وزیراطلاعات کی خواہش ناآسودہ ہی رہے گی

وزیراطلاعات کی خواہش ناآسودہ ہی رہے گی

اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل سرمد علی نے پرنٹ میڈیا کے حوالے سے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ فواد چودھری نے نہ صرف پرنٹ میڈیا کے مستقبل کے حوالے سے مایوسی کا اظہار کیا بلکہ کھلم کھلا کہہ دیا کہ آنے والے دور میں پرنٹ میڈیا ختم ہو جائے گا۔ اے پی این ایس کے سیکرٹری جنرل نے اسے وزیر موصوف کی خواہش قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے میڈیا کو غلام بنانے کے لئے ایسے اقدامات کئے کہ پورا میڈیا ہی پریشان ہے۔ لیکن اس طرح وزیر صاحب کی خواہش پوری نہیں ہو گی۔ تاہم ایسا محسوس ہوتا ہے جو چند روز انہوں نے الیکٹرونک میڈیا کے ساتھ منسلک ہوکر گزارے، اس دور نے ان کے خیالات میں یہ تبدیلی پیدا کر دی اور وہ اب خود پرنٹ میڈیاکے پیچھے پڑ گئے ہیں اور اشتہارات کے بقایا جات کی ادائیگی میں تاخیری حربے اختیار کرنے کے علاوہ اشتہارات کی بندش جیسے اقدامات بھی کر گزرے ہیں۔یہ درست ہے کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے میڈیا کی صنعت بہت بڑے بحران سے دوچار ہو چکی ہے اور زیادہ بوجھ ان کارکنوں پر آیا ہے جو ان اداروں میں کام کر رہے ہیں۔ شاید اسی صورت حال کے باعث موصوف کی دلی خواہش ابھر کر سامنے آئی کہ اخبارات بند ہو جائیں گے نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری اور یوں جان ہی چھوٹ جائے گی۔وزیر اطلاعات بھول جاتے ہیں کہ جو وہ فرما رہے ہیں یہ سب اس وقت بھی کیا گیا جب مہذب دنیا میں ٹیلی ویژن شروع ہوا اور الیکٹرونک میڈیا نے توجہ حاصل کی۔ تب بھی کہا گیا کہ پرنٹ میڈیا ختم ہو جائے گا، مغربی دنیا بھی بحران سے دوچار ہوئی لیکن یہ بحران گزر ہی گیا۔ چنانچہ دنیا بھر میں آج بھی معتبر ذریعہ پرنٹ میڈیا ہی ہے، جس میں نہ صرف خبریں بلکہ مختلف موضوعات کے اعتبار سے معلومات ، تجزیئے اور دوسرے لوازمات ہوتے ہیں۔ جو بریکنگ نیوز کی طرح تحلیل نہیں ہوتے بلکہ چھپ کر ہاتھ میں آتے اور بعد میں بھی پڑھے جاتے ہیں۔جہاں تک کسی بھی حکومت کا سوال ہے تو اس کے لئے پورا میڈیا ہی ضرورت ہے اور کسی ایک کو خراب کرکے دوسرے کی پروموشن سے بات نہیں بنتی نہ کبھی ماضی میں ایسا ہوا، لیکن ہم یہ گزارش ضرور کریں گے کہ اگر حکمران لوگوں اور اداروں کی مشکلات میں کمی نہیں کر سکتے تو ان میں اضافہ بھی نہ کریں ۔ ہمیں یقین ہے کہ وزیر اطلاعات کی یہ خواہش بھی ان کی دوسری بہت سی ناآسودہ خواہشوں کی طرح پوری نہ ہوگی، جن کی فہرست بڑی طویل ہے۔

مزید : رائے /اداریہ


loading...