ٹیلی کام سیکٹر ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے،میاں زاہد حسین

ٹیلی کام سیکٹر ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے،میاں زاہد حسین

کراچی (اکنامک رپورٹر)پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر ،بزنس مین پینل کے سینیئر وائس چےئر مین اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ٹیلی کام سیکٹر ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے مگر اس پر ٹیکسوں کا بوجھ زیادہ ہے جس سے سرمایہ کار بددل ہو رہے ہیں۔ ایک یورپی کمپنی سال رواں میں پاکستان میں چار سو ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتی ہے جسے ہر قسم کی سہولت دی جائے۔ اس شعبہ کو مایوسی سے بچانے کیلئے موجودہ پالیسی پر غور کیا جائے کیونکہ ٹیلی کام سیکٹر ملک سے غربت دور کرنے اور اقتصادی ترقی یقینی بنانے کیلئے اہم ہے۔میاں زاہد حسین نے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ ٹیلی کام سیکٹر میں بڑا پوٹینشل ہے۔ 2020 تک اس شعبہ میں دو ارب ڈالر سے زیادہ سرمایہ کاری، چھ سو بیس ارب روپے کے محاصل اور سولہ کروڑ سے زیادہ صارفین کا تخمینہ ہے۔2014-15 میں اس شعبہ کی آمدنی 446 ارب روپے رہی جبکہ 2015-16 میں آمدنی452 ارب سے تجاوز کر گئی۔ 2014-15 میں حکومت نے ٹیکس کی مد میں 126 ارب روپے وصول کئے جبکہ2015-16 میں 157 ارب روپے سے زیادہ وصول کیے گئے۔ 2013-14 میں اس شعبہ نے حکومت کو 243 ارب روپے سے زیادہ ادا کئے تھے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس شعبہ کی ٹیکس کی ادائیگی کی استعداد متاثر ہوئی ہے۔ 2013-14 کے بعد سے جنرل سیلز ٹیکس میں زبردست کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ میاں زاہد حسین نے مزیدکہا کہ اس وقت ملک میں ساڑھے بارہ کروڑ موبائل کنکشن زیر استعمال ہیں اور 2014 میں3G اور4Gکے بعد ہائی سپیڈ انٹرنیٹ استعمال کرنے والوں کی تعدادتقریباً ڈھائی کروڑ تک پہنچ گئی ہے مگر انھیں معیاری سروس نہیں مل رہی جو ڈیجیٹل انقلاب کے راستہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ 2020 تک براڈ بینڈ کے استعمال میں 44 فیصد اضافہ متوقع ہے جس سے جی ڈی پی میں 4.1 فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جس کے لئے اس شعبہ کے مسائل کا حل اور ملک میں موبائل فون سازی کے متعدد کارخانوں کا قیام ضروری ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...