ہائی کورٹ :ماتحت عدالتوں کے ججوں کی نئی ٹرانسفر پالیسی ،عبوری تقرر 3ماہ،مستقل تعیناتی ایک سے 2سال کے لئے ہوگی

ہائی کورٹ :ماتحت عدالتوں کے ججوں کی نئی ٹرانسفر پالیسی ،عبوری تقرر ...
ہائی کورٹ :ماتحت عدالتوں کے ججوں کی نئی ٹرانسفر پالیسی ،عبوری تقرر 3ماہ،مستقل تعیناتی ایک سے 2سال کے لئے ہوگی

  


لاہور(نامہ نگارخصوصی )لاہور ہائی کورٹ نے عدلیہ کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے ماتحت عدالتوں کے ججوں کی نئی ٹرانسفر پالیسی تیار کرلی ہے جس کے تحت ماتحت عدالتوں کے ججوں کی تعیناتی دو مراحل میں مکمل کی جائے گی ،پہلے مرحلے میں ججوں کو عبوری بنیادوں پر 3ماہ کے لئے تعینات کیا جائے گا اور اس دوران اس کی کارکردگی کا جائزہ لے کر ان کی مستقل تعیناتی کا فیصلہ کیا جائے گا جبکہ کسی ایک جگہ مستقل طور پر تعیناتی کی مدت بھی 3سال سے کم کرکے 1سے 2سال کی جارہی ہے ۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے گزشتہ روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ضلعی عدلیہ کے ججوں کی نئی ٹرانسفر پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ پہلے مرحلے کی پالیسی نافذ کردی گئی ہے ،انہوں نے کہا کہ 3ماہ کے بعد تمام جوڈیشل افسران کی کارکردگی کی جانچ پٹرتال ہوگی اور خود احتسابی کے عمل کو اپنایاجائے گا، اسی ضمن میں لاہور ہائی کورٹ میں جدید انٹرنل آڈٹ سسٹم شروع کر دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جوڈیشل افسرو کو کارکردگی دکھانا ہوگی یا پھر گھروں کا جانا ہوگا۔، ابتدائی طور پر ہر جوڈیشل افسر کا تین ماہ سے قبل بلاجواز تبادلہ نہیں ہوگا۔ یہ پالیسی سینئر ججز پر مشتمل ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں وضع کی گئی ہے تاکہ ججوں کی کارکردگی کو بہتر بنا کر فوری انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنایا جاسکے ۔چیف جسٹس نے ٹرانسفر پالیسی سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے مزیدکہا کہ کسی جوڈیشل افسر کا بلاجواز تبادلہ نہیں کیا جائیگا کیونکہ بار بار تبادلوں کی وجہ سے ضلعی عدلیہ میں مقدمات کے فیصلے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں، چیف جسٹس نے کہا کہ تین ماہ میں ضروری ہوا تو جوڈیشل افسر کا تبادلہ ہوگا ورنہ وہی جوڈیشل افسر کام کرے گا.

ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل افسروں کے مسائل کے حل کیلئے تمام دروازے کھول دیئے ہیں، کوئی جوڈیشل افسر تبادلے کیلئے سفارش کرانے کی بجائے خود مجھ سے آکر ملے، اس کے جائز مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائیگا، چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل افسروں کی کارکردگی جانچنے کا نظام بھی وضع کر لیا ہے، جوڈیشل افسرو کو کارکردگی دکھانا ہوگی یا پھر گھروں کا جانا ہوگا۔ذرائع کے مطابق ٹرانسفر پالیسی کے دوسرے مرحلہ کا آغاز 9اپریل کے بعد کیا جائے گا ،اس سے قبل ججوں کو کسی ایک جگہ پر 3سال کے لئے تعینات کیا جاتا تھا ،اب اس سلسلے میں ایڈوائزری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ سیشن جج کو کسی ضلع میں ایک سال کے لئے ،ایڈیشنل سیشن جج کو ڈیڑھ سال کے لئے جبکہ سول جج کو 2سال کے لئے تعینات کیا جائے گا۔ججوں کے باری باری تبادلے ہوں گے اور ہر جج کو پنجاب کے تمام اضلاع میں باری باری تعینات کیا جاتا رہے گا۔اس سلسلے میں کوئی امتیاز نہیں برتا جائے گا۔

مزید : لاہور


loading...