دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر41

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر41
دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر41

  

مدھو بالا اور میں کافی قریب آچکے تھے۔اس میں کوئی شک بھی نہیں ۔لیکن اخبارات کچھ زیادہ ہی مرچیاں لگا کر مضمون اور خبریں شائع کررہے تھے۔

اس تشہیر کا سب سے زیادہ فائدہ کے آصف کوتھا کہ ان کی فلمی جوڑی ’’مغل اعظم ‘‘ کے دوران ہی مقبول ہورہی تھی اور لوگوں میں انہیں دیکھنے کا اشتیاق بڑھ رہا تھا ۔میرا پنا مزاج تھا اور میں کبھی شعور کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔کے آصف سے میری کافی بے تکلفی تھی لیکن اس میں اور مجھ میں کاروباری سوچ کا بڑا فرق تھا۔وہ چاہتے تھے کہ میں اور مدھو بالا ایک دوجے کے زیادہ قریب آجائیں۔بعد میں یہ بات بھی مجھ تک پہنچ گئی کہ انہوں نے ہی مدھو بالا کو مشورہ دیا تھا کہ ایک بااصول اور شریف پٹھان کے ساتھ تعلقات کومضبوط کرنے کے لئے اسے جسمانی تعلقات کو قائم کرنا چاہئے ۔مدھو بالا کے آصف کی باتوں پر کافی عمل کرتی تھی ۔

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر40 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مغل اعظم کی شوٹنگ کا عروج تھا لیکن ایک ایسا مرحلہ آگیا جس سے شوٹنگ رک سکتی تھی۔مدھو بالا کا والدعطا اللہ خان بھی یہی چاہتا تھا کہ ہماری شادی ہوجائے لیکن جب مجھے اسکی ذہنیت کا علم ہوا کہ وہ تو ایک کاروباری انسان ہے جو جذبات سے نہیں پیسے کی نظر سے دیکھتا ہے تو میں نے ان سے کنارہ کرنا شروع کردیا ۔وہ چاہتا تھا کہ آنے والے وقت میں جب میری مدھو بالا کی شادی ہوجائے گی تو ہم دنوں اسکی فلموں میں ہی کام کریں گے۔مجھے یہ ذہنیت پسند نہیں تھی۔مدھو بالا پریشان تھی لیکن اپنے والد کی مخالفت نہیں کرسکتی تھی۔اور میں بھی ایسی عورت سے کیسے شادی کرسکتا تھا جس کی دلچسپی میری ذات کی بجائے کسی اور سے وابستہ ہو۔اسکی اور میری سوچ اور ترجیحات میں فرق آگیا تھا اور یہ کامیاب شادی کی ضمانت نہیں ہوتیں۔جو کام مجھے شادی کے بعد کرنا تھا وہ پہلے ہی ہوجاتا تو بہتر تھا۔

کسی کو معلوم نہیں کہ جب مغل اعظم کی آدھی شوٹنگ مکمل ہوچکی تھی ہمارے بیچ بول چال بند ہوگئی اور رومانی تعلق ٹوٹ چکا تھا۔تماشائی جن مناظر کو دیکھ کر آہیں بھرتے اور مجھے اور مدھو بالا کو شہزادہ جہانگیر اور انارکلی کے روپ میں محبتوں کو پروان چڑھاتے دیکھتے ان مناظر کو ایسے وقت میں فلم بند کیا گیا جب ہم دونوں کے دل ایک دوجے سے جدا تھے لیکن فلم بینوں کو یہ محسوس تک نہیں ہوا۔

کے آصف کی غرض تھی کہ ہم دونوں پھر ایک ہوجائیں ۔لیکن میں فیصلہ کرچکا تھا ۔اس قطع تعلقی سے پہلے میری اور مدھو کی شادی کی راہ ہموار ہوچکی تھی۔اخبارات والوں نے پیشگی خبریں بھی شائع کردی تھیں۔اس کا والد راضی تھا لیکن اسکا لالچ ہم دونوں کے بیچ آگیااور میں جو ہمیشہ سوچ کر تحمل سے فیصلہ کرنے کا عادی تھا ،مجھے موقع مل گیا۔

مدھو بالا پریشان تھی ۔وہ مجھے قائل کرنے کی کوششیں کرتی اور کہتی ’’یوسف شادی کے بعد سب ٹھیک ہوجائے گا‘‘

