جج صاحبان تبادلے کے لیے سفارش نہ کرائیں،کاکردگی دکھانیوالوں کاتبادلہ کر دیا جائیگا‘ جسٹس سید منصور علی شاہ

جج صاحبان تبادلے کے لیے سفارش نہ کرائیں،کاکردگی دکھانیوالوں کاتبادلہ کر دیا ...
جج صاحبان تبادلے کے لیے سفارش نہ کرائیں،کاکردگی دکھانیوالوں کاتبادلہ کر دیا جائیگا‘ جسٹس سید منصور علی شاہ

  


لاہور (یو این پی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا ہے کہ جج صاحبان تبادلے کے لیے سفارش نہ کرائیں،جو کارکردگی نہیں دکھائے گا اس کا تبادلہ کر دیا جائے گا،اب ضلعی عدالتیں مقدمات کی نوعیت کے حساب سے مختص ہوں گی، سول اورکرمنل کیسزکے لیے جج الگ الگ کیے جائیں گے۔

لاہور ہائی کورٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ نو جنوری سے اپریل تک ہائی کورٹ کا روسٹر بنا لیا ہے، سنیئر ججز اب صرف اپیل سنیں گے جبکہ نئے ججز جلد نمٹانے والے کیس سنیں گے۔آئندہ تین ماہ کی ٹرم کے دوران ججوں کے تبادلے نہیں ہوں گے، ہر ٹرم پر ججز کو پرفارمنس دکھانا ہو گی۔چیف جسٹس ہائیکورٹ نے کہا کہ اب ضلعی عدالتیں مقدمات کی نوعیت کے حساب سے مختص ہوں گی، سول اورکرمنل کیسزکے لیے جج الگ الگ کیے جائیں گے۔جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ تین ماہ کی ٹرم کے دوران ججوں کے تبادلے نہیں ہوں گے۔ ٹرانسفر کے معاملات پرفارمنس سے منسلک کردیے ہیں، جو پرفارم نہیں کرے گا اس کا تبادلہ کر دیا جائے گا۔

مزید : لاہور


loading...