سپریم کورٹ نے تشدد کا شکار کمسن لڑکی کےراضی نامے کی رپورٹ طلب کر لی ، یوٹیلیٹی سٹورز پر ناقص تیل کی فرو خت پر ازخودنوٹس

سپریم کورٹ نے تشدد کا شکار کمسن لڑکی کےراضی نامے کی رپورٹ طلب کر لی ، ...

 اسلام آباد(اے این این ) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایک ہی دن میں دو دو از خود نوٹس لے لئے، یوٹیلیٹی اسٹورز پر کھانے کا ناقص تیل فروخت کرنے پر سیکرٹری صنعت و پیداوار اور ایم ڈی یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کو نوٹس جاری کردئیے جبکہ سیشن جج کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والی کمسن لڑکی کے راضی نامے کی رپورٹ طلب کرلی۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ملک میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر کھانے کے ناقص تیل کی فروخت پر از خود نوٹس لیا ہے از خود نوٹس آزاد کشمیر کے شہر میرپور کی انجمن تاجران کے صدر کی درخواست پر لیا گیا ہے ۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ملک میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر غیر معیاری تیل فروخت کیا جا رہا ہے جو کہ پاکستان کے فوڈ آرڈیننس کی خلاف ورزی ہے درخواست گزار نے درخواست کے ہمراہ قومی ادارہ صحت کی متعلقہ رپورٹ بھی پیش کی ہے از خود نوٹس کیس کی سماعت (آج)جمعرات کو ہو گی۔ دوسری جانب چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد کی اہلیہ کے ہاتھوں تشدد کا شکار ہونے والی کمسن لڑکی اور سیشن جج کی اہلیہ کے درمیان ہونے والے راضی نامے کی رپورٹ بھی طلب کرلی ہیں ۔ واضح رہے کہ گھریلو ملازمہ طیبہ کے والدنے مقدمے کو بے بنیاد قرار دے کر راضی نامہ کر لیا تھا،عدالت نے ایڈیشنل سیشن جج کی اہلیہ کی 30ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظورکرلی تھی۔ بچی نے مجسٹریٹ کو بیان میں بتایا تھا کہ اس پر تشدد ہوتا ، کھانا نہیں دیا جاتا تھا، ٹینکی کیساتھ اندھیرے کمرے میں سلادیاجاتا تھا۔بچی نے بتایا تھا کہ جھاڑو گم ہونے پر اسے مار پڑی تھی، مالکن نے ہاتھ جلتے چولہے پر رکھے تھے اور چائے بنانے والی ڈوئی سیدھے منہ پر دیماری تھی، جس کے نشانات ننھی طیبہ کے جسم پر واضح تھے۔بچی نے بیان میں کہا تھا کہ دو سال سے جج راجا خرم علی خان کے گھر کام کرتی ہے مگر اس دوران والدین ملنے نہیں آئے صرف باہر ہی باہر پیسے لے لیتے تھے۔

مزید : صفحہ اول


loading...