میں اسے کہتا’’ مدھو یہ ٹھیک نہیں ہوگا۔تمارے والد چاہتے ہیں کہ ہم دونوں ان کی فلموں کے لئے محدود ہوکر رہ جائیں ۔یہ تمہارے لئے اور خود میرے لئے بڑا مسئلہ ہوگا۔ہمارا کیرئیر ختم ہوجائے گا‘‘

کئی بار ایسا ہوا کہ مدھو بالا اور اسکا والد میرے ساتھ مذاکرات کرتے ۔میں ادب سے انہیں سمجھاتا لیکن آہستہ آہستہ والد نے بیٹی کو قائل کرلیا کہ میں اسکے ساتھ گستاخی سے پیش آرہا ہوں۔یہ جھوٹ تھا۔وہ میری بات کا یقین نہیں کرتی تھی۔ مجھ پر اسکی ذہنیت مزید آشکار ہوگئی۔اور میں نے الگ ہونے کافیصلہ کرلیا۔اخبارات اصل کہانی نہیں جانتے تھے اور نہ حقیقت تک پہنچنا چاہتے تھے۔لکھا گیا کہ میں نے مدھو بالا کا دل توڑ دیا ہے۔وہ مجھے ٹوٹ کر چاہتی تھی لیکن میں بے وفا نکلا۔پھر یہ خبر اڑائی گئی کہ میں دراصل کنوارہ رہنا چاہتا ہوں۔

پہلی خبر بے بنیاد تھی لیکن دوسری میں سچائی میں موجود تھی۔ہاں میں کنوارہ ہی رہنا چاہتا تھا،شادی نہیں کرنا چاہتا تھا۔میں نے اپنے بہن بھائیوں کے لئے خود کو وقف کردیا تھا ،میں اپنی والدہ کو غم زدہ نہیں دیکھنا چاہتا تھا۔مجھے ماں دنیا کی ہر چیز سے عزیز تھی۔میں چاہتا تھا کہ میرے بہن بھائی اپنے پیروں پر کھڑے ہوجائیں۔ا سلئے میں نے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ۔

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔

جہاں تک مدھو بالا سے محبت اور علیحدگی کا تعلق ہے۔اس سے الگ ہونے کے بعد میرے سر سے بوجھ اتر گیا تھا ۔یہی سچائی ہے۔اخبارات نے جو لکھا اس میں کوئی سچائی نہیں تھی۔میرے پاس بھی وقت نہیں تھا کہ ان کی تصدیق یا تردید کرتا پھرتا ۔ میں اپنی لگن اور کام میں مصروف تھا۔اہل خانہ کی خوشیوں کو بڑھانا میرا مقصد تھا۔

اس دوران نور صاحب کی شادی ہوگئی اور وہ الگ ہوگئے۔اماں کو سکینہ آپا کی فکر رہا کرتی تھی۔کہا کرتی تھیں کہ اس کو شادی راس نہیں آئے گی۔وہ سخت مزاج ،ضدی اور آزاد بندی تھی۔پریشان ہواکرتیں کہ ان کی بیٹی شادی کے بغیر زندگی کیسے گزارے گی۔وہ رو دیتیں اور میں ان کے غم کو بانٹتااور کہتا’’اماں میں ہوں ناں۔آپا کو ساری زندگی تنگی نہیں ہونے دوں گا‘‘

اماں کے سارے بچوں کا مزاج اپنا اپنا تھا۔دھان پان سی نازک اماں سب کا خیال رکھتیں لیکن انکے بچوں میں وہ خوبیاں نہیں تھیں جو انکی ماں میں تھیں۔وہ ہرکام کو دھیرج سے سمجھ کر پوری نفاست سے کرتی تھیں۔بچپن میں دعا سیکھنا اماں سے سیکھا تھا میں نے ۔وہ جائے نماز پر جب نماز پڑھتیں اور دعا کرتیں تو بعد میں میں انکے مصلے پر جاکر بیٹھ جاتا اور مراقبہ کے انداز میں دعاکرنے کی کوشش کرتا تھا۔ (جاری ہے)

دلیپ کمار کی کہانی انہی کی زبانی ۔ ۔ ۔ قسط نمبر42 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : میں ہوں دلیپ کمار /کتابیں