جناتی ... جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے۔۔۔پندرہویں قسط

جناتی ... جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے۔۔۔پندرہویں قسط
جناتی ... جنات کے دوست اور رازداں کے قلم سے۔۔۔پندرہویں قسط

  


شاہدنذیرچودھری

نماز میں اخلاص اور انہماک شامل ہوجائے تو بندہ اپنے ربّ کو پہچاننے لگتا ہے۔اللہ بڑی محبتوں والا مالک ہے ۔بندے سے کہتا ہے کہ اپنا اخلاص لیکر مجھ تک پہنچو تو میں تمہاری اسطرح سے سنو ں گا جیسے ماں بچے کی سنتی ہے۔میرے مولا کی تو شان ہی نرالی ہے ،اسکی محبت اور عطا کی کوئی حد اور تقابل نہیں ہے ۔کوئی مثال نہیں ہے۔بندہ اگر اپنے اندر کے روحانی سوئچ کو آن کرلے اور اسکا راز پالے تو مولا بڑا کرم کرتا ہے۔اپنی بکل میں لے لیتا ہے اور زمانے کی ٹھنڈی گرم لو کی شدت سے بچا لیتا ہے۔لیکن بندہ تو ہے ہی ناشکرا۔۔۔ وہ اپنے رب کو پہچان کر بھی اس اطمینان پر شکر نہیں کرتااور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اترانے لگتا ہے۔وہ سمجھتا ہے اسکو دنیا دار دوستوں کے تعلقات کی وجہ سے ترقی اور مشکلات سے نجات مل گئی ہے ۔۔۔ سوہنارب اپنے ناشکرے بندوں کو کوئی ملامت نہیں کرتا وہ ان کی فطرت پر پھر بھی رحم کرتا ہے۔ظالم سے ظالم ماں بھی بچے کو اپنی شفقت سے محروم نہیں کرتی ۔ ظالم بیٹے پر بھی اسکو رحم آتا ہے۔اونچی شانوں والامیرا سوہنا رب تو ستر ماؤں سے زیادہ شفیق اور رحم کرنے والا کریم ہے۔بس ہم خطا کار ہیں اور اپنے اندر جھانک کر بھی حقیقت سے منہ چرالیتے ہیں۔

حضرت سید موج دریاؒ کے مزار شریف پر میرے باطن مین جولطافت رچ بس گئی تھی ،گویا اسکے بعد تو اسرار کے پردے مجھ پر بے حجاب سے ہونے لگے لیکن ساتھ ہی ایک ایسا صبر،تحمل اور استقامت بھی پیدا ہوگئی کہ ان حجابات پر شکر کی بجائے کچھ اور نہیں کرنا۔

نماز ادا کرکے باہر نکلا تو کافی سارے ملنگ بابے اپنے اپنے میلے کچیلے کمبلوں میں بکلیں مارے ،بال بکھیرے ،ٹانگوں کو گود میں لئے مجاہدوں میں غرق نظر آئے۔ان میں سے کوئی مجھے نماز کے دوران نظر نہیں آیا تھا ۔میں اکثر اس بات پر حیران بھی ہوتا ہوں کہ کیا انہیں نماز معاف ہے۔جیسا کہ آج بھی مجھے اللہ کے ایک ولی نے نماز پنجگانہ ادا کرنے کی ہدایت فرمائی ہے ۔۔۔ تو یہ کون سی خلقت ہے جسے اللہ نے احکامات شریعت سے مبرا قرار دے رکھاہے؟اللہ کا قرب مانگنے کا یہ کون سا شارٹ کٹ ہے۔۔۔ میں دروازے پر پہنچا تو ایک تنگ پیشانی والے استخوانی سے ملنگ نے میری جوتیاں سیدھیں کی اور پھر انگشت شہادت بلند کرکے منہ میں کچھ بڑبڑایا۔ میں نے سمجھا کہ پیسے مانگ رہا ہے۔جیب میں ہاتھ ڈال کر دس کا نوٹ نکال کر اسے دینا چاہاتو اس نے جھپٹ کر پھاڑ دیا ۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا اس نے دوسرا جوتا اٹھایا اور اپنے سر پر مارنے لگا اور اوں اوں کرکے ایک جوتی مجھے پکڑا نے کی کوشش کرنے لگا۔وہ گونگا تھا لیکن اسکی بات سمجھ میں آگئی تھی۔’’ بابا معاف کردو۔غلطی ہوگئی‘‘

