امریکہ اپنے شوق میں مارا گیا

امریکہ اپنے شوق میں مارا گیا
امریکہ اپنے شوق میں مارا گیا

  



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہی کیا ہے جو اس کے ملک کے مفاد میں ہے،اس نے پاکستانیوں کے منہ میں گاجر دے کر پشت پر چھڑی ماری ہے،یہ چھڑی ان کیلئے بھی ہے جنہوں نے روس کیخلاف امریکہ کا ساتھ دیا اور یہ ان کیلئے بھی ہے جنہوں نے بل کلنٹن کے ساتھ پیارکی پینگیں بڑھائیں،یہ ان کیلئے بھی ہے جن کی پتلونیں ’’ہمارے ساتھ ہویا ہمارے خلاف‘‘کی دھمکی پر گیلی ہوگئی تھیں۔

خبر ہے کہ امریکہ نے پاکستان کو دی جانیوالی کولیشن سپورٹ روک دی ہے،وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف ایسی کارکردگی نہیں دکھائی جیسی کہ دکھانا چاہیے تھی،امریکہ کے محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ جب تک اسلام آباد حقانی نیٹ ورک اور افغان طالبان کے خلاف کارروائی نہیں کرتا امداد کی فراہمی کا سلسلہ منجمد رہے گا،اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو ’’دھوکے باز‘‘اور ’’جھوٹا‘‘کہا تھا اور اپنی حکومتوں کو بیوقوف قرار دیا تھا جو پاکستان کو سکیورٹی کے نام پر امداد دیتی رہیں،اگر یہ کہا جائے کہ امریکی صدر کا رونا پیٹنا بلا جواز ہے تو یہ غلط نہ ہوگا کیونکہ دہشتگردی کیخلاف جنگ ہماری نہیں تھی بلکہ یہ امریکہ کاخود شوق تھا ،اس وقت کے پاکستانی حکمرانوں کی بے وقوفی کہیں یا بزدلی انہوں نے امریکی ’’شوق‘‘پورا کرنے کیلئے اپنی بنیادیں کھوکھلی کروالیں،ہمسائے کے گھر کی آگ بجھاتے بجھاتے اپنی ’’جھگی‘‘کو جلا بیٹھے،اس 16 سال کی جنگ میں پاکستان کو 10 ہزار 3سو 74 ارب روپے کا نقصان ہوا،سب سے زیادہ نقصان 11۔2010 میں دو ہزار 37 ارب روپے کا ہوا,2009 اور10 میں 1136 ارب روپے ، 13۔2012 میں 964 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،دہشت گردی سے پاکستان کو ٹیکس وصولیوں میں 5 ہزار 920 ارب روپے کا نقصان ہوا جبکہ بیرونی سرمایہ کاری کم ہونے سے 1996 ارب روپے کا جھٹکا لگا،دہشت گردی سے انفرا اسٹرکچر کو 928 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا،غیر یقینی صورتحال سے 15 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا جبکہ پاکستان کو دہشتگردی کے باعث 262 ارب روپے نجکاری کی مد میں نقصان ہوا،سترہزار کے لگ بھگ ہم نے فورسز کے جوان،سویلین عوام شہید کروائے ہیں،پھر بھی گلہ ہے کہ ہم اس جنگ میں مخلص نہیں،دوغلے اوردھوکہ باز ہیں۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

اب بات کرتے ہیں امریکہ سے تعلقات کی تو یہ کچے دھاگے سے بھی کمزور ہیں،ایک بادشاہ اور غلام کا کیا تعلق ہوسکتا ہے ؟امریکہ پاکستان کو غلام سے زیادہ ترجیح نہیں دیتا،افغانستان سے سویت یونین کے انخلا اور 1998 میں پاکستان کے جوہری تجربوں کے بعد پاکستان امریکہ تعلقات میں جو تعطل آیا تھا وہ افغانستان پر 2001 میں امریکی حملے کے بعد بحال ہو گیا تھا،تاہم اس رشتے میں تناؤ اور بے اعتباری برقرار رہی۔ تعلقات کا بدترین مرحلہ 2011 میں اس وقت شروع ہوا جب لاہور میں سی آئی اے کی ایک ٹھیکے دار کمپنی کے ملازم ریمنڈ ڈیوس نے دو پاکستانیوں کو مارا تھا،سلالہ چوکی پر نیٹو افواج کا حملہ، اسامہ بن لادن کا ایبٹ آباد میں پکڑے جانا، نیٹو رسد کی معطلی اور شمسی ایئر بیس خالی کرایا جانا سب ایک دوسرے پر کیے گئے واروں کی کڑیاں ہیں اور پھر ایک معاملہ میمو گیٹ کا بھی سامنے آیا۔نواز شریف کی حکومت میں بھی ’’ہاں‘‘اور ’’ناں‘‘جیسی صورتحال برقرار رہی،دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہونے کی وجہ پاکستان کا چین سے معاشی معاہدہ اور روس سے تعلقات میں بہتری ہے،امریکہ بھارت کو چین کے مقابلے میں خطے کا تھانیدار بنانا چاہتا ہے،اس کو خوش کرنے کیلئے پہلے سید صلاح الدین پھر ان کی تنظیم حزب المجاہدین پر پابندی لگادی ،اب امداد روک دی گئی،امریکہ کو اس خطے کی معاشی ترقی برداشت نہیں ہورہی اور اس پالیسی ساز چاہتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ پاکستان منتقل کرکے اپنی جان چھڑالی جائے یہ پاکستان سے زیادہ چین کو اس میں الجھانا چاہتا ہے تاکہ معاشی ترقی کو بریک لگائی جاسکے،یہ جو امداد روکنے کا قدم اٹھایا گیا ہے یہ باقاعدہ منصوبے کے تحت ہے،گوادر کے قریب چینی فوجی اڈے کی تیاری کا امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ بھی اسی منصوبے کی ایک کڑی ہے۔

امریکہ یار نہیں’’یار مار‘‘ہے جس کی سمجھ وزیر خارجہ خواجہ آصف کو اب جاکر لگی ہے،لیکن اس بارے میں گھر کے بھیدی نوم چومسکی اور جولین اسانج نے بہت پہلے بتادیا تھا ،امریکہ دنیا میں ایک ایسا دوست ہے جس کی موجودگی میں کسی دشمن کی ضرورت نہیں رہتی۔اس کا برملا اعتراف ایک سابق امریکی صدر کرچکے ہیں،کہتے ہیں کہ اگر آپ کو کسی دشمن کو تباہ کرنا ہے تو اسے دوست بنا لو۔معروف امریکی مصنف نوم چومسکی کا خیال کہ امریکہ کا دشمن ہونے سے بدتر اس کا دوست ہونا ہے،اس یار مار نے جس جس ملک سے بھی دوستی کا ہاتھ ملایا اسی کے گھروں کو آگ لگائی،اسی کے بچوں کو ڈیزی کٹر بموں سے کاٹا،دوستی کے نام پر تقریباً ہر ملک کو اس نے ڈساہے،عراق،شام،افغانستان،لیبیا،یمن جیسی مثالیں ہمارے سامنے ہیں،پاکستانی حکمرانوں کیلئے بہتری اسی میں ہے کہ اس یار مار سے جان چھڑا کر اس کے دشمنوں سے تعلق مضبوط کیا جائے تاکہ آئندہ ہمیں کوئی غلامی کا طعنہ نہ دے سکے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