حکومت کی مثبت پالیسیوں سے صنعتی پیہہ ترقی کی جانب رواں دواں ہے: ایس ایم منیر

حکومت کی مثبت پالیسیوں سے صنعتی پیہہ ترقی کی جانب رواں دواں ہے: ایس ایم منیر

لاہور(اسد اقبال،تصاویر ندیم احمد) ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ)کے چیئر مین ایس ایم منیر نے کہا ہے کہ وفاقی حکو مت کی مثبت معاشی پالیسیوں کی بدولت صنعتی پہیہ ترقی کی جانب رواں دواں ہے جبکہ دنیا کے بیشتر ممالک کی نسبت پاکستان کی ایکسپورٹ میں 6فیصد اضافہ اور سی پیک منصو بہ پر تیزی سے ہونے والے اقدامات نے غیر ملکی سر مایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا ہے۔جس سے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار تاریخ کی بلند تر ین سطح پر پہنچ گیا ہے ۔سرکاری سطح پر بنایا گیا معاشی ادارہ ٹی ڈیپ قومی معیشت اور مردہ صنعت کی بحالی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس کے ذریعے تجارت اور صنعت میں معاشی انقلاب لایا جارہا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت کرپشن سے پاک صنعتی و معاشی پالیسی دیتے ہوئے 250ارب روپے کے ریفنڈ صنعتکاروں کو جلد ادا کر نے کے لیے خصوصی تو جہ دے جس سے ملک تر قی و خو شحالی کی راہ پر گامزن ہو جا ئے گا ۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے ایف پی سی سی آئی کے ریجنل آفس میں نمائندہ پاکستان کو خصو صی انٹرویو دینے کے دوران کیا ۔ایس ایم منیر نے کہا کہ ٹر یڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لیے اہم کردار ادا کر رہاہے ۔ٹی ڈیپ کی ذمہ داریاں سمبھالنے سے قبل اس ادارہ میں اعلی حکام کی ملی بھگت سے 1300کروڑ روپے کی کر پشن ہوئی جس پر قانونی کارروائی کرتے ہوئے نہ صر ف مر تکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی بلکہ مقدمات درج کروا کر جیلوں میں بھجوایا گیا جن میں وزراء بھی شامل تھے تاہم آج ٹر یڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کرپشن فر ی ادارہ بن چکا ہے جہاں پر ملک بھر کے چیمبر ز کے مسائل حکومتی ایوانوں میں پہنچائے اور حل کروائے جاتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ سال دنیا بھر کی ایکسپورٹ گرنے سے مسائل پیدا ہوئے پاکستان کی ایکسپورٹ 14فیصد گری،انڈیا کی 18فیصد ، تر کی کی 18فیصد ، چائینہ کی 12فیصد ،جاپان اور انڈونیشیا کی 15فیصد ایکسپورٹ کم ہوئی تاہم اچھی بات یہ ہے کہ گزشتہ سال نو مبر میں پاکستان کی ایکسپورٹ میں 6فیصد اضافہ ہوا جس میں ٹی ڈیپ نے اہم کردار ادا کیا ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسی اور سی پیک منصو بہ خطے میں خوشحالی کی نو ید سنا رہا ہے جس پر ملکی سطح پر صنعتکار اور تاجر برادری میں اعتماد کی فضا قائم ہوئی ہے اور غیر ملکی سر مایہ کاروں نے بھی سر مایہ کاری کر نے کے لیے کئی ایک ایم او یو ز سائن کیے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ کئی سالوں کے صنعتکاروں کے 300ارب روپے کے ریفنڈ ہیں جن میں سے حکومت نے کچھ ریفنڈ ادا تو کیے ہیں تاہم اگر باقی ماندہ ریفنڈز جو کہ 250ارب روپے کے ہیں کو ادا کر دیا جائے تو ملک میں معاشی انقلاب لایا جاسکتا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ میں بطور چیف ایگزیکٹو ٹر یڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے نہ تو کوئی مراعات لیتا ہوں اور نہ ہی سر کاری گاڑی کا استعمال کر تا ہوں انھوں نے کہا کہ میں خالصتا پاکستان اور صنعتکارو تاجر برادری کی خدمت کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کر رہا ہوں ۔

مزید : صفحہ آخر


loading...