میں نے جوتا اسکے ہاتھ سے لیکر نیچے رکھااور محبت اور احترام سے نیچے اسکے پاس بیٹھ گیا ’’ میں آپ کو جوتا مارنے کی جرات نہیں کرسکتا ۔یہ حق تو آپ کا ہے بابا ۔لو مجھے جوتا مارلو۔مجھ سے غلطی ہوگئی ‘‘

ہم جسے بڑا میلا کچیلا اور کم تر سمجھتے ہیں وہ اندر سے کتناغیرت مند اور صاف ستھرا ہوتا ہے ،اسکا اندازہ انسان اپنے تجربات سے کرلیتا ہے۔میں سمجھا تھا کہ یہ ملنگ فقیر ہوگا جیسا کہ مزارات اور بازاروں میں عام نظر آتے ہیں۔لیکن نہیں معلوم تھا کہ ان بوریا نشینوں کے اندر لعل جڑے ہوتے ہیں ۔وہ دنیا کی دولت سے زیادہ قیمتی دولت پاچکے ہوتے ہیں۔انکے نفس مطمئن ہوتے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ دنیا انہیں حقیر جانے ،گداگر،ملنگ ،میلا کچیلا،بدبودار،گندا ،بے نمازی ،بے شرع سمجھے ۔۔۔ وہ ملامت کراتے اور اپنے نفس کو لتاڑتے رہتے ہیں تاکہ وہ نفس کبھی انگڑائی نہ لے سکے جو انکے رب کے سامنے انہیں جھکنے نہیں دیتا۔جو انہیں سجدوں سے اٹھانے کا موجب بنتا ہے۔جو یار کے خیال کو روندتا اور گڑبڑ کرتا ہے۔

ملنگ نے میرا ہاتھ تھام لیااور اوں اوں کرکے کچھ سمجھانے کی کوشش کی۔میں نے اسکے اشارے کو سمجھنے کی کوشش کی کہ اب کی بار وہ کیا کہہ رہا ہے کہ مجھے اپنے اندر سے آواز سی آتی ہوئی سنائی دی۔’’ جا اللہ تیرا بھلا کرے‘‘

جناتی کی گذشتہ قسط پڑھنے کے لئے اس لنک کو کلک کریں

میں نے اسکا گندہ میلا ،دھول اور مٹی میں گھلا ہوا ہاتھ اٹھایااور اسے عقیدت سے چوما۔اس لمحے پہلی بار مجھے احساس ہوا کہ میرے اندر نہ کراہت پیدا ہوئی ہے نہ کوئی ایسی بو کا احساس ہوا ہے جو عام طور پر باسی کپڑوں اور میلے کچیلے لوگوں سے آتی ہے۔ہم ہاتھ سے ناک دبا لیتے یا ماسک پہن لیتے ہیں۔یہ بو تو انسان کی انسان سے نفرت اور تکبر کی وجہ سے آتی ہے۔انسانوں سے محبت کرنے والوں کی حسیات تو ازلی خوشبو سے مہکی ہوتی ہیں ۔وہ کھلے دل سے انسانوں کو چومتے ہیں تو کدورتیں اپنی غلاضتوں سمیت انکے مساموں سے نکل جاتی ہیں۔

ملنگ بابا کی دست بوسی کے بعد میں اٹھا تو اس نے اپنے کمبل کا ایک کونہ پکڑا اور اس میں سے کھینچ کر ایک دھاگا باہر نکالا اور میری کلائی پر اپنے ہاتھوں سے باندھ دیا پھر ہاتھ کے اشارے سے مجھے الوداع کہا۔’’ شکریہ سرکار‘‘ میں ملنگ کا روحانی دھاگہ لیکر واپس گھر آگیا لیکن اس تمام سفر میں میرے اندر اٹھنے والے سارے سوالوں کا جوارباٹھا کہیں سویا پڑا رہا۔خاص طور پر یہ سوال تو ذہن میں آنے پر بھی کوئی بے چینی اور تجسس نہیں ہورہا تھا کہ میں نے رات کے آخری پہر سے لیکر اب تک کتنی صدیوں کا سفر طے کیا ہے ،کیا یہ سب خواب وخیال تھایا اس کا کسی حقیقت سے کوئی تعلق بھی ہے؟

گھر پہنچ کر ناشتہ کیااور غسل کرکے دوبارہ تسبیحات کیں۔اسکے بعد دفتر چلا گیا اور رات نماز عشا کے بعد دوبارہ گھر آگیا تو مجھے پہلی بار یہ احساس بھی ہوا کہ میری طبیعت بہت ہشاش بشاش ہے ۔تھکن نہیں ہے ۔میرا ارادہ تھا کہ آج مجھے کچھ آرام کرلینا چاہئے ۔لیکن میں تو ایک دم فٹ فاٹ تھا۔نیند تو کوسوں دور تھی ۔ لہذا میں نے نماز عشا کے بعد بسم اللہ شریف والا وظیفہ شروع کیا اور پہلی بار اپنا حصار کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہ کی۔کیوں نہ کی؟ اس لئے کہ میرا زاویہ نگاہ بدل گیا تھا’’ یار جب میرا سب کچھ اللہ ہے تو میری ڈھال بھی وہی ہے۔اس سے محبت اور اعتقاد کا رشتہ اخلاص نیت مانگتا ہے تو میں کیوں اس بات پر ڈروں کہ اللہ کے سوا مجھے کسی اور کا ڈر ہے جس کے شر سے بچنے کے لئے میں حصار باندھتا پھرتا رہوں ‘‘ میں تسبیحات کرتا رہا اور اس دوران مجھے اونگھ آگئی لیکن پھر جناتی کی آواز پر میری آنکھ کھل گئی ۔

’’ مبارکاں بھائی مبارکاں ‘‘ جناتی خلاف توقع چہکتے ہوئے میرے قریب آیا اور میرا ہاتھ اپنے مجہول سے ہاتھ میں لیکر دبانے لگا۔اسکا ہاتھ لمبا چوڑا بے ڈھنگا ہونے کے باوجود روئی کے گالوں جیسا نرم تھا۔

’’ کس بات کی مبارک دے رہے ہو‘‘ میں نے پوچھاْ

’’ لو جی کمال ہوگیا‘‘ اس نے ہاتھ نچا کر کہا’’ اتنا سب کچھ مل گیا۔کہاں کہاں سے ہو آئے ۔اپنا ماضی دیکھ لیااور پھر خود کو صدیوں پہلے کسی اور کے بطن میں انگڑائی لیتے ہوئے بھی دیکھ لیا اورپوچھتے ہو کہ مبارک کس بات کی ۔۔۔ واہ کیا شان بے نیازی ہے بھا جی۔۔۔‘‘

