علاج نہ معالجہ ، ایمر جنسی وارڈز یا قتل گاہیں ، مریض بے یارومدد گار

علاج نہ معالجہ ، ایمر جنسی وارڈز یا قتل گاہیں ، مریض بے یارومدد گار

لاہور(جنرل رپورٹر)محکمہ صحت کی دو حصوں میں تقسیم بھی ہسپتالوں کے حالات بہتر نہیں کر سکی۔مریض کو بیڈز میسر ہوئے نہ مفت علاج معالجہ اور نہ ہی سنئیر ڈاکٹر ز نتیجتاً ایمر جنسیوں میں مریضوں کی شرح اموات میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔ایمر جنسیوں میں جونئیرڈاکٹر کے تجربات سے دن بھر ایک گھنٹے میں کئی کئی اموات سامنے آتی ہیں دوسری طرف محکمہ صحت کے نئے ڈھانچے کے قیام کے بعد ہر مریض کے ٹیسٹ پر فیس عائد کر دی گئی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق مریضوں کی شرح اموات میں سب سے زیادہ اضافہ جناح ہسپتال،دوسرے پر لاہور جنرل ہسپتال،تیسرے نمبر پر پی آئی سی اور چوتھے نمبر پر میو ہسپتال آگئے ہیں۔یہ انکشافات سپیشل برانچ کی طرف سے وزیر اعلیٰ پنجاب کو پیش کی جانے والی رپورٹ میں کیے گئے ہیں۔جس میں کہا گیا ہے کہ صوبائی دارالحکومت سمیت صوبہ بھر میں واقع ٹیچنگ اور ضلعی ہسپتالوں میں حالات محکمہ صحت کی دو حصوں میں تقسیم کے بعد بھی معمول پر نہیں آسکے اور نہ ہی کوئی بہتری آسکی ہے۔صوبہ کے دور دراز ڈسٹرکٹ اور تحصیل ہسپتالوں میں رات کو ایمر جنسی یونٹ ایک ایک ڈاکٹر چلاتا ہے وہی سرجن اور فزیشن کے فرائض سر انجام دیتا ہے ان ہسپتالوں کی مشینری50سے60فیصد خراب ہے وہاں کے ڈاکٹروں نے پرائیویٹ ہسپتال بنا رکھے ہیں اور اپنے ہسپتال اور کلینک چلا رہے ہیں ۔سرکاری ہسپتالوں میں صرف چکر لگاتے ہیں ان ہسپتالوں میں ان ڈور ادویات میسر ہیں نہ آؤٹ ڈور میں ۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاہور سمیت صوبہ کے بڑے شہروں میں واقع ٹیچنگ ہسپتالوں میں بھی کوئی تبدیلی نظر نہیں آتی ایک ایک بیڈ پر کئی کئی مریض داخل کر کے علاج کیا جاتا ہے سب سے برے حالات ایمر جنسی یونٹوں میں ہیں یہاں انتہائی جونئیر ترین ڈاکٹرز فرائض سرا نجام دیتے ہیں سنئیر ز ایمرجنسی میں آنا توہین سمجھتے ہیں۔مریضوں پر اینٹی بائیوٹکس اور پین کلرز اور بے ہوشی کی ادویات کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے جس سے مریض گردوں کے مستقبل امراض میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کی لاپرواہی یہاں تک ہے کہ نازک حال مریض بھی نظر انداز کیے جاتے ہیں کاؤنٹر سے ہی ڈسچارج سلپ ان کے ہاتھ میں تھما کر بیڈز نہ ہونے کا بہانہ بنا کر انہیں ڈسچارج کر دیا جاتا ہے۔جس سے بعض اوقات مریض دم توڑ جاتے ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پی آئی سی لاہور میں ہارٹ کے مریض نظر انداز ہو رہے ہیں ۔دوارن آپریشن بھی درجنوں مریض جان کی بازی ہار چکے ہیں۔اسی طرح جناح ہسپتال لاہور کی ایمر جنسی میں روزانہ50 مریضوں کی اموات واقع ہوتی ہیں۔جو ایک سال میں خاطر خواہ اضافہ ہے اسی طرح لاہور جنرل ہسپتال کی ایمر جنسی میں 40تک مریض زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں۔لاہور گنگارام ،سروسز ،میو،چلڈرن،میاں منشی،کوٹ خواجہ سعید،سعید مٹھااور ڈسٹرکٹ ہسپتال یکی گیٹ میں بھی ایک سال کے دوارن ایمر جنسی کے اندر مریضوں کی شرح اموات میں 30سے50فیصد اضافہ کیا گیا ہے مگر ہسپتالوں کی انتظامیہ یہ اضافہ روکنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔کسی ہسپتال میں بھی مریضوں کی اموات کی وجوہات جاننے کیلئے کبھی اموات کمیٹی کا اجلاس نہیں ہوا اور نہ ہی تحقیقات ہوئیں۔یہ سلسلہ گزشتہ کئی سالوں سے بند ہے اس حوالے سے وزیر صحت سپیشلائزڈ ہیلتھ کئیر خواجہ سلمان رفیق کا کہنا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے ،مانٹیرنگ بھی کی جا رہی ہے تما م ہسپتالوں کے میڈیکل سپریٹنڈنٹس کو پابند بنا یا گیا ہے کہ ہسپتالوں میں جو اموات ہوں ان تمام کی وجہ جاننے کیلئے کمیٹیاں تحقیقات کریں گی اور جزا سزا ہو گی ۔مریض اثاثہ ہیں اور ان کو ہر ممکن ریلیف دیا جائے گا۔وزیر صحت برائے پرائمر ی اینڈ سیکنڈری ہیلتھ خواجہ عمران نذیر کا کہناہے کہ مریض کا بہتر علاج معالجہ ہماری پہلی ترجیح ہے اور نظر انداز کرنے والی انتظامیہ سے حساب لیا جائے گا۔ تما م ڈسٹرکٹ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے۔

مر یض بے یارو مدد گار

مزید : صفحہ اول


loading...