سکولوں کو بموں سے اڑانے والا شدت پسند 8 سال بعد زندہ گرفتار

سکولوں کو بموں سے اڑانے والا شدت پسند 8 سال بعد زندہ گرفتار
سکولوں کو بموں سے اڑانے والا شدت پسند 8 سال بعد زندہ گرفتار

  


سوات (ویب ڈیسک) سوات کے علاقے شموزئی میں سی ٹی ڈی نے کارروائی کرتے ہوئے سکولوں کو بموں سے اڑانے والے شدت پسند کو 8 سال بعد زندہ گرفتار کرلیا۔ ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق سی ٹی ڈی کی ٹیم نے خفیہ اطلاع ملنے پر کارروائی کرتے ہوئے درگئی مالاکنڈ ایجنسی کے رہائشی شدت پسند ریز حکیم ولد نور حکیم کو گرفتار کرلیا۔یہ جولائی 2008ءمیں گورنمنٹ گرلز مڈل سکول گارڈ کو دھماکہ خیز مواد سے اڑانے کے مقدمہ میں کبل پولیس کو مطلوب تھا ملزم کو مزید تفتیش کے لئے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔سکول کو اڑادیئے جانے کی وجہ سے بچوں کو تعلیم کے حصول میں مشکلات کا سامنا رہتا تھا۔ 

دوسری طرف خیبرپختونخوا کے ضلع ڈی آئی خان میں سرکلر روڈ پر پولیس موبائل کے قریب دھماکے کے نتیجے میں 4اہلکاروں سمیت 7 افراد زخمی ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان میں سرکلر روڈ پر نجی بس اڈے کے قریب پولیس موبائل کو سڑک کنارے نصب بم سے نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے سے4 پولیس اہلکار اور 2 خواتین سمیت 7 افراد زخمی ہیں جنہیں ہسپتال منتقل کردیا گیا اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس وین معمول کی گشت پر تھی کہ نامعلوم ملزمان نے سڑک کنارے نصب بم سے اسے نشانہ بنایا۔ دھماکے کا مقصد پولیس اہلکاروں کو ٹارگٹ کرنا تھا۔

مزید : سوات


loading...