رات کولمبے قد کی عورتیں کمرے میں آتیں اور چھت کو ہاتھ لگاتے ہوئے پوچھتیں ’’ میرے کپڑے کہاں ہیں؟‘‘ یہپُراسرارعورتیں کون تھیں جنہوں نے مری کے بوائز ہاسٹل میں عرصہ دراز تک تہلکہ مچائے رکھا ،حقیقت جان کر آپ کبھی اس ہاسٹل کے قریب بھی نہیں جائیں گے

تحریر: پروفیسر عبداللہ بھٹی

برسوں پہلے کی بات ہے۔میں ان دنوں مری میں تعینات تھا ۔ ہمارے ہاسٹل پر عرصہ دراز سے آسیب و جنات کا مکمل قبضہ تھا۔ جو بھی مہمان آتا وہ رات کو بھاگ کر کبھی ہم پر وفیسرز کے گھر آجاتا یا بھاگ جاتا اور اگلے دن پنڈی یا اپنے گھر جا کر کہتا ہے کہ میں رات کو ہی ہاسٹل چھوڑ آیا ہوں، وہاں پر جنات کا قبضہ ہے۔
میرے ایک دوست گجرات سے آئے ہوئے تھے صبح ان کا اسلام آباد میں کوئی انٹرویو تھا ۔وہ رات کو ہاسٹل میں تیاری کر رہے تھے ۔دروازے کی کنڈی اندر سے لگی ہوئی تھی کہ اچانک کمرے میں انتہائی لمبے قد کی عورت آکھڑی ہو گئی اور مہمان سے کہنے لگی کہ میرے کپڑے کدھر ہیں؟ مہمان کبھی اس کواور کبھی بند دروازے کی کنڈی کو دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس نے ایک ہاتھ اٹھا کر چھت پر لگایااورپوچھا’’بتاتے کیوں نہیں میرے کپڑے کدھر ہیں‘‘
مہمانوں کی دہشت اور خوف سے بری حالت ہو چکی تھی ، کنڈی کھول کر باہر نکلے اور دوڑتے ہوئے میرے گھر آئے ۔خوف دہشت سے برا حال تھا کہنے لگے ’’چڑیل کپڑے مانگ رہی ہے‘‘۔ اس عورت نے اور بھی کئی مہمانوں سے کپڑے ہی مانگے اور مہمان کبھی ہمارے پاس آتے ۔کبھی اپنے گھر جا کر بتاتے کہ ہاسٹل میں جنات ہیں لہٰذا اب ہم نے یہ احتیاط کی کہ کبھی کسی اکیلے مہمان کو ہاسٹل میں نہ ٹھہراتے تاکہ کوئی خطرناک حادثہ نہ پیش آجائے لیکن پھر ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے سب کو ہلا کر رکھ دیا۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔
ہمارے کالج میں پنجاب کے کسی کالج کا 50 لڑکوں کا ٹؤر آیا۔ ہم نے ان سب کو ہاسٹل میں ٹھہرا دیا کہ زیادہ لوگ ہیں ۔ایک دوسرے کے سہارے رات گزارلیں گے۔ لیکن اب جنات نے بھی کھل کر اپنی حاضری یعنی خود کو ظاہر کر دیا ۔یہ لوگ رات 12 بجے مال روڈ سے سیر کر کے واپس آئے تو ہال میں بیٹھ کر گپیں مارنے لگے۔
اب اچانک ہاسٹل کی بجلی چلی گئی ۔جو اکثر ایسے موقعوں پر چلی جاتی تھی۔ ایک لڑکے کو واش روم کی حاجت ہوئی تو وہ ٹارچ لے کر واش روم میں گیا۔ عین واش روم میں اس کی ٹارچ بند ہو گئی۔ واش روم میں مکمل اندھیرا ہو گیا اچانک پانی والی ٹوٹی چلنا شروع ہو گئی۔ لڑکے نے بند کی وہ پھر چلنا شروع ہو گئی۔ بات یہاں ختم نہیں ہوئی اچانک کوئی لیزر لائٹ اس پر مارنا شروع ہو گیا۔ جبکہ کوئی نظر نہیں آرہا تھا ۔وہ لڑکا بے چارہ خوف سے اٹھا اور واپس جا کر ہال میں سب کے درمیان بیٹھ گیا۔ کسی کو بتایا نہیں ۔اس طرح جو باقی لڑکے واش روم گئے ان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ اب جب لڑکوں نے اساتذہ کو بتایا کہ یہاں پر جنات ہیں تو اساتذہ نے کہا کہایسی کوئی بات نہیں ۔لیکن اب جنات نے کھل کر اپنی موجودگی کا احساس اس طرح دلایا کہ کئی لیزر لائیٹس کو دائرے کی شکل گھما کر ڈانس شروع کر دیا۔ یہ سائے کھڑکیوں کے شیشوں پر اور ہال میں گھومتے نظر آنا شروع ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر سب پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ سارے کے سارے اساتذہ اور لڑکے رات کو ہی ہاسٹل چھوڑ کر بھاگ گئے اور ہمیں صبح پتہ چلا کہ رات کو ہاسٹل میں یہ واقعہ ہوا ہے ۔اس طرح ہاسٹل بری طرح بدنام ہو چکا تھا ۔اب جب میں روحانی دنیا کی طرف آیا اور امام بری سرکارؒ اور باقی بزرگوں اور خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا مجھ پر کرم ہوا تومیں نے ہاسٹل کو جنات کے قبضے سے نجات دلائی۔اسکے بعد کبھی اس ہاسٹل میں ایسا واقعہ پیش نہیں آیا۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والی تحریریں لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : مافوق الفطرت

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...