’’عساکر پاکستان کا ایک تاباں ستارہ جنرل (ر) خالد شمیم وائیں‘‘

’’عساکر پاکستان کا ایک تاباں ستارہ جنرل (ر) خالد شمیم وائیں‘‘
 ’’عساکر پاکستان کا ایک تاباں ستارہ جنرل (ر) خالد شمیم وائیں‘‘

  



ہونی کو کون ٹال سکتا ہے؟ لیکن یہ امر طے شدہ ہے کہ کسی بشر کی ناگہانی حادثاتی موت ایک حساس دل کے حامل انسان کی آنکھوں میں فرط غم سے آنسو چھلکانے کے لئے کافی ہوتی ہے۔

جب 30دسمبر2017ء کی سہ پہر مختلف نیوز چینلز پر پاک فوج کے سابقہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل (ر) خالد شمیم وائیں کی لاہور اسلام آباد موٹروے پر اچانک المناک حادثے کی دلدوز خبر سنی تو ایک لمحہ کے لئے یقین نہ آیا۔

جنرل صاحب کا وہی عزم و یقین، جرأت و شجاعت اور جذبہ حب الوطنی کے احساسات و جذبات سے معمور باوقار چہرہ نگاہوں کے سامنے آگیا، جس پر پاکستان سے شدید محبت، اپنے مشن سے والہانہ لگاؤ اور دشمنان وطن کے خلاف برسر پیکار رہنے کا آئینی عزم عیاں تھا۔

جنرل خالد وائیں اپنی ذات میں ایک پورے ادارے کا نام تھے۔ وہ 28اگست 1953ء کو خیبرپختونخواکے سرسبز خوبصورت شہر ایبٹ آباد میں پیدا ہوئے۔ وہ نسبی اعتبار سے ممتاز جری کشمیری قبیلے وائیں/وانی سے تعلق رکھتے تھے۔

بہادر قبیلے میں برہان مظفر وانی شہید جیسے بہادر سپوٹ نے جنم لیا جس کی لازوال قربانی اور دلیری و شجاعت آج مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ظلم کے خلاف حیرت کا استعارہ بن چکی ہے۔

جنرل وائیں کا خاندان بنیادی طور پر شہر اقبالؒ ’’سیالکوٹ‘‘ سے تعلق رکھتا تھا اور وہ خاندانی طور پر فوجی پس منظر کے حامل تھے۔ اُن کے والد کرنل (ر) ارشد شمیم وائیں نے 1972ء تک افواج پاکستان میں اپنی گراں قدر خدمات سرانجام دیں۔

جنرل خالد شمیم وائیں کے والد عسکری فرائض کی بجا آوری کے لئے پاکستان کے مختلف علاقوں میں قیام پذیر رہے، اس بنا پر جنرل خالد وائیں نے ابتدائی تعلیم وطن عزیز کے مختلف شہروں میں قائم کنٹونمنٹ سکولوں سے حاصل کی بعد ازاں میٹرک کرنے کے بعد 1969ء میں ممتاز تعلیمی درسگاہ ’’کیڈٹ کالج حسن ابدال‘‘ میں داخلہ لیا۔ وہ کرکٹ کھیلنے کے بے حد شوقین تھے، وہ جلد ہی اپنے کالج کی کرکٹ ٹیم کے اہم رکن بن گئے۔

انٹرمیڈیٹ کا امتحان کامیابی سے پاس کرنے کے بعد 1971ء میں پاک فوج میں شمولیت اختیار کرلی۔ انہوں نے اپریل 1972ء میں فرسٹ اسپیشل وار کورس پاس کرنے کے بعد اپنے والد کرنل ارشد شمیم وائیں کی یونٹ بٹالین 20پنجاب رجمنٹ کو جوائن کرلیا۔

وہ کمانڈ اینڈ سٹا ف کالج کوئٹہ، ملٹری اکیڈمی آف دی جرمن آرمڈ فورسز:ہیمبرگ جرمنی اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد کے گریجویٹ تھے۔ جنرل وائیں نے جنگی اُمور میں مزید پیشہ ورانہ مہارت میں دسترس حاصل کرنے کے لئے قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے وار سٹڈیز میں ماسٹرز کی ممتاز ڈگری بھی حاصل کی۔

اس امر سے قارئین جنرل خالد وائیں کی پیشہ ورانہ تعلیمی قابلیت اور پروفیشنل ازم سے والہانہ وابستگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ انہوں نے اپنے بتالیس سالہ پیشہ ورانہ شاندار فوجی کیرئیر میں متعدد عسکری شعبوں کی کمانڈکی۔ انہیں دو انفنٹری بریگیڈز کے بریگیڈ میجر کی اہم ترین ذمہ داری تفویض کی گئی۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنی 20بٹالین پنجاب رجمنٹ اور دنیا کے بلند ترین محاذ جنگ سیاچن میں 323 انفنٹری بریگیڈ، جس کو سیاچن بریگیڈ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے کی کمانڈ کا اہم ترین فریضہ بھی احسن طریقے سے انجام دیا۔

