں646، خیبرپختوانخوا اورفاٹا میں 4077 جبکہ گلگت بلتستان میں465 آپریشنز کئے گئے۔ اس دوران دہشت گردوں کے 992 ٹھکانے تباہ کئے گئے، جبکہ بارودی سرنگیں اوراسلحہ بنانے کی 7599فیکٹریاں تباہ کی گئیں 18087ہتھیاربرآمدکئے گئے اور 253ٹن دھماکہ خیزمواد تباہ کیاگیا۔

فاٹا اورخیبر پختونخوا میں مجموعی طورپرسماجی واقتصادی شعبے کے 567منصوبے شروع کئے گئے اور930کلومیٹرروڈ نیٹ ورک مکمل کیاگیا۔دوسپورٹس سٹیڈیم اور وانا میں 54کلومیٹرٹرانسمیشن لائن بچھائی گئی جبکہ بابرکروزاوررعدمیزائل کامیابی سے داغے گئے۔ 2016ء کے دوران پاکستان نیوی نے اینٹی شپ میزائل ضرب کاکامیاب تجربہ کیازمین سے زمین پر مار کرنے والے اینٹی شپ میزائل اصلت لانچ کیاگیاپاکستان نیوی نے چوکسی اورآپریشنل تیاریوں کاثبوت دیتے ہوئے پاکستانی حدود میں داخل ہونیوالی سب میرین کاپتہ چلاکراسے آگے بڑھنے سے روک دیا،سی پیک میری ٹائم سیکیورٹی کے لئے ٹاسک فورس 88کاقیام عمل میں لایا گیا جبکہ پاکستان ایئرفورس کی کارکردگی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ آپریشن ضرب عضب میں مدد کرتے ہوئے پی اے ایف نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کونشانہ بنایا۔ فضائیہ کی استعداد بڑھانے اورانسداد دہشت گردی آپریشنز کے لئے ایئرپاورسنٹر آف ایکسیلنس کاسنگ بنیاد رکھا گیا۔ پاکستان ایئرفورس کے سی ون تھرٹی طیارے نے پچاس ممالک کے مابین برطانیہ میں ہونے والے رائل انٹرنیشنل ٹیٹوشومیں بہترین ایئرکرافٹ ٹرافی جیتنے کااعزازحاصل کیا۔نائیجیریا کو مشاق طیاروں کی فراہمی کے لئے دفاعی سمجھوتہ طے پایا۔

برطانوی جریدے میں شائع مضمون میں کہا گیا ہے کہ صرف چند برس قبل پاکستان تخریبی کارروائیوں سے متاثرہ ایک خطرناک ملک تھا جہاں طالبان موجود تھے اور بین الاقوامی خفیہ اداروں کا خیال تھا کہ اسلام آباد سے صرف 100 کلومیٹر کی دوری پر طالبان کے گڑھ موجود ہیں جو پاکستان کے نیوکلیائی پروگرام پر گھات لگائے ہوئے تھے لیکن اب صورتحال بہت بہتر ہے ۔ پاکستان میں گزشتہ 2 برسوں میں دہشت گردی میں تین چوتھائی ( 75 فیصد) کمی واقع ہوئی ہے اور پاکستان 15 سال قبل امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی دہشت گردی کے خلاف جنگ سے قبل کے پرُسکون مقام پر آچکا ہے۔ 2 کروڑ سے زائد آبادی والا شہر کراچی تخریب کاری سے سلگ رہا تھا جہاں اب امن قائم ہوچکا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ کراچی میں طالبان اور دیگر گروپ اغوا، منشیات فروشی اور بھتہ خوری میں ملوث تھے جو شہر میں ایک صنعت کا درجہ اختیار کرچکی تھی، لیکن نواز شریف حکومت نے رینجرز کو کراچی میں وسیع تر اختیارات دیئے جس سے سیاست اور جرم کا نیٹ ورک کمزور ہوا۔ مضمون کے مطابق 2013 ء میں کراچی میں 2 ہزار 789 ہلاکتیں ہوئی تھیں لیکن 2016ء کے 11 ماہ میں یہ تعداد 592 ہے جبکہ کہ 2013ء کے مقابلے میں کراچی میں بم دھماکوں، بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان میں بھی زبردست کمی ہوئی ہے۔ انٹرنیشنل کرائم انڈیکس نامی ایک تنظیم نے 2013ء میں کراچی کو دنیا کا چھٹا خطرناک شہر قرار دیا تھا اور اب یہ 31 ویں نمبر پر ہے۔ آپریشن ضرب عضب کو سراہتے ہوئے کہا کہ شمالی وزیرستان میں بھرپور آپریشن کیا گیا اور طالبان کا صفایا کیا گیا۔ ضربِ عضب نے القاعدہ اور طالبان کی خفیہ پناہ گاہوں کو ختم کرکے ان کی کمر توڑنے میں کلیدی کردارادا کیا۔ اس جنگ میں 3500 طالبان دہشت گرد مارے گئے۔ ان کی 992 پناہ گاہیں تباہ کی گئیں اور 3600 مربع کلومیٹر کا علاقہ صاف کیا گیا، جبکہ اس میں پاکستانی فوج کے 500 سے زائد فوجی شہید ہوئے۔

مزید : کالم


loading...