جناتی کی بات سن کر میں چونکا۔

’’تمہیں سب معلوم ہے تو تم کہاں تھے۔۔۔؟‘‘

’’ میں جناتی ہوں۔اور جناتی سب جانتا ہے‘‘ اس نے شان سے سینہ پھیلایا۔

’’ اچھا تو پھر تم یہ بھی جانتے ہوگے کہ ایک مسلمان جنموں کی بے ہودہ باتوں پر یقین نہیں کرتا ۔یہ سب واہمہ اور خواب تھا ۔اس میں کوئی حقیقت نہیں کہ میں کبھی بدھ تھا،وشال دیوتھا ۔۔۔اوروقت کی پرواز طے کرتا ہوا جیون کاٹتا ہوا اس عہد میں پہنچا ہوں ۔ایک مسلمان کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی خرافات پر یقین رکھے۔۔۔‘‘ میں نے اسے نرمی سے سمجھایا۔

’’ میں سمجھتا ہوں ۔سب سمجھتا ہوں بھاجی ۔۔۔ لیکن ایک دن تم پر یہ راز کھل جائے گا ۔تمہارا ڈی این اے بولے گا۔جنم پر جنم لینا یا پچھلا یا اگلا جنم کوئی اور معاملہ ہے لیکن روحانی ڈی این اے کو بھی سمجھنا چاہئے۔۔۔ ایک دن جب جان جاؤ گے تو پھر زبان پر ایسے تالے پڑجائیں گے کہ کبھی سوال نہ کرسکوگے۔۔۔ بس یہ جان لو کہ تم روحانی طور پر آج پیدا نہیں ہوئے۔‘‘جناتی نے بات روک دی اورپھر توقف کرکے بولا’’ میں تمہیں بابر حسین کے بارے میں کچھ بتانے آیا تھا بھاجی ۔۔۔ آپ اسکی مدد کرنا چاہتے تھے ناں‘‘

’’ ہاں ۔۔۔ کیا خبر لائے ہو‘‘ میں نے پوچھا ۔

’’ پہلے تو سمجھ نہیں آتی تھی لیکن اب اس کہانی سے کافی پردے سرک گئے ہیں ۔ وہ یاد ہے ناں اس کو جو مجھے اسکے گھر کی پکھی میں ملی تھی‘‘ جناتی نے اشارہ سے کہا تو میں سمجھ گیا ۔

’’ اس سے یاری لگ گئی ہے بھاجی ۔بڑی خرانٹ لڑکی یعنی میرامطلب جن زادی ہے۔اس نے کہا ہے کہ بابر حسین وہ نہیں جو آپ سمجھ رہے ہیں ۔یہ ببر کالیا کا نیا روپ ہے جو بہت بڑا عامل تھا،اسکا باپ بھی عامل تھا لیکن اس نے کالا علم کرنے میں اتنے شیطانی چلے کاٹے تھے کہ اسکا اندر باہر کالا ہوگیا ۔اسکا گرو ایک ہندو عامل تھا جس نے اسکو کالاباغ ڈیم کے استھانوں میں پاٹ کرائے تھے۔گرو کے اندر خباثت اتنی زیادہ تھی کہ جو بعد میں اسکے چیلے میں دوگنی نظر آنے لگی۔اس نے کئی انسانوں کو قتل کیا اور انکی کھوپڑیوں حقہ پیا کرتا تھا ۔اس نے اپنے استھان میں انسانوں اور جانوروں کی کھوپڑیوں میں مشک سے آگ جلانے کا طریقہ ایجاد کیا تھا جس سے وہ کسی بھی معمول کو تنگ کرتے تھے۔ببرکالیاپڑھا لکھا نوجوان تھا اور کم سنی میں ہی شیطان صفت عامل بن گیا ۔اس نے بعد میں توبہ تائب ہوکر نئی زندگی شروع کرنا چاہی اور بابر حسین کے نام سے سرکاری نوکری کرکے باعزت زندگی شروع کی ۔پھر جب مشکلات کا شکار ہوا تو اس نے آپ سے مدد مانگ لی‘‘

جناتی کی زبان سے بابر حسین کی حقیقت جان کر مجھے شدید حیرانی کادورہ پڑا۔میرا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا(جاری ہے)

جناتی کی سولہویں قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : مافوق الفطرت


loading...