عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے پر سینئر صحافی انصار عباسی اور روزنامہ جنگ اور دی نیوزکے پرنٹرز و پبلشرز کو توہین عدالت کی درخواست پرنوٹس جاری

عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے پر سینئر صحافی انصار عباسی اور روزنامہ جنگ اور دی ...

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہور ہائیکورٹ نے عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے پر سینئر صحافی انصار عباسی اور روزنامہ جنگ اور دی نیوزکے پرنٹرز و پبلشر زکو توہین عدالت کی درخواست پرنوٹس جاری کرتے ہوئے 6 فروری کو جواب طلب کر لیاہے، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے کے معاملے پر خاموش نہیں بیٹھا جا سکتا۔چیف جسٹس سید منصور علی شاہ نے مظہر علی اور دیگر کی توہین عدالت کی درخواست پر سماعت کی، درخواست گزاروں کی طرف سے اعظم نذیر تارڑ اور عمران چدھڑ ایڈووکیٹس پیش ہوئے، درخواست گزاروں کے وکلاء نے موقف اختیار کیا کہ جنگ گروپ نے ننھو گورائیہ اور جسٹس ریٹائرڈ بلال کے خلاف خبر شائع کی، خبر شائع کر کے عدلیہ کو سکینڈلائز کیا گیا، لاہور ہائیکورٹ کی انکوائری میں جسٹس ریٹائرڈ بلال کو بے گناہ قرار دیا گیا، سابق جج کا الزامات سے بری ہونا خبر کے جھوٹا ہونے کا ثبوت ہے ،عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے پر جنگ گروپ کی متعلقہ شخصیات کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے، سرکاری وکیل نے موقف اختیار کیا کہ یہ معاملہ 2009ء کا ہے اور ختم ہوچکا ہے ،درخواستیں نمٹائی جائیں، عدالت نے دوران سماعت ریمارکس دیئے کہ عدلیہ کو سکینڈلائز کرنے پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے، یہ نہیں ہوسکتا کہ غلط خبر شائع ہو اور کوئی معافی نامہ نہ آئے اور کیس نمٹا دیں، رپورٹر، پرنٹر و پبلشر کو پیش ہو کر وضاحت دینا ہوگی، عدالت نے اس کیس کی مزید سماعت کے لئے6 فروری کی تاریخ مقرر کردی ہے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر


loading...