کروڑوں کی آمدنی کے باوجود عرس فرید پر فنڈز جاری نہیں کئے جاتے ، وسیب کے صوفیا کرام سے بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے،ظہور دھریجہ

کروڑوں کی آمدنی کے باوجود عرس فرید پر فنڈز جاری نہیں کئے جاتے ، وسیب کے صوفیا ...

ملتان (سٹی رپورٹر)خواجہ فرید کے عرس میں کابینہ کے کسی رکن کا شرکت نہ کرنا افسوسناک ہے، سرائیکی وسیب کے عام آدمی کے ساتھ وسیب کے صوفیاء کرام سے بھی امتیازی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سرائیکستان قومی کونسل کے صدر ظہور دھریجہ نے زائرین کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اُنہوں نے کہا خواجہ فرید کے عرس پر اندرون و بیرون ملک سے ہزاروں عقیدت مند شریک ہوئے ہیں ، محکمہ اوقاف پنجاب کے پاس خواجہ فرید مزار کی وقف اراضی 72 ہزار ایکڑ ، سینکڑوں دکانات ، مکانات اور باغات ہیں مگر عرس پر فنڈز جاری نہیں کئے جاتے وجہ یہ ہے کہ خواجہ فرید صوفی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ سرائیکی کے عظیم شاعر ہیں اور انہوں نے قابض قوتوں کے خلاف بغاوت کا پیغام دیا ہے۔ ظہور دھریجہ نے کہا خواجہ خواجہ فرید کا عرس اب سرائیکی قوم کا عظیم اجتماع بن چکا ہے۔ اسی طرح سجادہ نشین خواجہ معین الدین محبوب کوریجہ کی طرف سے رائیکی رہنماؤں کے ساتھ جماعت اسلامی کے امیر مولانا سراج الحق اور مولانا فضل الرحمن کو بلانا اچھی بات ہے ۔ اس موقع پر منظور جتوئی ، شہزاد فرید،زبیر دھریجہ ، فرید جانی، اجمل دھریجہ ، ایم سلیم ، ذیشان نون ، رانا عامر نون اور دوسرے موجود تھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...