سیاچن کے نازک ترین جنگی محاذ پر دشمن کے خلاف جنرل خالد وائیں کی خدمات یقیناً قابل قدر ہیں اور عسکری حلقے اس کے معترف ہیں۔ مزید برآں وہ 41 انفنٹری ڈویژن کوئٹہ اور سدرن کمانڈ کوئٹہ کی کمانڈ کرتے ہوئے بلوچستان میں بھی تعینات رہے۔ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی مقرر ہونے سے قبل وہ انفنٹری کمانڈر سے کور کمانڈر تک مختلف ممتاز عہدوں پر فائز رہے۔

اس کے علاوہ نو برس تک بلوچستان میں اپنے فرائض انجام دیئے۔ وہ بلوچستان کے حساس حالات کا گہرا ادراک رکھتے تھے۔ اُن کے ہم عصر فوجی افسروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی بابت لسانی، سیاسی، سماجی اور سیکیورٹی کے لحاظ سے جتنا مشاہدہ اور معلومات جنرل وائیں کو حاصل تھیں بہت کم دوسرے افسروں کو حاصل ہوں گی۔

اگر افواج پاکستان کے اکیڈمک شعبے کی جانب نظر دوڑائی جائے تو واں بھی جنرل خالد وائیں اپنی گراں قدر خدمات کی بنا پر ایک تابناک ستارے کی مانند نظر آتے ہیں۔

فوجی کریئر کے دوران مختلف عہدوں پر تعیناتی ہوئی۔ وہ سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹیکس کوئٹہ، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور کیڈٹس کے معمار اعلیٰ عسکری روایات کے حامل تعلیمی ادارے ’’پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول‘‘ (PMA) ایبٹ آباد کی فیکلٹی میں بھی رہے۔

اس دوران انہوں نے کیڈٹس کی تربیت کے لئے جو تعلیمی خدمات انجام دیں، وہ قابل ستائش ہیں۔جنرل خالد شمیم وائیں پلٹن ہیڈ کوارٹر میں چیف آف سٹاف اور سکول آف انفنٹری اینڈ ٹیکٹیکس کوئٹہ میں کمانڈنٹ کے ممتاز عہدوں پر بھی فائز رہے۔

وہ افواج پاکستان کے جنرل سٹاف ڈائریکٹوریٹ میں ڈپٹی چیف آف جنرل سٹاف (DCGS) کی حیثیت سے 2006ء سے 2007ء تک اپنے فرائض خوش اسلوبی سے انجام دیتے رہے۔

بعدازاں اپنی پیشہ ورانہ قابلیت کی بنا پر اپریل 2010ء میں جی ایچ کیو میں چیف آف جنرل سٹاف کے اعلیٰ ترین عہدے پر تعینات ہوئے۔

وہ اکتوبر 2010ء تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ جنرل وائیں اپنی پیشہ ورانہ قابلیت و مہارت کی بنا پر عسکری حلقوں میں نہایت قدر و تکریم کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

اُن کی قابلیت، فہم اور خداداد ذہنی صلاحیتوں سے متعدد فوجی افسروں نے استفادہ کیا۔ افواج پاکستان کی فوجی مشقیں ’’عزم نو‘‘کو منعقد کرانے کی منصوبہ بندی میں جنرل خالد وائیں کا کردار اظہر من الشمس ہے۔

اُن کی اعلیٰ فوجی خدمات اور شاندار اور پیشہ ورانہ قابلیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں ستمبر 2010ء میں پاک فوج کے ’’فور سٹار جنرل‘‘ کے اعلیٰ ترین رینک پر ترقی دی گئی۔

بعد ازاں 8اکتوبر 2010ء کو جنرل خالد شمیم وائیں کو افواج پاکستان کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر تعینات کردیا گیا جو کہ یقیناً اُن کے لئے ایک اعلیٰ اعزاز تھا۔ وہ پاکستان کے 14ویں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی تھے۔

وہ اسی ممتاز ترین عہدے پر 8اکتوبر 2013ء کو ریٹائر ہوئے۔ شاندار عسکری خدمات کی بنا پر انہیں ہلال امتیاز (ملٹری) اور نشان امتیاز(ملٹری) جیسے اعلیٰ فوجی اعزازات سے بھی نوازا گیا جو کہ ان کی صلاحیتوں کا اعتراف تھا۔ کسے معلوم تھا کہ 2017ء کا سال رخصت ہوتے ہوئے پاک فوج کا ایک عبقری اثاثہ بھی ہم سے چھین کر لے جائے گا۔ موت سے کسی کو مفر نہیں بارگاہ رب جلیل میں دعا ہے کہ وہ جنرل خالد شمیم وائیں کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے، پسماندگان کو صبر جمیل اور زخمیوں کو کامل شفا عطا فرمائے(آمین)آج جنرل وائیں ہم میں موجود نہیں ،لیکن وہ اپنی زریں عسکری خدشات کی بنا پر افواج پاکستان کے ہر سپاہی اور تمام پاکستانیوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم